08:39 am
سقوط کشمیر‘ سقوط حیدر آباد‘ سقوط جوناگڑھ

سقوط کشمیر‘ سقوط حیدر آباد‘ سقوط جوناگڑھ

08:39 am

26اکتوبر1947ء کا دن وہ لمحات یاد دلاتا ہے جب بھارت نے کشمیر میں فوج داخل کرکے پاکستان سے ملحق ہونے کا استحقاق رکھتے خطے کو اپنا لیا تھا۔ اگر ہوائی جہازوں سے بھارتی فوج سری نگر نہ اتاری جاتی تو پورا کشمیر پاکستان کا حصہ ہو جاتا مگر اس عمل کو وقوع پذیر کرنے سے پہلے بائونڈری کمیشن کے سربراہ ریڈ کلیف کا اچانک فیروز پور اور گرداسپور تحصیلوں کو بھارت میں شامل کرنا اور وہ بھی کمیشن کا اجلاس منعقد ہونے سے پہلے ہی یہ سب مائونٹ بیٹین نہرو سازش کا کمال تھا جس میں شیخ عبداللہ مکمل طور پر شریک تھا۔
 
کچھ اطراف نہرو کی طرف سے ریڈ کلیف کو ائیرپورٹ پر نقشہ تبدیل کرانے سے پہلے رشوت دینے کے الزام بھی لگاتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے گرادسپور کے حوالے سے فیروز پور کے حوالے سے برطانوی بددیانتی اب تاریخ کا حصہ ہے۔ فرانسیسی اشرافیہ برطانوی انگریزوں کو دوکانداروں کی قوم یعنی تاجروں کی قوم کہتے تھے۔ کیا فرانسیسی حکمت و دانائی کہ برطانوی انگریزوں کو تاجروں بلکہ بددیانت تاجروں کی قوم کہنا غلط ہے؟ برصغیر میں برطانوی پائوں  پہلے ایک معالج کے طور پر آیا‘ پھر مغل بادشاہ سے مراعات لیکر تجارت کی اجازت حاصل کی‘ تجارت کو تحفظ دینے کے لئے مقامی باشندوں پر مبنی فوج پھر تیار کی۔ ایسی مقامی فوج کے ذریعے راجوں‘ مہاراجوں کے اقتدار کو تہہ و بالا کیا۔ 
ہندوستان میں تقسیم  برصغیر کے وقت کتنی آزادی ریاستیں تھیں؟565جو کچھ فیروز پور اور گورداسپور کی صورت بھارت کی جھولی میں ڈالا گیا کچھ ایسا ہی بددیانتی کا مظاہرہ ریڈ کلیف نے تقسیم بنگال کے حوالے سے بھی کیا۔
یاد آیا  ابھی بھی آسام اور مغربی بنگال میں بہت سے بنگالی ہندو بھی آباد ہیں۔ ہندتوا انتہا پسند مودی حکومت اور امیت شاہ وزیر داخلہ بنگالی مسلمانوں کو انڈین نہیں مانتے یوں آسامی مسلمانوں اور مغربی بنگال کے مسلمانوں کے لئے عذاب آیا ہوا ہے مگر بنگالی ہندوئوں کے لئے آئینی ترمیم کا بندوبست امیت شاہ وزیر داخلہ کرنے کے خواہش مند ہیں کہ ان کو ’’مہاجر‘‘ ہونے کے باجود‘ ہندو مذہب ہونے کی بناء پر انڈین شہریت دے دی جائے۔ 
آسام اور مغربی بنگال میں تقسیم برصغیر یا اس سے پہلے ہجرت کرکے آنے والے بنگالی مسلمانوں کے سبب اب وزیراعظم حسینہ واجد پر شدید عوامی بنگالی دبائو آرہا ہے کہ وہ مودی حکومت کے مظالم پر غور کرے۔ ڈھاکہ میں لاکھوں بنگالی مسلمانوں نے کشمیر کے حوالے سے بھرپور احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ حسینہ واجد کے مودی نواز ہونے پر ردعمل نہیں ہے؟ آسام میں موجود بنگالیوں کے سبب آسام کا خطہ  چین کی طرف راغب ہو رہا ہے تاکہ  وہ چین کی مدد سے آزادی حاصل کر سکے۔ مجھے تو آسام میں آزادی کی تڑپ ناگالینڈ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بس ذرا 2020ء  کو ختم ہونے دیں۔2021ء میں جنوبی ہند کی بہت سی ریاستیں آزادی کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہیں۔ ان شاء اللہ
17ستمبر1948ء کا دن سقوط حیدر آباد کی یاد دلاتا ہے۔ ہندو دانشور ارون دھتی رائے کا موقف رہا ہے کہ بھارتی فوج کا ظالمانہ استعمال آزاد ریاستوں کے انہدام اور جبری انضمام کے لئے ہوتا رہا ہے۔ جیسا کہ آج کل 8لاکھ بھارتی فوج80لاکھ مسلمان  کشمیریوں کو کچلنے میں مصروف ہیں۔ 17ستمبر1948ء کا دن کچھ ایسا ہی منظر حیدر آباد دکن کے ساتھ وابستہ تاریخ رکھتا ہے۔ حیدر آباد دکن لینڈ لاکڈ یعنی افغانستان یا کشمیر کی طرح کا ہے۔ حیدر آباد کی فوج اور ملیشیاء پولیس کو کرش کرنے کے لئے بھارت نے بری اور ہوائی فوج کا استعمال کیا۔ ٹینکوں‘ توپوں کا استعمال کیا۔ ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا یہ سب کچھ وزیراعظم نہرو کے تعاون سے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے کیا تھا جس کا مجسمہ گجرات میں چینی ماہرین کی مدد سے مودی حکومت نے قائم کر رکھا ہے۔ ذرا غور کریں ماضی کے وزیر داخلہ سردار پٹیل اورموجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ میں کتنی مماثلت ہے؟ نظام حیدر آباد مسلمان اسکالرز‘ علماء ‘ مدارس کے عظیم مربی تھے۔ صوفی ازم کے سرپرست تھے۔ نظام حیدر آباد کی بدقسمتی کہ حیدر آباد میں صرف 14فیصد مسلمان جبکہ85فیصد ہندو آبادی تھی۔ 
نظام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے یہی کچھ جو ناگڑھ بھی چاہتا تھا۔ حیدر آباد کو فتح کرتے ہی اس کے کئی ٹکڑے بنا دئیے گئے تھے۔ 1مہاراشٹرا2 کرناٹاکا 3آندرا پردیش۔ بالکل اسی طرح مشرقی پنجاب جس میں سکھوں کی اکثریت تھی اسے بھی تین نئے صوبوں کی صورت تقسیم کر دیا گیا تھا۔ نظام عثمان علی خان وہ عظیم پاکستان دوست مسلمان حکمران تھا جس نے حیدر آباد کے خزانے سے قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں بیس کروڑ روپے پاکستان کو دئیے تھے ۔ شاید آج کل یہ 2000ہزار کروڑ ہوسکتے ہیں۔ جامعہ عثمانیہ نامور یونیورسٹی تھی اس مسلمان ریاست کی۔ یاد رہے نظام نے اپنا وزیراعظم ایک ہندو کو بنایا ہوا تھا اور اس وزیراعظم کے ساتھ علامہ اقبال کے نجی اور گھریلو گہرے تعلقات تھے۔ وہ خطوط جو علامہ اقبال اور اس وزیراعظم حید رآباد کے مابین تھے اور مجموعہ مکاتب علامہ اقبال میں موجود ہیں اور جنہیں اقبال اکادمی لاہور نے شائع کر رکھا ہے ان کے مطالعے سے ہی پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال تہجد گزار تھے ۔
پس تحریر: سکندر مرزا  کی یادداشتوں میں ہے کہ سردار پٹیل نے پاکستان کو نمائندہ بھیج کر پیشکش کی تھی کہ حیدر آباد دکن دے دو اور کشمیر لے لو اس پہلو پر ہماری اپنی کوئی غلطی تھی؟

تازہ ترین خبریں