07:23 am
آرامکو حملہ،امریکی ڈیپ اسٹیٹس ‘ حوثی یا ایران؟

آرامکو حملہ،امریکی ڈیپ اسٹیٹس ‘ حوثی یا ایران؟

07:23 am

ستمبر کو اوصاف نے میرا کالم ’’سعودی ولی عہد کو درپیش سیکورٹی خدشات‘‘ شائع کیا تھا۔
14 ستمبر کو اوصاف نے میرا کالم ’’سعودی ولی عہد کو درپیش سیکورٹی خدشات‘‘ شائع کیا تھا۔ تاحال اس موقف پر قائم ہوں خود ولی عہد امریکی و مغربی ڈیپ اسٹیٹس کے نشانے پر ہیں ، شاید رہیں گے بھی۔ انہیں اور شاہ سلمان کو آل سعود شہزادوں کو بھی ، ذاتی سیکورٹی کے حوالے سے امریکی سیکورٹی پر مکمل انحصار کی بجائے سعودی فوج، نیشنل گارڈز اور جنرل راحیل شریف کے مشوروں پر عمل کرنا ہوگا۔ امریکی سفیر جنرل (ر) ابی زید کی حرکات و سکنات کا طویل مدتی مطالعہ کرتے رہنا ہوگا۔
سعودیہ کے جغرافیے کا ٹکڑے ٹکڑے کرنا نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ایجنڈا ہے۔ شاہ عبدالعزیز کے آخری عہد میں برطانیہ عظمیٰ نے نجد کو حجاز سے الگ کرنے کے لئے نجدی قبائلی سردار فیصل الداعش کو ہتھیار اور بہت دولت دی تھی۔ مغربی اور امریکی ڈیپ اسٹیٹس، سعودیہ کو ٹکڑے کرنے کا طویل مدتی ایجنڈا رکھتی ہیں کیونکہ اکیلا سعودیہ ہی تو اسلام کا مرکز ہے۔ حرمین شریفین کا وجود سعودی سرزمین پر عظیم ترین نعمت ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو کمزور ترین کرنا امریکی و مغربی حکمت عملی کا طے کردہ طویل مدتی قدیم منصوبہ ہے۔ شاہ فیصل کا قتل ان کے صنعت تیل کو مغرب مخالف بنانے کے سبب ہوا تھا۔ اب آرامکو تنصیبات پر میزائل۔ ڈ رونز حملے بھی شاہ فیصل کی تیل پالیسی کی طرح سعودی صنعت تیل و تجارت پر حملے ہیں۔ 
اگرچہ سعودی ترجمان نے جدہ میں ایرانی میزائل کو بطور شہادت پیش کیا ہے تاہم روسی صدر پیوٹن نے صدر روحانی، صدر طیب اردوان کی موجودگی میں امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو ناقص قرار دیا تھا۔20 ستمبر کو روسی وزارت دفاع نے روسی دفاعی نظام کی روشنی میں سعودیہ کو میسر امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام کے نقائص کھل کر بیان کر دیئے ہیں۔ اگرچہ سعودی موقف اور امریکی موقف یہ ہے کہ آرامکو پر ایرانی میزائل حملے کا مقصد دنیا کو پٹرول سپلائی سے محروم کرنا تھا۔ سعودی عرب سے تمام تر عشق اور محبت کے باوجود بھی میرا فہم آرامکو تنصیبات پر حملے کو صرف ایرانی حملہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز، باب المندب، جزائر الطنب الکبریٰ، الطنب الصغریٰ، ابو موسیٰ کا جائزہ لیتا رہا ہوں۔ ایرانی تیل کی فروخت پر امریکی پابندی۔ امریکی ڈیپ اسٹیٹس کی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی سیاست ہے۔ پینٹاگان ہی عملاً عرب مشرق وسطیٰ میں قابض عسکری قوت ہے۔ ایران یقینا اپنے انقلاب کی مسلکی توسیع سے عربوں کے انہدام میں مصروف رہا ہے مگر عرب انہدام تو امریکی و برطانوی ڈیپ اسٹیس کی مدد اور تعاون سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ اکیلا ایران یہ ہدف ہرگز حاصل نہ کر پاتا بلکہ عرب اس سے دلیری سے لڑتے۔ عربوں کی ایران کے سامنے پسپائی اور عدم دفاع صرف امریکی غداری ، مکاری، دھوکے بازی کے سبب ہوئی ہے۔ اگرچہ ایرانی توسیع پسندی ناپسند ہے مگر امریکی و برطانوی و مغربی ڈیپ اسٹیٹس کے کھیل کا مشاہدہ بھی عمدہ ترین سامان مطالعہ ہے۔ 
آبنائے ہرمز پر جو سیاست امریکہ نے کی وہ اصلاً ایران دشمن تھی ہی نہیں۔ میرا موقف تھا اور ہے کہ امریکہ و اسرائیل ہرگز ہرگز ایران کے حقیقی دشمن نہیں ہیں کیونکہ ایسا ایرانی وافر مقدار میں موجود مدبر یہودی ہونے ہی نہیں دیں گے بلکہ امریکی و برطانوی ڈیپ اسٹیٹس کو ایران کا اتحادی بنانا بھی ان ایرانی یہودیوں کے سبب ہی تو ممکن ہوا تھا۔
تجزیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے نام پر جو امریکی برطانوی میری ٹائم سیکورٹی بن رہی تھی اس کے مالی اخراجات عربوں سے اینٹھنے کے لئے امریکہ نے کوئی ڈرامہ تو کرنا تھا۔ بالکل نائن الیون کے ٹاور انہدام کی طرح۔ اگر ٹاور انہدام ہوئے تو افغانستان پر حملے کا راستہ کھلا، پھر افغانستان سے صدام پر حملہ اور ایرانی و امریکی قبضہ ہوا، سعودی عراقی سیاست کا مثبت کردار بھی مقتول ہوا تھا میں جنرل (ر) حمید گل مرحوم کے اس موقف سے متفق ہوں کہ نائن الیون کا واقعہ امریکی ڈیپ اسٹیٹس کا کیا دھرا تھا ورنہ اس دن سارے یہودی کیوں چھٹی پر تھے ٹون ٹاورز میں؟ یہی ڈ رامہ آرامکو تنصیبات پر امریکی و برطانوی ڈیپ اسٹیٹس نے کر ڈالا ہے اگرچہ ایرانی میزائل کا استعمال ہوگیا مگر آرامکو تنصیبات پر حملہ سنجیدہ ایرانی سوچی سمجھی حکمت ہو ہی نہیں سکتی۔ اب سعودیہ مجبوراً امریکی و برطانوی آبنائے ہرمز میری ٹائم سیکورٹی فورس کا حصہ بن گیا ہے۔ جس کے ردعمل میں روس بھی آبنائے ہرمز میں آئے گا تب ایرانی سعودی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگا۔
اگرچہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اب وہ ابوظہبی اور دوبئی کو نشانہ بنائیں گے مگر میرا خیال ہے اگر ایسا ہوا تو ایران خود کو بہت بڑی مصیبت میں پھنسائے گا، لہٰذا اگر سچ مچ حوثی آج بھی ایرانی ہدایات پر کاربند ہیں تو ایران حوثیوں کو امارات پر حملوں کی ہرگز اجازت نہیں دے گا بلکہ سعودیہ پر بھی حوثی حملے نہیں ہوں گے۔
ایک کالم نگار نے انگریزی کالم میں وزیر دفاع محمد کے مستعفی ہونے کی بات لکھی ہے۔ سعودی دفاع سے تین شخصیات وابستہ ہیں-1 وزیر دفاع محمد بن سلمان-2 نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان-3 ملٹری ایڈوائر میجر جنر ل طلال عبد اللہ۔ میری نظر میں مستقبل میں سعودی دفاع میں پاکستان کو زیادہ موثر کردار اداکرنا چاہیے اس حوالے سے ایرانی اعتراضات اور ناراضی کو بھی نظر انداز کرنا چاہیے۔ ہماری پارلیمنٹ نے ماضی میں سعودی دوست کی مدد میں رکاوٹ ڈال کر سعودیہ سے کہیں زیادہ پاکستانی مفادات کو تباہ کیا تھا۔ میری نظر میں پارلیمانی قرارداد بے وفائی، بدعہدی کا نام تھا۔ اگر ماضی میں پاکستان بروقت سعودی عسکری ضرورت پوری کر دیتا تو سعودیہ کا امریکہ پر عسکری انحصار بہت کم ہو جاتا یوں ہماری نادانی نے سعودیہ کو امریکی یرغمال بنا دیا ہے اس کا ازالہ ضروری ہے۔ جتنا پاکستان عسکری طور پرسعودیہ کے ساتھ کھڑا ہوگا اتنا ہی ایران و سعودیہ میں مفاہمت کا امکان پیدا ہوتا جائے گا۔امریکہ نے سعودیہ و امارات کی حفاظت کے لئے نیا فوجی دستہ بھیج دیا ہے۔ ویسے اس پہلو پر سوچیں کہ آرامکو حملے کے ذریعے پٹرولیم صنعت پر امریکہ کی اجارہ داری قائم ہو رہی ہے۔ امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزروجوکہ اصلاً سعودی ہے اور شیل صنعت کے ذریعے امریکی اجارہ داری قائم ہو رہی ہے۔ عرب سراسر نقصان میں چلے گئے ہیں۔
پس تحریر: صدر روحانی نے فوراً جس طرح حملے کو حوثیوں کا ردعمل کہا تھا اس سے حوثی وجود کو نیست و نابود کرنے کا جواز سعودیہ کے ہاتھ آگیا ہے صدر روحانی کو خود بولنے کی بجائے جواد ظریف کے ذریعے ایرانی موقف دینا چاہیے ۔
 

تازہ ترین خبریں