08:41 am
پاک فوج کی شہادتیں، اشرف غنی کا جرگہ

پاک فوج کی شہادتیں، اشرف غنی کا جرگہ

08:41 am

٭افغانستان کی سرحد پر میجر اور سپاہی شہیدO کابل لوئی جرگہ، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی کی شرکتO آزادی مارچ ہر حالت میں ہو گا:فضل الرحمنO ریونیو بورڈ پنجاب پر کھٹمل چھا گئےO لیاقت قائم خانی، اثاثوں کی تعداد دس ارب ہو گئی۔ تجوری کھل گئی، 15 کروڑ کے زیورات، دوسری بیوی کا انکشاف۔
 
٭افغانستان کی سرحد پر باڑ لگاتے ہوئے بارودی سرنگ پھٹنے سے پاک فوج کے میجر عدیل شاہ اور سپاہی فراز حسین مہمند شہید ہو گئے۔ یہ سرنگ افغانستان کے بھارت نواز دہشت گردوں نے نصب کی ہوئی تھی۔ یہ سانحہ اس وقت ہوا جب افغانستان صدر اشرف غنی کابل کے لوئی جرگہ (قومی اسمبلی کا بڑا اجلاس) سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر کو امن سے رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔ اس جرگہ میں اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی بھی شامل تھے۔ انہیں اشرف غنی نے خصوصی دعوت پر بلایا تھا۔ لوئی جرگہ میں قومی اسمبلی کے ارکان اور غیر منتخب سردار اور اہم سیاسی رہنما شریک ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی خاص مواقع پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس بار اس کے ایجنڈے میں شامل اہم ترین شق یہ تھی کہ ’’پاکستان اور ایران کی جنگجو تنظیمیں افعانستان میں دہشت گردی کر رہی ہیں‘‘18 ستمبر سے شروع ہونے والے سہ روزہ جرگے میں اس آئٹم پر سب سے زیادہ بحث ہوئی اور پاکستان پر کھل کر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ جرگہ میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پاکستان کے کہنے پر امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں افغانستان کی حکومت کو شریک نہیں کیا گیا۔ جرگہ میں مطالبہ کیا گیا کہ آئندہ مذاکرات افغان حکومت کی زیر قیادت کرائے جائیں۔ ایک بار پھر دہراتا ہو ںکہ اس جرگے کا اہم ترین موضوع یہ تھا کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم یہی موضوع لے کر جنرل اسمبلی میں گیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے! پاکستان کے خلاف کابل کے جرگے میں پاکستان سے آفتاب شیر پائو کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ان کی شرکت کی کوئی خبر دیکھنے میں نہیں آئی۔
٭سندھ کے وزیراعلیٰ نے بالآخر تسلیم کر لیا کہ کراچی سندھ کا شہر ہے اور اس کی صفائی ستھرائی سندھ حکومت کی ہی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ حکومت کچرا (لاکھوں ٹن) خود صاف کرے گی۔ اس مقصد کے لئے پانچ کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اتنے بڑے کام کے لئے پانچ کروڑ روپے کی رقم بہت معمولی حیثیت رکھتی ہے! چلیں یہی سہی مگر زرداری خاندان کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی 11 سال کی حکومت نے کراچی کے کچرے کے ڈھیر کیوں صاف نہ کرائے؟ ویسے سندھ کے اور کون سے کام سنوارے ہیں؟ صوبے میں کتوں کے کاٹنے کی دوا نہیں۔ دوا منگوانے کی بجائے کتے مارنے کا حکم جاری ہو گیا ہے۔ وہی مثال کہ سرکاری اہلکاروں نے کنوئیں کا پانی تو نکال دیا، اس میں پڑے ہوئے مردہ جانور کو نہیں نکالا! کتے تو ایک دن میں مارے جا سکتے ہیں، دوا پھر بھی نہیں آئے گی۔ مگر اس معاملہ میں تو پنجاب کو حکومت دو ہاتھ آگے ہے۔ گزشتہ روز اس کی خاتون وزیر صحت نے صاف کہہ دیا کہ کتے کے کاٹے جانے کی دوا ختم ہو چکی ہے۔ یہ دوا صرف ایک کمپنی سے خریدی جاتی تھی (صرف ایک سے کیوں؟) اس سے معاہدہ ختم ہو گیا ہے (کینسر کی دوا بھی ختم ہے) پتہ نہیں بلوچستان اور ’’ہر فن مولا‘‘ خیبر پختونخوا کا کیا حال ہے جہاں تیز بس کا منصوبہ گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ نگلی جائے نہ اگلی جائے! اربوں روپے نجی تجوریوں میں پہنچ گئے، منصوبہ وہیں کا وہیں! ایک پرانی کہاوت یاد آ گئی کہ  ’’بات پاواں، بتونی پاواں، بات نوں لگے موتی، موتی موتی جھڑ گئے، بات رہی کھلوتی‘‘ (ترجمہ: مکئی کے بُھٹے (چھلی)کو موتی لگے ہوئے تھے، سب جھڑ گئے، چھلّی وہیں کی وہیں رہ گئی!‘‘ بات وزیراعلیٰ سندھ سے شروع ہوئی اور مکئی کے بُھٹے تک پہنچ گئی! بات میں سے بات اسی طرح نکلا کرتی ہے!ساری خوبیاں موجود تھیں
٭پنجاب میں وکلا کے نگران ادارہ ’’پنجاب بار کونسل‘‘ نے بتایا ہے کہ مختلف عدالتوں میں مقدموں میں پیش ہونے والے 349 جعلی وکیلوں کے خلاف مقدمے درج کرا دیئے گئے ہیں۔ یہ لوگ سائلین سے بھاری فیسیں لے کر مقدمات لٹکاتے ہیں اور جعلی گواہ اور جعلی مقدمے درج کراتے ہیں اور شریف لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں! جعلی وکیلوں کا معاملہ تو ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان کی بہت سی وارداتیں میرے علم میں ہیں۔ ایک خاتون وکیل کا بی اے پاس شوہر ایک  ایسی ہی واردات پر موقع پر پکڑا گیا تھا۔ جعلی وکیل تو عام بات ہے یہاں تو ایک بڑے نام کا صحافی جعلی مجسٹریٹ بن کر ٹرکوں پر چھاپے مارتا موقع پر پکڑا گیا، ایک رات حوالات میں رہا، اگلے روز باعزت رہا ہو گیا! سارا جسم ہی زخم زخم ہے، کس جگہ دوا لگائی جائے (مرزا غالب)!
٭ایک اخباری خبر: برطانیہ کے شہزادہ ولیم 14 اکتوبر سے 18اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔
٭کراچی کے مالی (بعد میں ڈائریکٹر جنرل پارکنگ) لیاقت قائم خانی کے بارے میں مزید انکشافات: اثاثے 10 ارب تک پہنچ گئے۔ نیب کے سامنے خود تجوری کھولی، 16 کروڑ کے زیورات، 500 ایکڑ زمین وغیرہ کے کاغذات نکل آئے۔ ایک اور بیوی کا بھی پتہ چلا۔ اس کے گھر سے بھی تین قیمتی گاڑیاں (لینڈکروزر وغیرہ) اور زیورات وغیرہ نکل آئے۔ اس شخص کو ایک میئر نے مالی مقرر کیا، دوسرے نے مشیر بنا لیا۔ پھر وہ ڈائریکٹر جنرل پارکس بن گیا۔ کاغذوں میں 71 جعلی پارک، بہت سی جعلی کمپنیاں بنائیں! پتہ نہیں صدر کے عہدے کا انتخاب کیوں نہیں لڑا؟ بآسانی جیت سکتا تھا!
٭ایک غیربوجھل خبر: پنجاب کے ریونیو بورڈ پر کھٹملوں نے یلغار کر دی ہے۔ پرانے فرنیچر، فائلوں کے ڈھیروں وغیرہ میں ہزاروںلاکھوں گھومتے پھرتے ہیں۔ خبر کے مطابق بورڈ کے اہلکار سارا دن مارتے رہتے ہیں پھر بھی ختم نہیں ہوتے، اتنے ہی اور نکل آتے ہیں۔ کھٹمل عجیب مخلوق ہے۔ ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ بعض سرد ممالک میں نہیں ہوتی تھی، طیاروں کے ذریعے وہاں بھی پہنچ گئی ہے۔ بہت سخت مخلوق ہے۔ اس پر مچھر مارنے والی دوائیں اثر نہیں کرتیں۔ کھٹمل کے دانت نہیں ہوتے۔ تنکے کی طرح لمبی سی چونچ ہوتی ہے۔ اس کا ڈنک مچھر کے ڈنک سے کئی گنا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جسم سے چمٹ جائے تو ہٹانا ممکن نہیں ہوتا۔ کسی طرح ہٹا دیں تو اس جگہ دوسرے کھٹمل پہنچ جاتے ہیں۔ روشنی سے گھبراتا ہے اور بھاگ کر چھپ جاتا ہے۔ پرانی چارپائیوں کے جوڑوں میں اورقالین کے نیچے چھپا رہتا ہے۔ کسی شخص کے سامان کے ساتھ ایک کھٹمل بھی کسی بستی میں پہنچ جائے تو بستی کھٹملوں سے بھر جاتی ہے۔ اس کے جسم کے تین حصے، چھ ٹانگیں ہوتی ہیں۔ کھٹمل کا رنگ سیاہ ہوتا ہے خون چوس کرپیٹ بھر جائے تو رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں کھٹمل سبز رنگ کا ہوتا ہے خاص بات یہ کہ کھٹمل’شریف‘ کیڑا ہے۔ خون چوستا ہے مگر مچھر کی طرح بیماری نہیں پھیلاتا۔ پیٹ بھرنے میں 15 منٹ لگتے ہیں۔ جہاں کاٹتا ہے وہاں سرخ نشان اور ابھار بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کی دریافت ہے کہ کھٹمل انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ایک چارپائی سے دوسری پر چلے جائیں، وہاں بھی پہنچ جائے گا اس لئے مشورہ دیا گیا ہے کہ ایک ہی چارپائی پر رہیں۔ جیسا پہلے بتایا ہے کہ کھٹمل پر مچھر مارنے والی جتنی مرضی دوائیں چھڑک دیں، کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اسے مارنے کا ایک علاج یہ ہے کہ کھٹملوں والی جگہ پر تیز گرم پانی ڈالیں۔ چارپائی یا قالین تیز دھوپ میں رکھ دیں۔ الماریوں اور کاغذوں کے ڈھیروں میں چھپے کھٹمل مارنے کا آسان ترین طریقہ دو چمچ واشنگ پائوڈر، دو چمچے ڈیٹول، دو گلاس پانی میں ڈال کر سپرے بوتل سے سپرے کریں، چند سیکنڈوں میں سارے کھٹمل مر جائیں گے۔ ایک بات! پتہ نہیں بعض لوگ تفریح کے طور پر ایک دوسرے کو کھٹمل کیوں کہتے ہیں۔؟