07:46 am
غداری کی سزا

غداری کی سزا

07:46 am

انہوں نے کانٹے بوئے، گلاب کی تمنا کی ۔ جو گڑھا کھودا ، آج اسی میں خود گر گئے۔پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے)کی قبر کھودی ، آج خود اس میں دفن ہو گئے۔ یہ داستان ڈاکڑفاروق عبد اللہ کی ہے جو ڈیڑھ ماہ سے اپنے گھر میں قید ہیں، تمام کشمیری بھی 45دنوں سے قید ہیں۔ فاروق عبد اللہ، بھارت کے رکن پارلیمنٹ ہیں، تین بار وزیر اعلیٰ رہے، بھارت کے وفاقی وزیر بھی رہے،ایک بار بھارت کے صدر بھی منتخب ہوتے ہوتے رہ گئے۔ بھارت کا صدر بنانے کا دھوکہ دیا گیا ۔ بی جے پی کے ساتھ اتحادی حکومتیں بھی قائم کرتے رہے، کالے قوانین پی ایس اے، ٹاڈا، پوٹا، افسپا کو کشمیر میں نافذ کرنے اور ہزاروں کشمیریوں کو پابند سلاسل کرنے میں سرگرمی دکھائی۔ان قوانین کے تحت بھارتی سپاہی کو جنرل جیسے اختیارات ہیں وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے حراست میںلے سکتا ہے۔ بھارتی فوجی کسی بھی کشمیری کو گولی مار کر قتل کر سکتا ہے۔ بھارتی عدالت میں اس کے اس جرم پر کوئی شنوائی نہ ہو گئی۔ آج تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری کو بے دردی سے قتل کیا گیا مگر ایک بھی فوجی کو سزا نہ ہوئی۔ پی ایس اے قانون کے تحت بھارتی فورسز کسی بھی کشمیری کو وجہ بتائے بغیر حراست میں لے کر دو سال تک قید کر سکتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کو کئی کئی بار اس قانون کے تحت جیلوں میں رکھا گیا۔ ماورائے عدالت قیدی بنایا گیا، جوں ہی دو سال قید مکمل ہوتی ہے تو قیدی کو نئے سرے سے اس کالے قانون کی گرفت میں لا یا جاتا ہے۔ 
بھارتی فورسز کولا محدود اختیارات دینے میں بنیادی کردار ادا کرنے والے فاروق عبد اللہ آج خود زد میں آئے ہیں۔وہ سرینگر کے گپ کار روڈپراپنے گھرمیں قید ہیں۔ یہ گھر جیل بنا دیا گیا ہے، اسی روڈ پر ان کے فرزند اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبد اللہ ایک سابق انٹروگیشن سنٹر میں قید ہیں۔ یہ انٹروگیشن سنٹرفاروق عبد اللہ نے 1990کے بعد حریت پسندوں پر تھرڈ ڈگری تشدد کے لئے قائم کیا تھا۔ ہزاروں کشمیریوں کویہاں ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ لا تعداد کو یہاں زیر حراست شہید کیا گیا۔ آج فاروق عبد اللہ کے فرزند عمر عبداللہ یہاں قید ہیں،یہ عمارت ہری نواس کے نام سے شہرت رکھتی ہے مگر اس کی اصل شہرت کشمیریوں کی قتل گاہ کے طور پر ہے۔ اسے پاپا ٹو کا نام دیا گیا۔ سرینگر کے دو انٹروگیشن سنٹرز بدنام زمانہ بنے۔ ایک یہی پاپا ٹو اور دوسرا پاپاون جو رنگریٹ ائر پورٹ کے نزدیک واقع ہے۔ میں ان دونوںاذیت خانوں کی ہو اکھا چکاہوں۔ پاپا ون میں میرے ساتھ جمعیت المجاہدین کے سربراہ جنرل عبد اللہ سمیت دیگر کئی سو حریت پسند انٹروگیشن سے مہینوں تک دوچار رہے۔ 
 اپنے ہاتھوں اپنے پیر کاٹنے والے فاروق عبداللہ کے والدشیخ محمد عبد اللہ کشمیر کی قد آور لیڈر تھے، یہ محاورہ نہیں بلکہ ان کے اشارے سے پتابھی نہ ہلتا تھا۔ ال کرئے، وانگن کرئے، بب کرئے، لو لو یعنی جو کرے گا ،  شیخ عبد اللہ کرے گا، عوام کو یہی گمان تھا۔ انہیں جواہر لال نہرو کی دوستی اور سرپرستی پر بہت ناز تھا مگر اسی نہرو نے اپنے اس مطلب کے یار کو بے عزت کیا، گرفتار کر کے برسوں تک اندر کر دیا اور یہ ثابت کیا کہ دہلی والے کسی کشمیری کے دوست نہیں، مطلب نکل گیا تو کشمیریوں کو ٹشو پیپر کی مانند کوڑے دان میں پھینک دیا۔ 
فاروق عبد اللہ نے دہلی کا یہ سبق فراموش کر دیا۔ دہلی کے کالے قوانین کشمیر پر مسلط کئے۔ بھارتی حکمرانوں کو تحریک آزادی کچلنے کے گر سکھائے۔ بھارتی آئین کشمیر میں نافذ کئے۔ درست طور پر کٹھ پتلی بن گئے، یہی کچھ مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے کیا۔ دہلی نے انہیں بھی استعمال کیا اور پھینک دیا۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے والوں کا برا حشر ہوا۔ کشمیری ہمیشہ مشکوک سمجھے گئے۔ بھارت نوازوں کو وفاداری ثابت کرتے عمریں گزر گئیں، خود مٹی تلے دفن ہو گئے، مگر دہلی نے وفاداری قبول نہ کی۔ دہلی نے کشمیریوں کو وفاداری کی بھی سزا دی۔ 
بھارت کے خلاف تحریک چلانے والے عوام کو 45دن سے قید رکھ کر انتقام لیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اپنے عوام اور دنیا کو بالکل جھوٹ بتا رہا ہے۔ میڈیا مودی کا ترجمان بن چکا ہے۔ صحافی سخت دبائو میں ہیں۔ جیسے انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہوں۔ بھارتی خاتون صحافی برکھا دت کبھی خود کو کشمیریوں کا ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی تھی، وہی برکھا دت آج مقبوضہ کشمیر میں پر امن حالات کی بات کرہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں اس صحافی کا مضمون پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ کشمیر دشمن تجزیہ کیسے کیا گیا۔بھارتی صحافی خود بھی جھوٹ بول رہے ہیںاور سچ دکھانے اور لکھنے والے عالمی میڈیا کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ 
فاروق عبد اللہ، عمر عبد اللہ، محبوبہ مفتی بھی یہی کردار ادا کرتے رہے۔ یہ سب کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی سرپرستی کرتے نہ تھکتے تھے۔ دہلی سے زیادہ سے زیادہ مراعات اور مفادات حاصل کرتے رہے۔ عوام پر مظالم ڈھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی دوڑ میں شامل رہے۔ آج یہ خود بھارتی عتاب کا شکار ہیں۔ حریت پسندوں کے خلاف انھوں نے ہر ظلم روا رکھا۔ آج اپنی ہی کھودے گڑھے میں گر چکے ہیں۔ بھارت کے لئے چلے کارتوس بن رہے ہیں۔ یہ لوگ بھارت کے جس قدر مظالم سہہ لیں ، پھر بھی انہیں حریت پسندوں پر کبھی بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہ اگر رضاکارانہ طور پر بھارت نوازی ترک کر دیتے تو ان کی عزت و احترام ہوتا۔ اب بھارت نے خود انہیں رسوا کیا ہے۔ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ وقتی طور پر بھارت مخالفت ظاہر کریں۔ عوام کو معلوم ہے کہ انہوں نے ان پر بہت ظلم و ستم کئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ بھارت مستقبل میں بھی ان کا تعاون طلب کرے، ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے بھارت کے گیت گانے لگیں۔ یہ کشمیریوں کے لئے سبق ہے کہ بھارت کسی کشمیری کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا، وہ کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لئے ضمیر فروشوں کواور کشمیری وسائل استعمال کرتا رہا ہے۔ گو کہ کوئی کشمیری دل سے بھارت نواز نہیں ہو سکتا، مگر بھارت کو کشمیر میں لانے، فوج کو راستہ دکھانے ، کرسی کے لئے کشمیریوں کو غلام بنانے پر انہیں عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ کشمیر کاز اور کشمیریوں سے اپنا یا غیر، جو بھی غداری کرے گا، اس کا انجام دردناک ہو گا۔