08:41 am
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

08:41 am

16ستمبر 2019ء کی صبح  سی ایم ایچ راولپنڈی میں بریگیڈیئر محمد تاج دنیا سے رخصت ہو گئے۔  اسی روز انہیں آبائی گاؤں دیول شریف میں سپرد خاک کردیا گیا۔ یہ 44پنجاب(موجودہ 4سندھ) کے افسران اور سپاہیوں کے لیے بھی غم کا لمحہ ہے ، میں بھی شریک غم ہوں اورپاک فوج کے اس بہادر سپاہی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کچھ یادیں رقم کرنا خود پر لازم سمجھتا ہوں۔   
 
یہاں میںعنقریب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی اپنی  کتاب سے چند اقتباسات دینا چاہوں گا۔’’(نومبر71ء) کی جنگ قریب تھی، اسی لیے میں نے کسی انفنٹری یونٹ میں تعیناتی کے لیے درخواست دی، میرے والد کی اصل یونٹ 19پنجاب میری ترجیح تھی۔ میری بے حد خوش قسمتی کے مجھے 44پنجاب میں بھیجا گیا۔ اس یونٹ میں زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ، جب میں نے اس کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹننٹ کرنل(بعد ازاں بریگیڈیئر) محمد تاج کا نام سنا تو مجھے کئی خدشات لاحق ہوگئے کیوں کہ ان کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ بنگالیوں کو پسند نہیں کرتے اور میں آدھا بنگالی ہوں۔ 27نومبر 1971ء کو شام سات بجے میں رحیم یار خان ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو سیکینڈ لیفٹننٹ حنیف بٹ نے میرا استقبال کیا، ان کی پیشانی پر ایک  گومڑا تھا جسے دیکھتے ہیں بے ساختہ میرے منہ سے نکلا’’سینگ والا‘‘۔ ان کی مسکراہٹ بہت خوب صورت اور اتنی واضح تھی کہ بھاری بھرکم مونچھوں کی اوٹ سے بھی ظاہر ہوگئی۔ بٹالین ترنڈا میں جمع ہوچکی تھی۔ مجھے فوراً مورچوں میں قائم سی او کے دفتر جانے کا کہا گیا۔ تاج ویسے ہی تھے جیسا ان کے بارے میں مشہور تھا۔ ان کی نظر میں کیوں کہ میں ’بنگالی‘ تھا اس لیے اگر مجھ سے ذرا سی بھی چوک ہوتی تو وہ مجھے خود گولی ماردیتے۔ انہوں نے مجھے ’ڈی‘ کمپنی دینے کا فیصلہ کیا، ڈی سے مراد ’’ڈیلٹا‘‘ ہوتا ہے لیکن وہ اسے ’’ڈیزرٹر‘‘ یعنی بھگوڑا کمپنی کہتے تھے کیوں کہ اس کے 25جوان بغیر چھٹی کی درخواست کے غیر حاضر تھے۔ انہوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس کمپنی کی کمانڈ کے لیے مجھے موزوں سمجھا تھا۔ 
میرے سینئر جے سی او(جونیئر کمیشنڈ آفسیر) صوبے دار محمد خان کو صوبے دار میجر نے ٹھیک طرح سمجھا دیا تھا، وہ بحث کرتا اور میری بات نہیں مانتا تھا، جیسا کہ  ایسے حالات میں جے سی اوز ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ میں نے اسے کہہ دیا کہ مجھے تمہاری ضرورت نہیں اور تم سی او کو رپورٹ کرو۔ شام گئے تک وہ وہیں ٹہلتا رہا اور جب میں نے کمپنی کے ایک ایک فوجی سے بات چیت مکمل کرلی تو وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے اور آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ واقعی ایسا ہوا۔ بلکہ جب مجھے (بغیر کسی وجہ کے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت) فوج سے برخاست کردیا گیا تو اس نے بھی صوبے دار بننے کے امکان کے باجود ملازمت جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ 
خوش قسمتی سے 44پنجاب میں مجھے بہترین افسران اور جوان ملے، ان میں  کیپٹن(بعد ازاں میجر) طارق نصیر، کیپٹن(بعد ازاں میجر جنرل فہیم اختر خان اور سیکنڈ لیفٹیننٹ(بعدازاں میجر) حنیف بٹ سب سے نمایاں تھے۔ 3دسمبر 1971ء کو جب جنگ شروع ہوئی تو 60بریگیڈ اور 33ڈویژن کا حصہ ہونے کے سبب ہمارا خیال تھا کہ ہمیں  جیسلمیر کو ہدف بنانے کے لیے بھارتی حدود کے صحراؤں میں اندر تک جانے کا کہا جائے گا۔ لیکن یہ بس ہمارا خیال ہی رہا اور ہمیں ٹرکوں اور ریل گاڑی کے ذریعے فضائی مدد کے بغیر جنوب میں میرپورخاص کی جانب جانے کے احکامات ملے۔ بھارت چھور اور عمر کوٹ ہتھیانا چاہتا تھا اور اسی لیے ’’گرین بیلٹ‘‘ میں داخل ہوچکا تھا۔ ہمیں عمر کوٹ اور چھور میں تعینات 18ڈویژن کی 55بریگیڈ کی کمک کے لئے پہنچنا تھا اور ہم مسلسل فضائی حملوں سے بچتے بچاتے پیدل ہی وہاں پہنچے تو دیکھا کہ  55بریگیڈ کی حالت دگر گوں ہوچکی تھی‘ اسی پیش قدمی کے دوران 12دسمبر 1971ء کو عمر کوٹ کے نزدیک  44پنجاب نے مشین گن سے دو بھارتی جنگی طیارے ، غالباً ایس یو سیون، مار گرائے ۔ ان میں سے ایک میری کمپنی نے شکار کیا۔ 
جب تک ہم چھور کے نزدیک 40فیلڈ رجمنٹ جس کی کمان میجر(بعدازاں میجر جنرل) حامد نیاز کررہے تھے، وہ بھی ہوا باز تھے) کی بیٹری  گن پوزیشن پہنچے تو وہ پیدل دستوں کے بغیر اپنے سامنے چٹانوں پر بمباری کررہے تھے۔  بنیادی ہدایات کے برخلاف ، ہمارا ’آرڈرز (او) گروپ‘ گن پوزیشن سنبھال چکا تھا اور سنوہی پہاڑی ، جہاں ہمارے خیال میں دشمن موجود تھا، درمیان شب آگے بڑھنے کے لیے دو کمپنیاں تشکیل دی گئیں۔ میجر حامد نیاز نے ہمیں چائے کا مگ دیا اور بڑی خوش مزاجی سے کہا کہ چائے پی لو کیوں کہ جلد ہی تم لوگ ’’شہید‘‘ ہونے والے ہو۔ 13دسمبر 1971ء کو صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب، توپوں کی گھن گھرج میں، کرنل تاج سنوہی پہاڑی پہنچے اور مجھے محاذ ہی پر میجر کے عہدے پر ترقی دی گئی، اپنے شانوں پر لگے کراؤنز اتار کرے میری کاندھوں پر لگا دیے۔ اس دن کا طلوع آفتاب کا منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میرے لیے وہ ایسا لمحہ تھا جسی مجھے شدت سے آرزو رہی تھی۔ فوری طور پر انہوں نے ڈیلٹا کمپنی کو ’’سہگل‘‘ کمپنی کا نام دے دیا، (مجھے فخر ہے کہ آج بھی 48برس گزر جانے کے بعد یہ کمپنی میرے نام سے موسوم ہے)۔ آج بھی 4سندھ میں اس کمپنی کی سنہری حروف میں لکھی تختی موجود ہے، اگرچہ آج تک کسی کو یہ سمجھ نہیں آسکا کہ یہ منفرد اعزاز کیوں دیا گیا۔
دورِ امن میں تاج کئی مرتبہ ناقابل برداشت ہوجاتے تھے لیکن جنگ میں ان کی شگفتہ مزاجی حیران کن ہوتی تھی۔ 13دسمبر 1971ء کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کی طرح میرا خیال رکھا۔ میں میجر جنرل(بعد ازاں جنرل) اقبال خان کی مہربانیوں کا قرض بھی نہیں چکا سکتا، وہ دسمبر 1971ء کے آخر میں میرے جی او سی بنے(وہ ڈائریکٹر ملٹری انٹیلی جینس بھی تھے)۔  جنگ کے فوری بعد عمر کوٹ میں ایک ڈیزرٹ بیٹل اسکول قائم کیا گیا جس کا کمانڈنٹ ’لالہ‘ فاروق تھے اور مجھے چیف انسٹرکٹر(سی آئی) بنایا گیا۔ یہ چھور میں ایک مستقبل اسکول بن اور چھور چھاؤنی بن چکا ہے۔ دھورو نارو کے مین ڈریسنگ اسٹیشن(ایم ڈی ایس) میں مجھ سے ہولناک سلوک کیا جاری تھا کہ جولائی 1972ء میں تاج نے مجھے( حسب معمول ایم ڈی ایس کے سی او، جنھوں نے مجھ پر میدان سے بھاگنے کا الزام بھی عائد کیا،   اجازت کے بغیر) حیدرآباد میں انٹرنل سیکیورٹی کے لیے طلب کرلیا۔ لسانی فسادات کے دوران کئی ماہ ہم وہاں تعینات رہے۔ میری کمپنی جامشورو اور کوٹری کی نگرانی پر مامور تھی اور ہمیں صدر ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے براہ راست ہدایات دی جاتی تھیں۔ 
میجر جنرل(ر) فہیم اختر خان کے مطابق ’’بریگیڈیئر تاج کی تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں بالائی دیول شریف ، تہ مری میں  ہوئی۔ جنازے کا بہت بڑا اجتماع ہوا جس میں دور دراز علاقوں سے لوگ اس عظیم سپاہی کو خراج تحسین پیش کرنے اور الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے۔
(جاری ہے)
 اﷲ ان کی مغفرت فرمائے، بریگیڈیئر تاج 1971ء کی جنگ اور بلوچستان میں شورش کے خلاف آپریشن میں (44پنجاب جسے بعدازاں تشکیل نو کرکے 4سندھ رجمنٹ کردیا گیا) ہمارے کمانڈنگ آفیسر رہے۔ فوج میں اپنی38سالہ خدمات کے دوران مجھے کئی کمانڈنگ افسران کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ کسی کو  ان جیسا باصلاحیت نہیں پایا۔ دوران ملازمت جن لوگوں سے ملنے کا موقعہ ملا وہ ان سب میں نمایاں تھے۔ ان کے ماتحت خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ وہ خود بھی انتہائی ایمان دار، بااصول اور بے باک انسان تھے اور اپنے ماتحتوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے۔ دانستہ یا نادانستہ ہونے والی غلطیوں کے بارے میں سچ بولنے والوں کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ اعلیٰ افسران کو ان پر بے حد اعتماد تھا یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین محاذاور کام ہماری فورمیشن کے ذمے لگائے جاتے تھے۔ بہت کم ہی ایسا ہوتا کہ کوئی فرد ہمشہ بحران میں یکساں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔  1965ء کی جنگ، مشرقی پاکستان آپریشن، 71کی جنگ، بلوچستان میں شورش کے خاتمے کے لیے ہونے والے آپریشن جس میں انہوں نے بریگیڈ کی کمان کی، بریگیڈیئر تاج نے ان سبھی مواقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اﷲ رب العزت ان جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین‘‘ 
ستمبر 2002 ء میں ڈیفنس جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں بریگیڈیئر تاج نے اپنے حالات زندگی کی تفصیلات بتائی تھیں،جو  یہاں نقل کی جارہی ہیں:’’ میرا تعلق مری تحصل کے ایک بڑے قبیلے ’دھند‘‘ سے ہے جس کا سلسلہ نسب رسول کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ سے جا ملتا ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے یہاں کہ لوگ اپنے نام کے ساتھ عباسی لگاتے ہیں۔ میں نے ابتدئی تعلیم اپنے گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی اس کے بعد قریبی گاؤں اوسیاہ  میں قائم  مڈل اسکول چلا گیا۔ اس گاؤں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آج یہاں خواتین کی شرح خواندگی پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ محکمہ تعلیم اس بات کی تصدیق کرچکا ہے۔ 1944 ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول مری سے میٹرک کیا۔ ان دنوں میں سفر بہت دشوار تھا۔ مری میں ہائی اسکول تک آنے کے لیے ہمیں 20میل پیدل چلنا پڑتا تھا۔ 
اسکول میں میرے اکثر قریبی ہم جماعت اور دوست فوج میں بھرتی ہوئے۔ ان میں جنرل محمد ریاض خان، ایئر کموڈور خاقان عباسی، کرنل صالح اور کرنل حفیظ شامل ہیں۔ مرحوم خاقان عباسی 1985ء میں سیاست میں آگئے اور عام انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر پیدوار بنے۔ وہ ذہانت اور درد مندی رکھنے والے باصلاحیت لیڈر ثابت ہوئے۔ مری کے کوہساروں، کوٹلی ستیاں  اور کہوٹہ کے پورے علاقے میں انہیں سیاسی عروج حاصل ہوا اور اپنے ہم عصروں میں ممتاز حیثیت حاصل کی۔ 10اپریل 1988ء کو اوجھڑی کیمپ دھماکے میں ان کی کار سے ایک میزائل ٹکرا گیا اور ان کی حادثاتی موت کے ساتھ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا۔ یہ ایک ناقابل تلافی ذاتی نقصان تو تھا ہی لیکن خاقان عباسی کی موت سے پورے ملک کو صدمہ پہنچا اور پہاڑوں پر بسنے والے ایک قابل رہنما سے محروم ہوگئے۔ 
میں نے 1949ء میں او ٹی ایس میں شمولیت اختیار کی، ہمارا پلاٹون کمانڈر ایک گورا کیپٹن تھا۔ میں فوج سے گیا تھا اس لیے مجھے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں پریشانی نہیں ہوئی۔ میں نے ٹاپ کیڈٹ کے طور پر فراغت حاصل کی۔ 
میں فرسٹ پنچاب رجمنٹ کے ساتویں بٹالین میں شامل ہوا۔ میرے گاؤں کے چند بزرگ بھی اس رجمنٹ کا حصہ رہ چکے تھے۔ یہ اپنی رجمنٹ کا  نہایت  عمدہ بٹالین سمجھا جاتا تھا اور میں ایک اچھا افسر بننا چاہتا تھا۔ 
جب میں یونٹ میں شامل ہوا تولیفٹیننٹ   اقبال، لیفٹیننٹ عثمان اور لیفٹیننٹ نادر پہلے سے وہاں موجود تھے۔ او ٹی اسی سے میں اورلیفٹیننٹ سہراب بعد میں یونٹ میں شامل ہوئے۔ بدقسمتی سے لیفٹیننٹ اقبال ژوب ملیشیا کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہوئے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں نشانہ بن گئے۔ عثمان، نادر اور سہراب بطور میجر فوج سے سبکدوش ہوئے۔ 
6ستمبر کو جب پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو میرے یونٹ کو ضلع تھرپارکر میں کھوکھرا پار سرحد پر تعینات کیا گیا۔ کراچی سے لے کر سندھ کے چپے چپے کے عوام بھارتی جارحیت کے خلاف ملکی دفاع کے لیے پُرعزم اور متحد تھی۔ 
اس جذبے نے فوج کے حوصلے بلند کردیے تھے اور سپاہی دفاع وطن کی خاطر خون کا آخری قطرہ بہانے کے لیے تیار تھے۔ مجھے کھوکھرا پار سے سولہ میل کے فاصلے پر واقع شکربو چوکی بھارتی قبضے سے واگزار کروانے کا ہدف سونپا گیا۔ میے پاس رائفل کمپنی اور مارٹر توپوں کا چھوٹا دستہ تھا۔میری کمپنی حملے کی اگلی ہی صبح سورج کے پہلی کرن پھوٹتے ہی شکربو کے کے نواح میں پہنچ کر کام یاب کارروائی سرانجام دے چکی تھی۔ بھارتی اپنی چند لاشیں چھوڑ کر میدان سے فرار ہوگئے اور چوکی واپس حاصل کرلی گئی۔ شکربو پہنچتے ہیں مجھے بھارتی سرحد میں واقع کھرین پوسٹ پر کچھ نقل و حرکت نظر آئی اور میں نے فوراً ہی اس پر حملے کا منصوبہ بنایا جس میں ایم جی ایس اور آر آر ایس کے ساتھ سولہ جوانوں کا دستہ بھیجا گیا۔ بغیر کسی مزاحمت کے ہم نے اس چوکی کا قبضہ حاصل کرلیا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے دشمن کے دو ٹینک  دو رائفل کمپنیوں کے ہمراہ اس چوکی کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ ہم نے فوری مشین گن سے فائرنگ شروع کردی۔ کمانڈر آر آر لانس نائیک خوشی محمد نے ایک ٹیک کو تباہ اور دوسرے کو ناکارہ کردیا۔ میں  نے پیش قدمی جاری رکھنے والوں کو مشین گن اور مارٹر کی مسلسل فائرنگ سے نشانہ بنانا شروع کیا اور حملہ آور کئی لاشیں اور دو ٹینکوں کا ملبہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مجھے اور لانس نائیک خوشی محمد کو اس کارکردگی پر ستارۂ جرات تمغہ جرات سے نوازا گیا۔ یہ عسکری تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا جس میں سولہ نفر پر مشتمل مختصر دستے نے نہ صرف دو ٹینک تباہ کیے تھے بلکہ دو ٹینکوں اور دو انفینٹر کمپنیوں جوابی حملے کو بھی ناکام بنادیا تھا۔
 شکربو چوکی رینجرز کے حوالے کرنے بعد میں ڈالی آپریشن کے لیے بٹالین میں چلا گیا۔ میری کمپنی نے دشمن کے عقب میں اونچے مقام پر قدم جمانا تھے۔ ہم نے اے اور سی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ڈالی پر قبضے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ ہمیں فضائی مدد فراہم کرنے والے دو جنگی طیارے بے جگری کے ساتھ آگے بڑھے۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور ایم کے عباسی خود ایک طیارہ اڑا رہے تھے۔ فضائی حملے میں نہ صرف دشمنوں کی گولہ بارود سے بھری ٹرین تباہ ہوئی بلکہ انھیں بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شام ڈھلے فلک شگاف نعروں کے ساتھ حملے کا آغاز ہوا اور مکمل طور پر کام یاب رہا۔ ڈی کمپنی کی مدد سے ڈالی کو خالی کروالیا گیا۔  پہلے ہی یہ کمپنی جاسو(جوپر) کی جانب سے ہونے والے جوابی حملے کو ناکام بنا چکی تھی۔ ڈی کمپنی  اور رائفلز اور مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور ایک سپاہی  دشمن کو للکارتا رہا ’’مورچوں سے نکل آؤ ورنہ ہم تمہارا قیمہ بنا دیں گے‘‘۔ دشمن نے ہتھیار ڈال دیے اور  سات افسران ، 12جے سی اوز اور متعدد سپاہیوں کو قیدی بنالیا گیا۔ ان کا تعلق 5مراٹھا اور 17مدراس سے تھا۔ 18پنجاب نے ان کے تین ٹینک قبضے میں لے لیے جو بعد میں بھارتی فوج کے خلاف تین آپریشنز میں استعمال ہوئے۔ یہ بٹالین کی بہترین کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعد 18پنجاب کلران کا تلاؤ کی جانب متوجہ ہوئی۔ یہاں بھارتی فوج رینجرز کی کئی چوکیوں پر قابض ہوچکی تھی، 18پنجاب کو کلران کا تلاؤ واگزار کروانا تھا، بٹالین کے اس علاقے میں پہنچتے ہی بھارتیوں نے رینجرز پوسٹ پر حملہ کردیا، ڈی کمپنی نے پیش قدمی جاری رکھی اور جوابی وار کیا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور دشمن اپنی لاشیں اور زخمی میدان میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ حملہ کرنے والی 3گڑھوال  جنگ کے باقی عرصے اپنے زخم ہی چاٹتی رہی اور اسے پاک فوج کی جانب نظر اٹھانے کی جرات بھی نہیں ہوئی۔ 1965ء کی جنگ میں گدرا چھاچھر کے ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج کے دو بریگیڈز کے مقابلے میں یہ اس بٹالین کی کامیابی تھی۔ 
44پنجاب نے دشمن کے فضائی حملوں کے باوجود تیزی سے حرکت کی اور چھور میں دفاع کو کمک پہنچائی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے انتہائی لائق اور قابل افسران کا ساتھ حاصل ہوا۔ ان میں سے چند کے نام میں پہلے ہی ذکر کرچکا ہوں۔ ان میں سے خاص طور پر میجر(ر) اکرام سہگل، میجر جنرل فہیم، کیپٹن(ر) طارق اور بریگیڈیئر افتخار مہدی سے آج بھی رابطہ قائم ہے۔ ان افسران نے اپنے دورِ جوانی کا کچھ حصہ میرے ساتھ گزارا ہے، اس وقت میں بھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا تھا۔ میں انھیں ہمیشہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہوں اور جب تک میں زندہ ہوں یہ تعلق اسی طرح قائم رہے گا۔ ان شاء اﷲ۔ ‘‘
جنرل ضیاء الحق نے اپنے پورے دور میں دہرے معیارات برتے۔ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ تھے۔ افغان جنگ نے انہیں اقتدار کو طول دینے کا بہانہ فراہم کیا۔ فوج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے جنرل ضیا نے اپنے من پسند اور تابع دار افسران کو ترقیاں دیں۔ اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیے ہر فوجی آمر یہی حربہ استعمال کرتا ہے۔ 
ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصے مری کہوٹہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایم کے ڈی اے) کا ڈی جی رہنے کے بعد میں نے گزر بسر کے لیے مری میں ایک ہوٹل کھولا۔ ہوٹل  مقامی تجارت اور کاروبار کا سب سے بڑا شعبہ تھا، میں بھی اب اسی کا حصہ تھا اس لیے اس کاروبار سے منسلک نمایاں افراد اکثر مجھ سے ملنے آیا کرتے  اور کئی کاروباری مسائل پر بات چیت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی یونین کی صدارت قبول کرنے کے لیے مجھ سے اصرار کرنا شروع کردیا۔ جتنا ممکن ہوا میں مزاحمت کرتا رہا اور انکاری رہا لیکن بالآخر مجھے یہ عہدہ قبول کرنا پڑا۔ اس عہدے کے باعث مجھے دیگر کاروباری، سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان سے میل ملاپ کا موقع ملا جو 1998ء کے گرما میں جابرانہ ٹیکسوں کے نفاذ کے شدید مخالف تھے۔ 
بدقسمتی سے ایک مشہور سیاحی مرکز ہونے کے باوجود مری پر ٹول ٹیکس، پارکنگ فیس جیسے کئی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ حکام عوامی رائے کی پروا کیے بغیر پہلے سے عائد شدہ ٹیکسوں میں بیک جنبش قلم اضافہ کردیتے ہیں۔ 1998ء میں بلدیہ کے گرد چار چوکیوں پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جس میں7روپے کا اضافہ کرکے اسے 50روپے فی گاڑی کردیا گیا۔ پورے ملک میں ایسے فیصلے کی نظیر نہیں ملتی تھی اور اس فیصلے کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں، سیاحوں اور مقامی آبادی کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ اگرچہ مقامی لوگوں کو ٹول ٹیکس سے استثنی حاصل تھا لیکن اس کے لیے پرمٹ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ 
ہم نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ رسائی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ حکام نے ہمیں بتایا کہ ٹیکس میں اضافے کے احکامات براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جاری کیے ہیں اور ان پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ اکثر مری آیا کرتے تھے، ہم نے ان سے کئی بار ملنے کی کوشش کی لیکن کسی نے ہمیں ان کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔ یہ بے لچک رویہ مصیبت کودعوت دینے کے مترادف تھا۔ صورت حال کی گرما گرمی بڑھنے لگی اور ایک دن چھتار سے کوہالا تک پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔ یہ ہڑتال دو ہفتے تک جاری رہی۔ ان دوہفتوں کے دوران سڑکیں ویران، بازار بند رہے اور علاقے میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی۔ یہ عرصہ عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل تھا کیوں کہ کھانے پینے کی اشیا سمیت کسی شے کی خرید وفروخت مکمل طور پر بند تھی لیکن حکمرانوں کو اس کی کب فکر تھی۔ اخبارات میں اس صورت حال کی بڑیے پیمانے میں رپورٹنگ ہوئی اور صوبائی حکومت ہل کر رہ گئی اور بالآخر حکومت احتجاج کرنے والوں کی قیادت کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوگئی۔ 
مجھے ان مذاکرات کی قیادت کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ ایک غیر معمولی تجربہ تھا اور پہلی بار مجھے اندازہ ہوا کہ شہری اگر پُر عزم ہوں اور انھیں اچھی قیادت میسر آجائے تو وہ انصاف اور درست راستے پر چلتے ہوئے اپنا ہدف حاصل کرنے میں تربیت یافتہ فوج سے کسی طرح کم نہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ کرنل تاج کو 1965 ء میں ستارۂ جرات سے نوازا گیا اور اور 1971ء میں ایک بار پھر یہی اعزاز دیا گیا۔ ایک مضمون میں بریگیڈیئر تاج کی جنگی کامیابیوں کا احاطہ ممکن نہیں۔ انہوں نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہمارے حوصلے جس انداز میں بلند رکھے اور جوش و جذبے برقرار رکھنے کے لیے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، اس کے احساس محاذ پر لڑنے والے ہی کرسکتے ہیں۔  فوج اور اس ملک پر پاکستان کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں تاج جیسے افسران کی پذیرائی لازم ہے جنھوں نے کشمیر سے کَچھ تک اپنے ماتحت یونٹس ، سب یونٹس اور فورمیشنز کو میدان جنگ میں متحد اور یکسو رکھا۔ دشمن کے وار کو اپنے سینے پر روکنے کے لیے تیار رہے لیکن کسی سے اس کا صلہ نہیں مانگا۔‘‘  جس نے کبھی محاذ کی ہنگامہ خیزی میں لپکتے شعلے نہیں دیکھے، بارود کی بو میں سانس نہیں لیا ، آسمان پر رقصاں موت نہیں دیکھی وہ بریگیڈیئر تاج جیسے سورماؤں کو سمجھنے اور ان کی تحسین کرنے کے قابل کیسے  ہوسکتا ہے؟ (کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)