07:53 am
آ دابِ مرشد

آ دابِ مرشد

07:53 am

علماء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم، نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کا تزکیہ (یعنی نفس و قلب کو پاک و صاف) فرماتے ہیں، یعنی جن کے دل شیطانی وسوسوں اور نفسانی سیاہ کاریوں سے آلودہ ہو چکے ہیں وہ بھی جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظرکرم کے فیضان سے مستفیض ہوتے ہیں تو ان کے ظاہر و باطن پاک و صاف ہو جاتے ہیں۔ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان رحمت کا سلسلہ صحابہ کرام،تابعین و تبع تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پھر ان کے فیض یافتگان اولیائے کاملین رحمہم اللہ کے ذریعے خلافت دَرخلافت جاری رہا جن میں غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، عارفِ ربانی داتا گنج بخش علی ہجویری،قطب المشائخ خواجہ غریب نواز اجمیری،سید الاولیاء بابا فریدالدین گنج شکر،باللہ خواجہ بہائو الدین نقشبند، سیدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہم اللہ تعالیٰ کی معروفت و حقیقت کا جو اعلیٰ مقام نصیب ہوا اسکی مثال نہیں ملتی۔ان نفوس قدسیہ کے روحانی تصرفات اور باطنی فیوض و برکات کے باعث ہر دور میں حق کی شمع فروزاں رہی اور ایسے اہل نظر پیدا ہوتے رہے جو نامساعد حالات کے باوجود باطل کیخلاف برسرپیکار رہے اور شریعت و طریقت کی روشنی میں لوگوں کے ظاہر و باطن کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ایمان کی حفاظت کی مدنی سوچ بھی عطا فرماتے رہے کیونکہ مسلمان کی سب سے قیمتی چیز ایمان ہے مگر فی زمانہ ایمان کو جس قدر خطرات لاحق ہیں اس کو ہر ذی شعور محسوس کر سکتا ہے۔اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کا ارشاد ہے کہ جس کو زندگی میں سلب ایمان کا خوف نہیں ہوتا، نزع کے وقت اس کا ایمان سلب ہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔ (بحوالہ رسالہ ’’برے خاتمے کے اسباب‘‘ ص۱۴)
 
پیری مریدی کا ثبوت:علماء کرام فرماتے ہیں، ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہ کسی ’’مرشد کامل‘‘ سے مرید ہونا بھی ہے۔ اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنزالایمان ’’جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے‘‘ (پ۱۵، سورۃ بنی اسرائیل:۷۱)
نورالاعرفان فی تفسیر القرآن میں مفسر شہیر مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنا لینا چاہئے۔ شریعت میں ’’تقلید‘‘ کر کے اور طریقت میں ’’بیعت‘‘ کر کے تاکہ حشر اَچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا۔ اس آیت میں تقلید، بیعت اور مریدی سب کا ثبوت ہے‘‘۔ (نورالعرفان فی تفسیر القرآن)
مرید ہونے کا مقصد: پیر اُمور آخرت کیلئے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی راہنمائی اور باطنی توجہ کی برکت سے مرید اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی والے کاموں سے بچتے ہوئے’’رضائے رب الانام کے مدنی کام‘‘ کے مطابق اپنے شب و روز گزار سکیں۔
فی زمانہ حالات: موجودہ زمانے میں بیشتر لوگوں نے ’’پیری مریدی‘‘ جیسے اہم منصب کو حصول دُنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ بیشمار بدعقیدہ اور گمراہ لوگ بھی تصوف کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر لوگوں کے دین و ایمان کو برباد کر رہے ہیں اور انہی غلط کار لوگوں کو بنیاد بنا کر ’’پیری مریدی‘‘ کے مخالفین اس پاکیزہ رشتے سے لوگوں کو بدگمان کر رہے ہیں۔ دورِ حاضر میں چونکہ کامل و ناقص پیر کا امتیاز انتہائی مشکل ہے لہٰذا مرید ہوتے وقت سرکارِ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان اور حجۃ الاسلام ابوحامد محمدبن محمدالغزالی علیہ رحمۃ الباری نے جن شرائط و اوصاف مرشد کے بارے میں وضاحت فرمائی ہیں اور مرشد کامل کی پہچان کا طریقہ ارشاد فرما کر اُمت کو صحیح رہنمائی عطا کی، اسے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
مرشد کامل کیلئے چار شرائط: سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فتاویٰ افریقہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ مرشد کی دو قسمیں ہیں۔ (۱)مرشد اِتصال۔ (۲)مرشد ایصال۔ 
(۱) مرشد اتصال یعنی جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہو جائے، اس کیلئے چار شرائط ہیں۔ ٭ مرشد کا سلسلہ باتصال صحیح (یعنی درست واسطوں کیساتھ تعلق) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ اِتصال (یعنی تعلق) ناممکن ہے۔ ٭بعض لوگ بلابیعت (یعنی بغیر مرید ہوئے) محض بزعم وراثت (یعنی وارث ہونے کے گمان میں) اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت کی تھی مگر خلافت نہ ملی، بلااِذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ 
(جاری ہے )