07:59 am
مقبوضہ کشمیر…فصلیں، باغات تباہ

مقبوضہ کشمیر…فصلیں، باغات تباہ

07:59 am

٭وزیراعظم عمران خان، امریکہ روانگیO خورشید شاہ، حوالات میں حالت خراب O مقبوضہ کشمیر سیب کے سینکڑوں باغ اور فصلیں تباہOپنجاب میں کتے کے کاٹے اور کینسر کی دوا موجود نہیں، وزیرصحت یاسمین راشدO مالی کے گھر سے آٹھ مہنگی گاڑیاں، کروڑوں کے زیورات، دوبھرے ہوئے بڑے بندلاکر برآمدO احتساب عدالت، خورشید شاہ و آصف زرداری کی جپھیاںO مرتضیٰ بھٹو قتل،23 برس میں کسی کو سزا نہ ملیO 134 بڑے ادارو ںکا کوئی سربراہ نہیں، ملازمین پریشان۔
٭وزیراعظم عمران خاں یہ کہہ کر امریکہ روانہ ہو گئے کہ جنرل اسمبلی میں وہ کچھ کروں گا جو آج تک کسی اور نے نہیں کیا۔ روانگی سے ایک روز پہلے سعودی عرب میں شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کیں اور عمرہ کیا۔ میڈیا میں ’پاک امریکہ سعودی اتحاد‘ کی خبریں چھپ گئیں۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر میزائلوں کے حملے کے بعد وہاں صورتحال خاصی گمبھیر ہو چکی ہے۔پاکستان کو ایک مشکل پیش آ رہی ہے کہ سعودی عرب نے تیل کے یونٹوں پرحملے کا الزام ایران پر عائد کیا ہے، پاکستان اس معاملے میں ساتھ نہیں دے سکے گا۔ ایران نے حال ہی میں گیس پائپ لائن کی تنصیب میں تاخیر کی بنا پاکستان سے کروڑوں ڈالر کا جو ہرجانہ طلب کیا ہے، اسے ختم کر کے پائپ لائن کے لئے مزید پانچ سال کی رعائت دے دی ہے اور عالمی سطح پر اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔ ظاہر ہے خاص حالات میں ایران نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔ یہ تعلقات خطرے میں نہیں ڈالے جا سکتے۔ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے دبائو میں آیا ہوا ہے۔ افغانستان کا صدر اشرف غنی پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر اُتر آیا ہے۔ اس کی صدارت کے صرف ڈیڑھ دو ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف محاذ آرائی تیز کر رہا ہے۔
٭’’ادھر بھارت کا وزیراعظم مودی بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے روانہ ہو رہا ہے۔ اس نے پاکستان کے خلاف ہر قسم کا زہر جمع کر لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خاں اور مودی کی تقریریں ایک ہی روز ہوں گی۔ وقت میں کئی گھنٹے فرق کے باعث ہمارے ہاںدو دن شمار ہوں گے۔ پہلے مودی تقریر کرے گا۔ تھوڑی دیر کے بعد عمران خاں کی تقریر ہو گی۔ روائت کے مطابق بھارت کو اس کا جواب دینے کا حق حاصل ہو گا۔ یوں تقریباً 47 برسوں کے بعد ایک بار پھر جنرل اسمبلی کی فضا کشمیر کے ذکر سے گرم ہو جائے گی۔ 1972ء میں شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان بھارت کے ساتھ کسی تنازع کو صرف بھارت ہی کے ساتھ مذاکرات سے طے کر سکتا ہے۔ کسی تنازع کو کسی تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جا سکتا مگر پاکستان نے طویل انتظار اور بھارت کے رویے اور حربوں کے بعد کشمیر کا تنازعہ سلامتی کونسل مختلف فورموں میں پیش کیا ہے، اب جنرل اسمبلی میں پیش ہو رہا ہے اس طرح شملہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔
٭عین اس وقت جب ضلع قصور کے بچوں پر قیامت ٹوٹ رہی تھی، پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار عمرہ پرچلے گئے اور مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر پنجاب کی انتظامیہ کو احکام جاری کرنے لگے۔ خدا خدا کر کے واپس آئے تو رات کو ڈھائی بجے لاہور کے ہوائی اڈے پر چیف سیکرٹری آئی جی اور درجن بھر وزیروں اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کر لیا اور پولیس پر برس پڑے۔ ’’یہ کر دیا جائے گا، وہ کر دیا جائے گا!!‘‘ ’’کر دیا جائے گا‘‘ کی یہ گردان عوام پچھلے ایک سال سے سن رہے ہیں۔ اس دوران آئے دن کثیر تعداد میں افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ کے سوا عوام کوئی اور کارکردگی دیکھنے سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ ہردوسرے تیسرے ماہ آئی جی پولیس بدل جاتا ہے، بے شمار سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی، ایس پی تبادلوں کے بعد دربدر پھر رہے ہیں۔ صوبے کا سارا نظام عملی طور پر ٹھپ ہو چکا ہے۔ انتہا یہ کہ قصور میں ایک بچی کے ساتھ بربریت کا واقعہ جنوری 2018ء میں ہوا۔ حکومت نے بچوں کی حفاظت کے لئے قانون بنانے کا اعلان کیا۔ چند ماہ بعد موجودہ حکومت برسراقتدار آ گئی۔ اس واقعہ کے بعد ایک سال 9 ماہ ہو چکے ہیں، ایک سال سے زیادہ مدت میں بزدار حکومت اس بارے میں قانون سازی نہ کر سکی۔ بس اعلانات ہوتے رہے کہ ’’حکومت یہ کرے گی، وہ کرے گی‘‘ کچھ بھی نہ ہوا اور اس وقت جب قصور میں بچوں پر قیامت ٹوٹ رہی تھی، وزیراعلیٰ کئی روز کے لئے عمرہ پرچلے گئے۔ یہاں واضح کر دوں کہ عمرہ کسی بھی مسلمان کے لئے بہت بڑا خواب اور بہت بڑی عبادت ہے، مگر یہ مکمل طور پر ذاتی معاملہ ہے۔ گھر میں ماں باپ شدید علیل ہوں، تو عمرہ چند روز کے لئے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ یہی صورت حال قصور میں تھی۔ بچوں کے والدین ان کی لاشیں لئے سڑکوں پر تڑپ رہے تھے اور وزیراعلیٰ انہیں چھوڑ کر عمرہ کرنے چلے گئے۔ شور زیادہ مچا تو واپس آ کر ہوائی اڈے پر ڈھائی بجے رات افسروں کی میٹنگ رکھ لی!!
٭اور سُنئے، پنجاب کے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ارشاد فرمایا ہے کہ پنجاب میں (سندھ کی طرح) کتے کے کاٹنے کے علاج والی ویکسین موجود نہیں۔ ایک روز پہلے کہا کہ صوبے میں کینسر کے علاج کی دوا ختم ہو چکی ہے۔ ویکسین کے بارے میں عذر کہ یہ دوا بھارت سے آتی تھی، اب نہیں آ رہی۔ کینسر کی دوا کے بارے میں جواز کہ صرف ایک کمپنی یہ دوا فراہم کرتی تھی اس کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ ان دونوں دلیلوں پر کیا تبصرہ کیا جائے! صریح نالائقی، نااہلی، بلکہ عوام دشمنی! ان دوائوں کا انتظام کیا میکسیکو یا برازیل نے کرنا تھا۔ یہ بی بی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر تھیں تو ہر حکومت کی ’نااہلی‘ پر طوفان اٹھائے رکھتی تھی، ہڑتالوں پر اتر آتی تھی، اب وزیر بنی ہوئی ہے تو کیسی کیسی خبریں سنا رہی ہے؟؟ قدرت نے کسی قوم کو سزا دینی ہو تو اس پر…!!
٭ناقابل یقین مگر حقائق سامنے ہیں۔ کراچی میں سابق میئرنے ایک شخص لیاقت قائم خانی کو پارک میں کام کرنے کے لئے مالی مقرر کیا…گزشتہ روز نیب نے اسلام آباد میں اس کے وسیع و عریض محل نما بنگلے پر چھاپہ مارا، وہاں سے آٹھ مہنگی گاڑیاں، کروڑوں کے زیورات، پرائز بانڈزاور دو تجوریاں جو کھولی نہ جا سکیں! یہ حیرت کی بات نہیں، اوپر اربوں کھربوں کی لوٹ مار مچی ہو، تو مالی بھی وہی کچھ کریں گے!!
٭مرتضیٰ بھٹو قتل کیس، 23 برس ہو گئے، کسی کو سزا نہ ملی!
٭ملک میں 134 اہم اداروں کا عرصے سے کوئی سربراہ نہیں، کوئلہ کی کھدائی کی بجائے برآمد کیا جا رہا ہے۔
٭حسب روائت گرفتار ہوتے ہی خورشید شاہ کی طبیعت خراب۔’ شوگر، بلڈپریشر نارمل ہے‘ ڈاکٹر!
٭لاہور میں قائداعظم کے نام پر 1996ء میں 105 ایکڑ پر جناح ہسپتال قائم ہوا۔ اس کا شمار لاہور کے چار بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ روز میں ایک بیمار شخص کی عیادت کے لئے گیا۔ ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوتے ہی تاریک راہداری کا سامنا کرنا پڑا۔ایک وارڈ کا پوچھا۔ تیسری منزل پر تھا۔ لفٹیں بند تھیں۔ ابتدا سے ہی یہ کبھی چلی ہی نہیں چلیں ۔ 24 برسوں میں جب بھی ہسپتال آنا ہوا۔ انہیں بند پایا۔ دور فاصلے پر صرف ایک لفٹ چل رہی تھی۔ اس کے باہر 30,25 افراد کا ہجوم تھا۔ میرے پائوں کو تکلیف تھی۔ بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر تیسری منزل پر پہنچا اور راہداری میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے، جالیاں گردوغبار سے سیاہ، ایک طرف نیچے کھلی جگہ پر نظر پڑی، سیاہ رنگ کا گندا پانی پھیلا ہوا، سخت کوفت کے ساتھ سیڑھیوں سے واپس آیا۔ واحد چالو لفٹ کے آپریٹر نے تین بچے لفٹ بند کر دی کہ اس کی ڈیوٹی پوری ہو گئی تھی۔ میں سخت کوفت کے ساتھ آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اترا۔ بات مختصر کرتا ہوں پھر خاتون وزیر صحت کا نام آ جائے گا۔