07:46 am
سعودی عرب کی سلامتی پر ہونے والے مسلسل حملے

سعودی عرب کی سلامتی پر ہونے والے مسلسل حملے

07:46 am

سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی کے دو پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں کی جس قدر بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز سعودی ولی  عہد شہزادہ محمدبن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے سعودی آئل فیلڈز پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش پر اظہار تشویش کیا اور سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ہفتے کے دن سعودی تنصیبات  پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد نہ صرف یہ کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا بلکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا۔ تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد گو کہ سعودی عرب نے فوری طور پر ان حملوں میں ملوث کسی ملک کانام نہیں لیا لیکن حیرت انگیز طور پر امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک ٹویٹ میں ان ڈرون حملوں کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے سو سے زائد حملوں میں ایران ملوث ہے۔‘‘
امریکی سینٹر لنڈسے گراہم نے امریکی حکوت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’سعودی آئل ریفائنریز پر حملوں کے جواب میں ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملے کرے، کیونکہ ایران اس وقت تک بدسلوکی سے باز نہیں آئے گا جب تک اسے اندازہ نہ ہو کہ اس کے تنائج کتنے خوفناک ہوسکتے ہیں۔ اس کے لئے امریکہ کو ایران کی تیل تنصیبات کو تباہ کرنا ہوگا جو ایرانی رجیم کی کمر توڑ دے گا‘‘۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات  چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام  میں مدد دینے کو تیار ہے، سعودی ولی عہد نے امریکی صدر کی اس پیشکش کے جواب میںکہا کہ ’’مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیتیں اور عزم رکھتی ہے۔‘‘
یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے کسی قسم کی مدد مانگنے کی بجائے اسے یہ کہا کہ مملکت سعودی عربیہ اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں سے خود نمٹنا جانتی ہے، اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ سعودی عرب نے اب دوسروں کی مدد کے بغیر بھی سعودی عرب کے دفاع کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ اگر میرا یہ تجزیہ درست ہے تو میرے نزدیک پورے عالم اسلام کے لئے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہیں۔ اللہ نے سعودی عرب کو ہر قسم کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے، سعودی عرب اگر جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت حاصل کرکے اپنے دفاع کو مضبوط کرے گا تو اس سے پورا عالم اسلام مضبوط ہوگا۔
سعودی دفاع کی مضبوطی کے لئے شہزادہ محمد بن سلمان کی بے چینیوں اور ان تھک کوششوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس بات سے بھی ان میں ایک منجھے ہوئے سفارت کار کی تقریباً ساری خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ قارئین کو اگر یاد ہو تو جب وہ پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تھے تو ایک موقع پر انہوں نے اپنے آپ کو دنیا میں ’’پاکستانی سفیر‘‘ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے اپنائیت سے بھرپور الفاظ استعمال کرکے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کے بھی دل جیت لیے تھے، سعودی تیل  تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد جب امریکی حکام نے ان حملوں کا براہ راست الزام ایران پر عائد کیا تو اس سے کئی سوالات نے جنم لیا۔
مثلاً بغیر کسی تحقیق امریکہ نے سعودی تنصیبات پر ہونے والے  حملوں کا الزام فوری طور پر ایران پر کیسے لگا دیا؟ بعض لکھاری اس تھیوری کو بھی زیر بحث لارہے ہیں کہ امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بھڑکانا چاہتا ہے لیکن سعودی ولی عہد محمدبن سلمان نہایت صبر اور سمجھداری کے ساتھ معاملے کو ڈیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کچھ بھی ہو بہرحال یہ بات تو اٹل حقیقت ہے کہ سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات  پر دہشت گردانہ حملے ہوئے جس کی وجہ سے صرف سعودی عرب  ہی نہیں بلکہ د نیا بھر میں پٹرول استعمال کرنے والا ہر انسان متاثر ہوگا، آخر کوئی تو ان حملوں میں ملوث  ہے؟ اور وہ کون ہے اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے، یمن کے ’’حوثی باغی‘‘ جی ہاں حوثی باغیوں نے ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اب یہ بات کسی ذی شعور سے مخفی نہیں رہی کہ یمن کے حوثی باغیوں کو جدید اسلحہ ،جدید ٹیکنالوجی اور ٹریننگ کون فراہم کررہا ہے؟ امریکہ کا سعودی عرب اور ایران کشیدگی کی جلتی آگ پر تیل ڈالنے کی کوششیں کرنا بالکل واضح اور سامنے کی بات، لیکن ایران کی حوثی باغیوں کی سرپرستی کا مقصد بھی تو دراصل سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے متراد ف ہے، اس سے قبل بھی حوثی باغیوں کی طرف سے متعدد مرتبہ مکہ اور مدینہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ مقدس مقامات پر خودکش حملے بھی ہوئے جبکہ تیل کے کنوئوں کو بھی متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوششیں کیں۔ تیل تنصیبات کو تباہ کرنے کی حالیہ کوشش اس بات کا کھلا اظہار ہے دنیا میں صرف حوثی باغی ہی نہیں بلکہ کوئی دوسرا بھی مسلسل سعودی عرب اور وہاں کے عوام کی سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔
یہ بات جزوی طور پر تودرست ہوسکتی ہے کہ امریکہ سعودی عرب اور ایران کو لڑواناچاہتا ہے لیکن سعودی عرب کی سلامتی پر ہونے والے مسلسل حملے اپنی جگہ پوری شدت سے سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ چاہے یا نہ چاہے لیکن سعودی عرب کو ہر قیمت پر اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانا بہرحال اس کے لئے لازم ہے وہ اقدامات کیا ہو سکتے ہیں یہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا۔