07:24 am
آ دابِ مرشد

آ دابِ مرشد

07:24 am

بیعت ارادت یہ ہے کہ مرید اپنے ارادہ و اختیار ختم کر کے خود کو شیخ و مرشد ہادیٔ برحق کے
(گزشتہ سے پیوستہ)
 بیعت ارادت یہ ہے کہ مرید اپنے ارادہ و اختیار ختم کر کے خود کو شیخ و مرشد ہادیٔ برحق کے بالکل سپرد کر دے، اسے مطلقاً اپنا حاکم و متصرف جانے،اس کے چلانے پر راہِ سلوک چلے، کوئی قدم بغیر اس کی مرضی کے نہ رکھے، اس کیلئے مرشد کے بعض احکام یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام، اگر اس کے نزدیک صحیح نہ معلوم ہوں تو انہیں افعالِ خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثل سمجھے اپنی عقل کا قصور جانے،اس کی کسی بات پر دل میں اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے۔
حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سفر کے دوران جو باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جن پر اعتراض تھا پھر جب حضرت خضر علیہ السلام اس کی وجہ بتاتے تھے تو ظاہر ہو جاتا تھا کہ حق یہی تھا جو انہوں نے کیا۔ غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہو کر رہے۔ یہ بیعت سالکین ہے، یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے، یہی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے لی ہے۔ (فتاویٰ افریقہ، ص۱۴۰)
جیسے سیدناعبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشواری ہر خوشی و ناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور صاحب حکم کے کسی حکم میں چوں و چرا نہ کریں گے۔
مرشد کامل کے 26اوصاف: حجۃ الاسلام امام محمدغزالی علیہ رحمۃ الوالی کامل مرشد کے اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نائب جس کو مرشد بنایا جائے، اس کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ عالم ہو لیکن ہر عالم بھی مرشد کامل نہیں ہو سکتا، اس کام کے لائق وہی شخص ہو سکتا ہے جس میں چند مخصوص صفات ہوں۔یہاں ہم اجمالی طور پر چند اوصاف بیان کرتے ہیں تاکہ ہر سرپھرا یا گمراہ شخص مرشد و رہبر بننے کا دعویٰ نہ کر سکے۔
آپ فرماتے ہیں کہ مرشد کامل وہی ہو سکتا ہے جو دنیا کی محبت اور دُنیوی عزت و مرتبے کی چاہت سے منہ موڑ چکا ہو۔ایسے مرشد کامل سے بیعت کر چکا ہو جس کا سلسلہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔اس شخص نے ریاضت کی ہو۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی تعمیل کا مظہر (یعنی احکامات الٰہیہ کی بجاآوری کے ساتھ ساتھ سنن نبویہ کی پیروی کرنے اور کروانے کی بھی روشن نظیر) ہو۔ جو شخص تھوڑا کھانا کھاتا ہو۔تھوڑی نیند کرتا ہو۔ زیادہ نمازیں پڑھتا ہو۔ زیادہ روزے رکھتا ہو۔خوف صدقہ و خیرات کرتا ہو۔اس کی طبیعت میںحلم،انکساری، فرمانبرداری، سچائی،حیاء،وقار،سکون اور اسی قسم کے دیگر فضائل اس کی سیرت و کردار کا جزو ہونے چاہئیں۔اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انوار سے ایسا نور اور روشنی حاصل کی ہو جس سے تمام بری خصلتیں مثلاً کنجوسی، حسد،کینہ،جلن،لالچ،دُنیا سے بڑی امیدیں باندھنا،غصہ،سرکشی وغیرہ اس روشنی میں ختم ہو گئی ہوں۔
علم کے سلسلے میں کسی کا محتاج نہ ہو، سوائے اس مخصوص علم کے جو ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا ہے۔یہ مذکورہ اوصاف کامل مرشدوں یا پیرانِ طریقت کی کچھ نشانیاں ہیںجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نابئی کے لائق ہیں، ایسے مرشدوں کی پیروی کرنا ہی صحیح طریقت ہے۔ امام غزالی علیہ الرحمۃ الوالی فرماتے ہیں:’’ایسے پیر بڑی مشکل سے ملتے ہیں،اگر یہ دولت کسی کو نصیب ہوئی اور یہ توفیق نصیب ہوئی کہ ایسا کامل مرشد مل گیا اور وہ مرشد اسے اپنے مریدوں میں شامل بھی کر لے تو اس مرید کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے مرشد کا ظاہری و باطنی اَدب کرے‘‘۔ 
حضرت جنید بغدادی علیہ رحمۃ الہادی فرماتے ہیں:’’اللہ عزوجل جسے نیکی عطا فرمانا چاہتا ہے اسے اپنے برگزیدہ بندوں کی خدمت میں بھیج دیتا ہے۔‘‘