07:47 am
یورپی یونین کا بھارت سے مطالبہ‘ کرفیو اٹھا!

یورپی یونین کا بھارت سے مطالبہ‘ کرفیو اٹھا!

07:47 am

یورپی یونین کا بھارت سے مطالبہ‘ مقبوضہ کشمیر میں فوری کرفیو اٹھایا جائے۔
’’سعودی عرب پر ایران نے حملہ کیا ہے‘‘ شاہ سلمان٭ سندھ اسمبلی نیا آرڈر آف دی ڈے‘ ’’ بس کر! چپ کر! شکٹ اپ‘‘ ٭ اسلام آباد کا 25لاکھ افراد لاک ڈائون کریں گے‘ اکرام درانی٭ جے یو آئی آج کشمیر مارچ کرے گی٭ سعودی عرب تیل کی پیداوار بحال٭ رحیم یار خان مرحوم صلاح الدین پر شدید تشدد ہوا‘ فرانزک رپورٹ٭ بھارتی شہریت والے سابق پاکستانی موسیقار عدنان سمیع پر 50لاکھ جرمانہ٭ وزیراعلیٰ سندھ نیب کے روبرو پیش نہیں ہوئے٭ امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس‘20سال بعد پھر شروع۔
یورپی یونین نے بھارت کو واضح ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو فوری طورپر ختم کیا جائے اور انسانی حقوق بحال کئے جائیں۔ یونین کے انسانی حقوق کی کمیٹی نے سالانہ اجلاس میں اس بات کا  سخت نوٹس لیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 45روز سے تقریباً80لاکھ افراد کو کرفیو کے ذریعے نظر بند کیا گیا ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے اس بارے میں یورپی یونین کے وزیر خارجہ کا بیان پڑھ کر سنایا۔ یورپی یونین میں  16برس کے بعد پھر کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آیا ہے۔ اسے پاکستان کی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے واضح الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ایران  نے میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ اس سے بھاری نقصان ہوا‘ یہ معاملہ اقوام متحدہ  میں پیش کیا جائے گا۔ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ امریکی ماہرین کے مطابق یہ میزائل یمن کی طرف سے نہیں‘ بلکہ ایران کی طرف سے آئے تھے۔ ان کے پھٹنے سے سعودی تیل کی پیداوار تقریباً25فیصد کم ہوگئی تھی اور دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ سعودی حکومت کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق آگ سات گھنٹے تک لگی رہی۔ اس سے شدید نقصان ہوا مگر صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے اور یہ کہ تیل کی پیداوار اس دس دنوں میں مکمل  بحال ہو جائے گی تاہم گیس کی پیداوار نومبر تک بحال ہوسکے گی۔
سندھ اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن نے بلاول زرداری کے سندھ دیش والے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جبکہ حکومتی پنجوں نے وفاقی وزیر قانون کے دفعہ  149کے بیان پر ہنگامہ آرائی کی۔ اسمبلی میں ایک دوسرے کے خلاف ایسے الفاظ کسے گئے جن کا میڈیا نے دہرانا مناسب نہیں سمجھا۔ اس ہنگامہ آرائی کا خلاصہ ایک مبصر نے مختصر انداز میں یوں بیان کی ہے کہ ’’بس کر‘ چپ کر‘ ٹیں ٹیں نہ کر ’’شٹ اپ‘‘  خبروں کے مطابق دونوں فریقوں میں دیر تک ’’تو تو میں میں‘‘ کے بعد عملی کارروائی کے بغیر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اس ایک روزہ اجلاس پر 60لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔ سندھ اسمبلی میں ایک عرصے سے کوئی کام نہیں ہو رہا۔ ہر اجلاس‘ انتہائی تلخ ہنگامہ آرائی کے بعد ملتوی ہو جاتا ہے۔ کوئی کام نہ کرنے کے باوجود ارکان اسمبلی پوری تنخواہ کے علاوہ روزانہ کا بھاری الائونس بھی وصول کرتے ہیں۔ ہر روز 60لاکھ روپے!
ضلع لاڑکانہ میں ایک 10سالہ بچے کو پاگل کتے نے کاٹ لیا۔ اس کے والدین اسے پورے ضلع کے ہسپتالوں میں لئے پھرتے رہے‘ کسی ہسپتال میں کتے کے کاٹنے کی دوا نہ ملی اور  وہ بچہ انتہائی اذیت کے ساتھ انتقال کر گیا۔ ضلع لاڑکانہ زرداری خاندان کا انتخابی حلقہ ہے اور آصف زرداری کی بہن ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو سندھ کی وزیر صحت ہیں۔ ایک خبر کے مطابق سندھ کے کسی بھی ہسپتال میں کتے کے کاٹے کی دوا موجود نہیں۔ 
ایک دوسری رپورٹ کے مطابق سندھ کے تھر کے علاقے میں ایک سال کے دوران 550بچے بھوک پیاس اور دوسری بیماریوں سے جاں بحق ہوگئے۔ اس وقت کراچی میں لاکھوں ٹن کچرا جمع ہوچکا ہے۔ اس میں روزانہ ہزاروں ٹن کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے پورا شہر شدید بدبودار تعفن اور مختلف بیماریوں کی زد میں آچکا ہے‘ اب تک ڈینگی سے آٹھ اموات ہوچکی ہیں۔ مختصر بات کہ ایک بچہ اس لئے چل بسا کہ ہسپتال میں دوا نہیں تھی اور یہ کہ آصف زرداری کی ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو    سندھ کی وزیر صحت ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے کبھی کشمیر کے بارے میں کوئی ریلی نہیں نکالی۔ وزیر خارجہ یہ بھی بتا دیتے کہ مولانا کو وزیر کا درجہ‘ سرکاری بنگلہ‘ اعلیٰ دفتر‘ سرکاری عملہ‘ چار قیمتی بڑی گاڑیاں اور وزارتیں بھی ملی ہوئی تھیں اور یہ کہ کمیٹی کو ہر سال پانچ کروڑ روپے کا فنڈ بھی ملتا ہے۔ آج تک آڈٹ نہیں نہیں  ہوا۔ انہیں کشمیر کانام لینے کی بھی فرصت ہی نہیں ملی‘ مگر شاید وزیر خارجہ کے علم میں نہیں کہ مولانا نے 19ستمبر (آج) اسلام آباد سے مظفرآباد تک کشمیر ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے وہاں جلسہ بھی ہوگا۔ یہ ریلی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر آئینی قبضہ (5اگست) کے 46دن بعد  اس وقت نکل رہی ہے جب عام ریلیوں کا زور کم پڑ گیاہے اور اب کنٹرول لائن توڑنے کی ریلیوں کا آغاز ہو رہا ہے۔ 
یہ رسمی ریلی مولانا کی مجبوری بن گئی ورنہ ان کا سارا دھیان تو اگلے ماہ اسلام آباد فتح کرنے پر لگا ہوا ہے۔ اس لشکر کشی کے لئے مولانا نے 15لاکھ افراد کا اعلان کیا تھا۔ ان  کے قرینی ساتھی اکرم درانی نے یہ تعداد 25لاکھ بتائی ہے۔  ایک اجلاس میں اسلام آباد پر چڑھائی کی تاریخ کا اعلان بھی متوقع ہے۔ اس ریلی کے انتظامات کی تفصیل گزشتہ روز شائع ہوچکی ہے۔ یہ اعلان بھی  آچکا ہے کہ اسلام آباد کے گھیرائو سے بات نہ بن سکی تو پورے ملک کا گھیرائو کیا جائے گا۔ کیسے کیا جائے گا؟ تفصیل بعد میں آئے گی۔ حیرت اس  بات کی ہے کہ حکومت اس ریلی کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی! کسی وزیر مشیر کے ایک آدھ بیان کے سوا کہیں اس بارے میں کوئی بات سننے میں نہیں آرہی۔ ایک حکومتی نمائندے سے بات کی تو اس نے کہا کہ جناب یہ سیاسی مشغلہ ہے کوئی لشکر کشی نہیں ہوگی! چلیں چند روز رہ گئے ہیں!
بھارت ‘ ممبئی کی ایک محکمانہ عدالت نے پاکستان کو چھوڑ کر بھارت کی شہریت اختیار کرنے والے موسیقار اور گلوکار عدنان سمیع کو اس جرم پر 50لاکھ (پاکستانی ایک کروڑ) جرمانہ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی ہوتے ہوئے ممبئی میں آٹھ فلیٹ کیوں خریدے؟
عدنان سمیع نے 10لاکھ روپے دے دئیے ہیں۔40لاکھ باقی ہیں۔ عدنان سمیع لندن میں  پاکستان کے سابق سفیر عبدالسمیع کا بیٹا ہے۔ (والد نے لندن میں پاکستان کا سفارتخانہ اسرائیل کو فروخت کر دیا تھا) عدنان نے قائداعظم کے معتمد ساتھی یحییٰ بختیار کی بیٹی زیبا بختیار سے شادی کی۔ ایک بچہ پیدا ہوا۔ باپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدنان نے پاکستان کی فلم انڈسٹری میں نام پیدا کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ ممبئی چلا گیا۔ وہاں ایک ہندو اداکارہ کے چکر میں آکر زیبا بختیار کو طلاق دے دی اور 2002ء میں ممبئی میں آٹھ فلیٹس خرید لئے۔ بھارت میں قانون رائج ہے کہ کوئی غیر ملکی شہری ریزرو بنک آف انڈیا کی اجازت کے بغیر جائیداد نہیں خرید سکتا۔ عدنان سمیع  نے یہ اجازت لئے بغیر پاکستانی شہری کی حیثیت سے فلیٹس خریدے۔ بھارتی شہریت بعد میں ملی۔ اس پر اسے 50لاکھ روپے جرمانہ ہوگیا ہے۔ اس نے بہت اپیلیں کیں کہ اسے بھارتی قانون کا پتہ نہیں تھا مگر عدالت نے رعایت نہیں دی۔ عدنان کے قریبی حلقوں نے کہا ہے کہ عدنان کے پاس اتنا بھاری جرمانہ ادا کرنے کی سکت نہیں۔ جرمانہ ادا نہ ہوا تو جیل جانا پڑے گا۔
دھوبی کا ....گھر کا نہ گھاٹ کا!