08:40 am
آ دابِ مرشد

آ دابِ مرشد

08:40 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
٭سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کر دیا گیا، اس میں فیض نہ رکھا گیا، لوگ برائے ہوس اس میں اِذن و خلافت دیتے چلے آتے ہیں یا ٭سلسلہ فی نفسہٖ صحیح تھا مگر بیچ میں ایسا کوئی شخص واقعہ ہوا جو بوجہ انتقائے بعض شرائط قابل بیعت نہ تھا، اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں منقطع (یعنی جدا) ہے۔ ان تمام صورتوں میں اس بیعت سے ہرگز اتصال (یعنی تعلق) حاصل نہ ہو گا۔ 
دوسری شرط: مرشد سنی صحیح العقیدہ ہو، بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک۔ آج کل بہت کھلے ہوئے بددینوں بلکہ بے دینوں کہ جو بیعت کے سرے سے منکر و دشمن اولیاء ہیں،مکاری کے ساتھ پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے۔ ہوشیار! خبردار! احتیاط! احتیاط!
تیسری شرط: مرشد عالم ہو یعنی کم از کم اتنا علم ضروری ہے کہ بلاکسی امداد کے اپنی ضروریات کے مسائل کتاب سے نکال سکے۔ کتب بینی اور افواہِ رِجال (یعنی لوگوں سے سن سن کر) بھی عالم بن سکتا ہے۔ (مطلب یہ کہ فارغ التحصیل ہونے کی سند نہ شرط ہے نہ کافی، بلکہ علم ہونا چاہئے) ٭علم فقہ (یعنی احکام شریعت) اس کی اپنی ضرورت کے قابل کافی ہوں ٭ اور عقائد اہلسنّت سے لازمی پورا واقف ہو۔ ٭کفر و اسلام، گمراہی و ہدایت کے فرق کا خوف عار (یعنی جاننے والا) ہو۔
چوتھی شرط: مرشد سابق معلن (یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا) نہ ہو۔ اس شرط پر حصولِ اتصال کا توقف نہیں (یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے تعلق کا دارومدار اس شرط پر نہیں کہ فجور و فسق باعث فسخ (منسوخ ہونے کا سبب) نہیں مگر پیر کی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب اور دونوں کا اجتماع باطل۔(’’اسے امامت کیلئے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور شریعت میں اس کی توہین واجب ہے‘‘)۔
(۲) مرشد اِیصال یعنی شرائط مذکورہ (یعنی جن شرائط کا ذکر کیا گیا) کے ساتھ (۱)مفاسد نفس (نفس کے فتنوں) (۲)مکائد شیطان (یعنی شیطانی چالوں) اور (۳)مصائد ہوا (نفس کے جالوں) سے آگاہ ہو۔ (۴)دوسرے کی تربیت جانتا ہو۔ (۵)اپنے متوسل پر شفقت نامہ رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کرے، ان کا علاج بتائے۔ (۶)جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں انہیں حل فرمائے۔ (فتاویٰ افریقہ، ص۱۳۸) 
بیعت برکت: یعنی صرف تبرک کیلئے بیعت ہو جانا، آج کل عام بیعتیں یہی ہیں۔وہ بھی نیک نیتوں کی، ورنہ بہت سے لوگوں کی بیعت دنیاوی اغراضِ فاسدہ کیلئے ہوتی ہے وہ خارج ازبحث ہیں۔ اس بیعت کیلئے شیخ اتصال کافی ہے۔یہ بیعت بھی بیکار نہیں بلکہ بہت مفید ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے کئی فائدے ہیں۔محبوبانِ خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھ جانا اور ان سے سلسلہ متصل ہو جانا بھی بڑی سعادت ہے۔ 
(اول) ان خاص خاص غلاموں اور سالکان راہِ طریقت سے اس اَمر میں مشابہت ہو جاتی ہے اور سیدعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے‘‘۔ (سنن ابودائود، کتاب اللباس، باب فی لبس الشہرۃ،رقم ۴۰۳۱، ص۶۲)
(دوم) ان اربابِ طریقت کے ساتھ ایک سلسلہ میں منسلک ہو جانا بھی نعمت ہے۔حدیث پاک میں ہے، ان کا رب عزوجل فرماتا ہے ’’وہ لوگ ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الذکر ووالدعا، باب فصل مجالت الذکر، رقم ۲۶۸۹۔ ص۱۴۴۴)
بیعت ارادت: اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں، بیعت ارادت یہ ہے کہ مرید اپنے ارادہ و اختیار ختم کر کے خود کو شیخ و مرشد ہادیٔ برحق کے بالکل سپرد کر دے، اسے مطلقاً اپنا حاکم و متصرف جانے،اس کے چلانے پر راہِ سلوک چلے، کوئی قدم بغیر اس کی مرضی کے نہ رکھے، اس کیلئے مرشد کے بعض احکام یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام، اگر اس کے نزدیک صحیح نہ معلوم ہوں تو انہیں افعالِ خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثل سمجھے اپنی عقل کا قصور جانے،اس کی کسی بات پر دل میں اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے۔
حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفر کے دوران جو باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جن پر اعتراض تھا پھر جب حضرت خضر علیہ السلام اس کی وجہ بتاتے تھے تو ظاہر ہو جاتا تھا کہ حق یہی تھا جو انہوں نے کیا۔ غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہو کر رہے۔ یہ بیعت سالکین ہے، یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے، یہی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے لی ہے۔ (فتاویٰ افریقہ، ص۱۴۰)
(جاری ہے)