08:38 am
کیاکشمیر واقعی ہماری شہہ رگ ہے ؟

کیاکشمیر واقعی ہماری شہہ رگ ہے ؟

08:38 am

ماہرین طب کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں شہہ رگ بہت اہم ہوتی ہے اسی کے ذریعہ تمام جسم کو خون سپلائی ہوتاہے یہ اگر کٹ جائے یا کاٹ دی جاے تو انسان کاقصہ لمحوں میں تمام ہوجاتاہے شہہ رگ میں خون دوڑتا رہتا یہی پوری جان کومتحرک رکھتی ہے ۔
 
   قیام پاکستان کے وقت بانی پا کستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیاتھا لیکن ملت پاکستان نے بہتر برس  بیتنے کے با وجود اپنی آدھی ادھوری شہہ رگ پر قناعت کررکھا ہے۔ سرزمین کشمیر واقعی پاکستان کیلئے شہہ رگ کی حیثیت ر کھتی ہے۔ پاکستان کوملنے والے پانچوں دریا جس کی نسبت سے پنجاب کو  پہچانا جاتا ہے۔ بد نصیبی کہیے یا ہمارے اکابرین سیاست کی نااہلی اور غفلت کہ بہتر برس گزرنے کے باوجود ہم اپنی شہہ رگ کی حفاظت کرنے کے اہل نہیں ہوسکے ۔اب بھی ہم کشمیر کی اور اپنی بقا کیلئے بھی اقوام عالم کی طرف دیکھ رہے ہیں‘ حالانکہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ یہود ونصاریٰ کے گٹھ جوڑ کانام ہے جوکبھی بھی اور کسی طرح بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ اس کی خبر تو اللہ رب العزت قران کریم کے ذریعے ہمیں پہلے ہی دے چکاہے لیکن اغیار نے ہماری آنکھوں پر اپنے اقتدار کی سنہری پٹی باندہ رکھی ہے اسی سبب ہمیں اپنی شہہ رگ کم کم دیکھائی دے رہی ہے ۔
ماضی گواہ ہے جب جب جہاں جہاں مسلمانوں پرظلم زیادتی ہوئی ہرطرح  سے داد وفریاد کرنا بیکارہی گئی اقوام عالم کے کانوں پرجوں  تک  نہیں رینگی   چیچنیا ‘بوسینیا ‘ہرزوگووینیا ‘فلسطین ‘یمن‘ شام‘ عراق ‘ کابل کس کارونا رویا جائے لیکن اگر کوئی ملک غلطی سے بھی اسرائیل یاکسی کلیسائی ملک کی طرف انگلی ہی اٹھا دے  تو ساری دنیا کادرد رکھنے والی یہی اقوام متحدہ اپنے لائولشکر کے ساتھ پہنچنے میں دیر نہیں کرتی برسوں کے معاملا ت لمحوں میں  نمٹادے جاتے ہیں چاہے کسی نے رجوع کیاہویاناکیا ہوکیونکہ وہ تواپنوں  کامعاملہ ہوتا ہے۔ مسلمان کومٹانے کیلے یہود ونصاریٰ ایک ہیں وہ مسلم اتحاد سے ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں انہیں مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خوف آتا  ہےاسی سبب ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس جہاد کے جذبے کواس قوم سے ختم کردیا جائے انہیں کس طرح بھی متحد ناہونے دیا جائے ۔
    کشمیر اور اہل کشمیر کامعاملہ نااقوام متحدہ کی نظر میں ناہی دیگر اقوام عالم کی نظر میں کوئی اہمیت وقعت رکھتاہے  کیونکہ یہ مسلما نوں کامسئلہ ہے۔اسی وجہ سے کشمیر میں ہندوئوں کوکھلی چھٹی ملی ہوئی ہے وہ جوچاہیں جس طرح چاہیں بس مسلم آبادی کو ملیامیٹ کردیں کوئی پوچھنے والانہیں ہے اور اگر کہیں  ایساہی عمل فلسطین کی طرف سے یا کسی مسلم ملک کی طرف سے اسرائیلوں کیلئے ہوتاوہ اسرائیل کے ساتھ ایسا کرنے کی طاقت رکھتے۔ اسرئیل میں گھس کران کی ایسی تیسی کرنے کی کوشش ہی کرتے ناصرف امریکہ  بلکہ اسکی بغل بچہ اقوام متحدہ اور نیٹو کی  افواج پلک جھپکتے میں اسرائیل کی حفاظت کوپہنچ گئی ہوتیں۔
پاکستان کے عوام وخواص اور تمام حکمران ماضی سے لے کر حال تک کے کشمیر کواپنی شہہ رگ کہتے نہیں تھکتے جب کہ افواج پاکستان میں الحمد  للہ اتنی  قوت وجرات ہے کہ وہ دنوں میں اس مسئلہ کوحل کرسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنا حوصلہ و ہمت ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچ بھی سکیں۔ 
آزاد کشمیر جوآج  پاکستان سے ملحق ہے کیاوہ  مذاکرات کے ذریعہ آزاد کرایا گیاتھا یا وہ اقوام متحدہ کی کسی قرارداد سے آزاد ہواتھا؟وہ جذبہ جہاد ہی کے ذریعہ  آزادہوتھا ۔جب تواہل کشمیر الحاق پاکستان کیلئے اس طرح جان ہتھیلی پر لے میدان عمل میں اترے بھی نہیں تھے۔ آج اگرجہاد فی سبیل ا للہ نا سہی مسلم امت کی حفاظت وفلاح کیلئے تو کشمیریوں کی مدد کیلئے پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ افواج پاکستان میں اتنادم خم ہے کہ اس مسئلے کو مہینوں میں نہیں  دنوں میں حل کرسکتی ہے۔ رہی اقوام متحدہ کی بات تو جس طرح وہ مسلم فریادوں کوایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی ہے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیاجائے مار ماپیچھے پکار تو ہوتی ہی ہے۔ آزاد کشمیر کے آزاد ہونے پر اقوام متحدہ نے کیا کرلیا تھا۔ جو کہ اب کچھ کرلے گی۔ رہی بھارت کی بات تو اس میں اتنی ناجرات ہے ناہی ہمت کہ وہ جوہری ہتھیاروں کواستعمال کرکے بھارت کو کھنڈر میں تبدیل کرالے ناامریکہ نااقوم متحدہ نایورپ اور ناہی بھارت کاساتھی اسرائیل اس کی حمایت کرے گا کہ بھارت ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے میں پہل کرے کیونکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے جبکہ افواج پاکستان دوٹوک انداز میں داضح کرچکی ہے کہ ایٹمی اسلحہ میں ہم پہل نہیں کریگے۔ جہاں تک کشمیر میں موجود بھارتی فوج کی تواسے دوطرف سے مار پڑیگی۔ اندرسے کشمیری جوانوں کی طرف سے جو فی الحال پتھروں سے لڑرہے ہیںجب اگر ان کواسلحہ دستیاب ہو توبھارتی فوج کو بھاگتے ہی بنے گی۔ بھارت اور اس کے حمایتی چاہے جتنا شور  مچاتے رہیں ۔اگر بات زیادہ بڑھ جائے تو کشمیر کواس کاحق رائے دہی استعمال  کرنے کی آزادی تو مل ہی سکے گی جس کیلئے قرار دادوں پرقراردادیں منظور ہونے کے باوجود اب تک کچھ نہیں ہوسکا۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان کشمیر کی جانب اپنی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے تویقیناً امریکہ اسرائیل اور ان کی اماں جان اقوام متحد دوڑ کر میچ میں کودپڑے گی۔ ان کے کہنے کے مطابق جنگ اس مسئلہ کاحل نہیں۔ یوں رائے شماری کی تجویز پرعمل ہوسکے شاید اور بھارتی فوج کاانخلاء  ممکن ہوسکے۔ ہاں  یہ بھی طے ہے کہ کشمیر ناتو نعروں سے ناخالی خولی حمایت کے اعلانوں سے نا اقوام متحدہ میں تقریروں سے آزاد ہونے والاہرگز  نہیں ہے جب تک کوئی عملی قدم  نہیں اٹھایاجائے گا تب تک کچھ ہونے والا نہیں۔ اللہ اہل کشمیر کی مدد کرے۔ اہل پاکستان کواپنی شہہ رگ بچانے کی اس کی حفاظت کرنے کی اسے آزاد کرانے کی ہمت وتوفیق عطاکرے ۔آمین ۔

تازہ ترین خبریں