08:40 am
 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

08:40 am

 سعودی تیل تنصیبات پر حملہ ایک غیر معمو لی  واقعہ  ہے۔ اس کے مضر اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے۔ غالباً اسلام آباد کے فیصلہ ساز معاملے کی حساسیت کا ادراک رکھتے ہیں ! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم صاحب امریکہ  براستہ سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں ۔ سعودی اعلیٰ حکام بشمول ولی عہد محمد بن سلمان سے  ملاقاتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔ اگرچہ پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر مرکوز ہے لیکن سعودی تنصیبات پر حملے سے مشرق وسطیٰ میں ابھرتی کشیدگی  سے لاتعلق رہنا دانشمندی نہیں بلکہ حماقت ہوگی ۔ یہ غور طلب اور کسی حد تک دلچسپ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اہم کردار کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کو متاثر کرنے والے علاقائی مسائل سے بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ جڑے  ہوئے ہیں ۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تین فریق نمایاں اہمیت کے حامل ہیں ۔ سعودی عرب ، ایران اور امریکہ۔ سعودی عرب نے متاثرہ فریق کی حیثیت سے ایران پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ 
 
 امریکہ کی جانب سے بھی ایران کے خلاف جارحانہ بیانات کی بوچھاڑ کے ساتھ سعودی حکومت کی درخواست پر عسکری کمک روانہ کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی گئی ہے۔  یہ بیانات  ایران کے خلاف امریکی قیادت میں مشترکہ  فوجی اقدامات  کا واضح عندیہ ہے ۔ مستقبل میں ایران کے خلاف کوئی جنگی کاروائی ہو یا نہ ہو لیکن فی الحال  اچھا خاصا جنگی ماحول بن چکا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی جارحانہ بیانات اور الزامات کے ردعمل میں لفظی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی قیادت نے کسی بھی  ممکنہ عسکری اقدام کو اپنے ملک کے خلاف اعلان جنگ قرار دے دیا ہے۔ اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل میں گھرے پاکستان کے لیے ایران سعودی کشیدگی کی صورت ایک اور پیچیدہ مسئلہ جنم لے چکا ہے۔ ایران سے ہماری سرحد بلوچستان میں ملتی ہے۔ کون  نہیں جانتا کہ بلوچستان میں طویل عرصے سے بھارتی خفیہ ایجنسی نے دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا فتنہ بپا کر رکھا ہے۔ 
پاک چین اقتصادی راہداری کا اہم مرکز گوادر بھی بلوچستان میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ صوبہ امریکہ بہادر سمیت چین مخالف عالمی عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ پر ایرانی تحفظات اور چاہ بہار بندرگاہ سے افغان علاقے بامیان تک تعمیر ہونے والے ریلوے ٹریک پر بھارت کی سرمایہ کاری کو موجودہ تناظر میں ذہن میں رکھا جائے تو سامنے آنے والا منطقی منظر نامہ پاکستان کے فیصلہ سازوں سے بے انتہا حکمت و تدبر کا تقاضا کرتا ہے۔ عرب دنیا میں جنم لینے والی کشیدگی کا ایک اہم فریق ایران ہمارا پڑوسی ہونے کے علاوہ بلوچستان اور افغانستان میں جاری رسہ کشی کے پیچیدہ کھیل کا اہم فریق بھی ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت محض کشمیر ہی نہیں بلکہ افغانستان اور ایران میں ہر ممکن اقدام اُٹھا کر پاکستان کو ہر پہلو سے زخمی کرنا چاہتا ہے۔  یاد کیجئے کہ پلوامہ حملے کی آڑ میں بالاکوٹ پر جعلی سرجیکل اسٹرائیک کرنے کے فوراً بعد بھارتی وزیر خارجہ آنجہانی سشماسوراج  ایران جا دھمکی تھیں اور پاکستان کے خلاف ایران کو اُکسانے کی کوشش کرتی رہی تھیں۔ 
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف ایران نے مثبت بیانات دیتے ہوئے پاکستانی موقف کو سفارتی سہارا فراہم کیا ہے۔   ماضی کی طرح آج بھی سعودی حکومت پاکستان کو موخر ادائیگی کی بنیاد پر ادھار تیل فراہم کر کے معاشی سہارا فراہم کر رہی ہے  لہٰذا ایسے قابل اعتماد دوست ملک کی تیل تنصیبات پر حملے کو با آسانی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودیہ اور دیگر اہم عرب ممالک کے تحرک پر قائم کی جانی والی اسلامک فورس کی سربراہی بھی اس وقت پاک فوج کے سابق آرمی چیف کر رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں امریکہ کے مفادات اور کلیدی کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے کھلی مخاصمت دکھا رہے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو بری طرح متاثر کرنے والی افغان بدامنی کا اہم ترین فریق بھی ہے اور طالبان سے مذاکرات کے حالیہ ادوار میں پاکستان کے ساتھ براہ راست رابطے میں بھی ہے۔ امریکہ نے خطے میں چینی اثر و رسوخ کو لگام ڈالنے کے لیے بھارت پر دست شفقت رکھا ہوا ہے جس کے بد اثرات پاکستان پر بھی نمودار ہو رہے ہیں۔ سی پیک سمیت کسی بھی نوعیت کا  پاک چین  اشتراک عمل امریکہ کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹکتا ہے‘ چنانچہ بری طرح الجھے معاملات نے پاکستان کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ 
ہمارے فیصلہ ساز یہ ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی ملک سے تعلقات کا تعین پاکستان کے قومی مفاد کی روشنی میں ہی کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو  ایران ، سعودی عرب ، افغانستان اور امریکہ کے ساتھ حکمت پر مبنی خوشگوار تعلقات استوار رکھنے کی ضرورت ہے۔  پاکستان کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ایران سعودیہ کشیدگی ختم ہو جائے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پہلے ہی جنگی ماحول بنا ہوا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی جنگی کشیدگی سے صرف امریکہ بہادر کو فائدہ ہوگا ۔ عرب دنیا سمیت مختلف فریقین سے جڑے ہمارے جیسے ملک بھی ممکنہ وسیع تر بربادی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے حلقے یہ بیان کر رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں امریکہ بہادر تیل کی منڈی پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کر چکا ہے ۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک کو جنگ کے میدان میں نہایت سوچ سمجھ کے دھکیلا جا رہا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں