07:57 am
ایک اور بابری مسجد

ایک اور بابری مسجد

07:57 am

جب سے نریندر مودی نے بھارت میں وزیراعظم کا منصب سنبھالا ہے یعنی 2014ء سے، مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ مسلمان دشمنی کی انتہا کر دی کوئی دن ایسا نہیں جاتا ہے جب بھارت کے کسی شہر یا گائوں میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو تنگ نہ کرتے ہوں بلکہ گائے کو ذبح کرنے کے جھوٹے الزامات لگا کر اسے قتل بھی کر دیتے ہیں،یہی حالات بھارت میں مساجد کے بھی ہیں جہاں نریندر مودی کے احکامات پر ان مساجد کو محض اس لئے شہید کیا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔اسی قسم کا معاملہ وارنسی (بنارس ) میں وقوع پذیر ہو رہا ہے جہاں یہ قدیم مسجد گیانواپی کو شہید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہ قدیم مسجد ایک مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی یہ من گھڑت الزامات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ الزامات آر ایس ایس کے کارکن بڑے تواتر کے ساتھ لگا رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا ہے کہ کچھ غنڈوں نے رات کی تاریکی میں اس مسجد کے احاطے میں چند مورتیاں چھپا دی تھیں تاکہ انتہا پسند جاہل ہندوئوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہاں کسی زمانے میں ایک مندر تھا جس کو مسلمان حکمرانو ں نے توڑ کرمسجد بنائی تھی لیکن جلد ہی وارنسی کی پولیس کے ذریعے مقامی کورٹ میں یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ مورتیاں کسی سازش کے تحت رات کی تاریکی میں مسجد کے احاطے میں چھپائی گئی تھیں تاکہ مسجد کی جگہ مندر بنانے کا جواز پیش کیا جاسکے لیکن عدالت نے اس جھوٹ کو پکڑ لیا اور تحقیقات کے ذریعے ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے یہ مذموم سازش کی تھی در اصل یہ عناصر جن کا تعلق بی جے پی سے تھا ہندو مسلم فسادات کرانا چاہتے تھے۔
قارئین کو یہ یاد ہوگا کہ 1992ء میں ایودھیا ( فیض آباد ) میں بی جے پی کے ایک رہنما ایل کے ایڈوانی (جو سندھ پاکستان میں پیدا ہوا تھا) کی قیادت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔بابری مسجد کو شہید کرنے والوں میں نریندر مودی بھی پیش پیش تھا جو بی جے پی کے کارکنوں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے مشتعل کر رہا تھا۔ایودھیا میں نہ صرف بابری مسجد شہید کی گئی بلکہ ہزاروں مسلمانو ں کو بھی تہہ تیغ کیا گیا تھا جو یہاں صدیوں سے قیام پذیر تھے ان کی املاک کو بھی بی جے پی کے غنڈوں نے لوٹا اور نوجوان خواتین کو اغوا کر کے لے گئے جن کا آج تک کوئی پتہ نہیں چلا۔ اب یہی انتہا پسند بھارت کا وزیر اعظم نریندر مودی بابری مسجد میں رام مندر تعمیر کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔یہ بات بابری مسجد کو شہید کرنے سے پہلے بی جے پی کا ووٹ بنک تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا یعنی 2 فیصد سے بھی کم لیکن بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد بی جے پی کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو تا چلا گیا جو خالصتاً ’’ہندوتوا‘‘کے مذہبی نعرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کے ایک سابق وزیر اعظم آنجہانی نرسمہا رائو نے لوک سبھا میں ایک بل منظور کرایا تھا جس کے تحت بھارت میں ہر مذہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کو مقدس اور قابل احترام تسلیم کیا گیا تھا ان کو توڑنے پر سخت پابند ی عائد کی گئی تھی لیکن جیسے ہی بی جے پی اقتدار میں آئی اس کی قیادت نے ایسے تمام قوانین کو جس میں مذہبی آزادی کا ذکر کیا گیا تھا ان کو منسوخ کردیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ ان کی عبادت گاہوں کو بھی جھوٹے نعروں کے ذریعے متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔بابری مسجد کی شہادت اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد آج بھی خوف کی فضاء طاری ہے اور رام مندر کی تعمیر شروع ہوگی تو وہاں مسلمانوں پر ایک اور قیامت ٹوٹے گی۔ 
اب بابری مسجد کی شہادت کے بعد وار نسی میں گیانوپی مسجد کو مسمار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے،جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ نریندر مودی نے بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کو جنون کی حد تک پھیلایا ہے جس کی شدت ایک بار پھر وارنسی میں محسوس کی جا رہی ہے جہاں ایک قدیم مسجد کو مسمار کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے یہاں رہنے والے مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہاہے بلکہ اس طرح جس طرح بابری مسجد کو توڑنے سے پہلے ایودھیا میں بسنے والے مسلمانوں میں وارنسی کی مقامی انتظامیہ نے ہر چند مسلمانوں کو یقین دلایا ہے کہ گیانوپی مسجد کو مسمار نہیں کیا جائے گا لیکن مسلمانوں کو انتظامیہ کی ان باتوں پر یقین نہیں آرہا کیونکہ ایسی ہی یقین دہانیاں ایودھیا میں وہاں کی مقامی انتظامیہ نے کرائی تھیں لیکن بعد میں جو کچھ بھی ہوا تھا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔
 یہاں یہ بات لکھنا بہت ضروری ہے کہ وارنسی کی انتظامیہ نے یہاں پر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں بعض مندروں کو بھی توڑا ہے اور ان کی جگہ وہاں نئے مندر تعمیر کئے جا رہے ہیں یہ سب کچھ ایک خاص حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ وارنسی کی انتظامیہ غیر جانبدار ہے اور بعض مندروں کو بھی توڑ رہی ہے لیکن یہاں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک دکھاوا ہے اس صورت حال کے پیش نظر مسلمان وارنسی میں خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ گیانوپی مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لئے عدالت سے بھی رجوع کر رہے ہیں تاکہ یہاں کی انتظامیہ کو اس کے غیر آئینی اور غیر اخلاقی کاموں سے روکا جا سکے۔ بھارت کے بعض اہم اخبارات نے اس مسئلے پر ادارئیے لکھے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وارنسی میں گیانوپی مسجد کو توڑنے کی صورت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو سکتے ہیں جو بعد میں پورے بھارت میں بھی پھیل سکتے ہیں نیز ان فسادات کی وجہ سے بھارت ایک بار پھر بدنام ہوگا جیسا کہ نریندر مودی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا اور تشدد آمیز سلوک کر رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اپنے عوام کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے گیانوپی مسجد کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے لیکن وہ اس میں کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا کیونکہ بھارت کی سیکولر قوتیں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بچانے کے لئے اب آگے آرہی ہیں تاہم نریندر مودی کی سرکار کے مسلمان دشمن روئیے کی وجہ سے بھارت میں بسنے والے 24کروڑ مسلمان نہ صرف خوفزدہ ہیں بلکہ بے بسی کی زندگی گزارنے میں مجبور ہیں ۔ 
دہلی میں کئی مساجد میں انتہا پسند ہندوئوں نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں پر پوجا پاٹ بھی شرو ع کر دی ہے یہ سب کچھ دہلی کے ایسے علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں مسلمانوں کی قلیل آبادی ہے اور نمازیوں کی تعداد بھی کم ہے چنانچہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آر ایس ایس کے غنڈے ان مساجد پر قبضہ کرنے کے علاوہ وہاں سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ دراصل بھارت کا سیکولر چہرہ جو بھارت کے نیتائوں نے آزادی کے اوائل میں تشکیل دینے کی کوشش کی تھی اب بھارت میں اس فلسفے کا کوئی وجود نہیں ہے۔بھارت کا موجودہ مکروہ چہرہ انتہاپسند آر ایس ایس کے کارکنوں نے بنایا ہے جو مسلمانوں سمیت بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کو جینے نہیں دے رہے ہیں۔یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک اور بھارت کے مسلمانوں کے لئے انتہائی کرب ناک بن چکی ہے حالانکہ مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنے 1000 سالہ حکومت کے دوران ہندوئوں کے ساتھ مذہبی امتیاز نہیں برتا تھا۔مغل بادشاہوں کی بیشتر بیویاں ہندو تھیں اس کے علاوہ مغل فوج میں کئی سپہ سالار ہندو راجپوت تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی رواداری کی وجہ سے وہ ہندوستان میں 1000سال حکومت کر سکے تھے لیکن آج نریندر مودی کی سرکار کے دور میں سب کچھ الٹا ہو گیا ہے۔