07:25 am
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

07:25 am

روزنامہ اوصاف کی روز اول سے ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی
روزنامہ اوصاف کی روز اول سے ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے آواز بلند کی جائے‘ پاکستان کی سرحدات کے اندر رہنے والے خواہ کسی مذہب اور مسلک سے بھی وابستہ ہوں‘ جس سیاسی اور مذہبی جماعت سے بھی منسلک کیوں نہ ہوں‘ آئین پاکستان کے تحت زندگی گزارنے والے ہر پاکستانی کی آواز بننے کی اوصاف کی پالیسی کو ذمہ دار سیاسی اور مذہبی قائدین پہلے دن سے ہی سراہتے چلے آرہے ہیں۔
نظریہ پاکستان اور اسلام پسند اخبار کی شہرت روزنامہ اوصاف کے ماتھے کا وہ جھومر ہے کہ جس پر اوصاف کا ہر کارکن فخر کرتا ہے‘ نائن الیون کے ہلاکت خیز واقعات کے بعد جہاں امریکہ کی قیادت میں ایک طرف افغانستان کو خوفناک اسلحے کا نشانہ بنایا جارہا تھا تو وہاں دوسری طرف مشرقی تہذیب و تمدن اسلامی شعائر اور نظریہ پاکستان کو بھی بھارت کے بعض ’’فرزندوں‘‘ نے نشانے پر رکھ لیا۔
حکمرانوں کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں کے سبب پاکستان کو بم حملوں اور خودکش حملوں کا مرکز بنانے کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں‘ اب تو یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں نے اولیاء اللہ کے مزارات کو بھی نہ بخشا‘ امریکی اور بھارتی سازش یہ تھی کہ بزرگوں کے مزارات پر دھماکے کروا کر الزام دیوبند مکتبہ فکر پر لگا دیا جائے‘ کبھی دیوبندی کو بریلوی سے لڑانے‘ کبھی شیعہ کو سنی سے لڑانے کی غیر ملکی سازشیں جب عروج پر پہنچیں تو روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان کہ جو قبل از وقت ہی اس خوفناک سازش کو بھانپ چکے تھے‘ انہوں نے سب سے پہلے بریلوی مسلک کے ممتاز اور نامور عالم دین حضرت مولانا سرفراز نعیمی شہید اور پھر وفاق المدارس کے مرکزی قائد مولانا حنیف جالندھری سے ملاقات کرکے انہیں غیروں کی اس سازش سے آگاہ کیا۔
صرف یہی پہ بس نہیں کی بلکہ ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی اس سازش کے حوالے سے بات کی‘ اللہ پاک شہید سرفراز نعیمی کی قبر پر رحمتیں نازل فرمائے۔ چیف ایڈیٹر مہتاب خان نے جب دیوبندی‘ بریلوی لڑانے کی امریکی سازش کے حوالے سے ان سے بات کی تو شہید سرفراز نعیمیؒ نے فرمایا تھا کہ ’’مہتاب بھائی‘ میں اس خوفناک سازش سے آگاہ ہوں‘ لیکن آپ مطمئن رہیں‘ میں اپنے جیتے جی اس امریکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دونگا‘ اور پھر وہ اپنی باتوں میں ایسے سچے اور کھرے ثابت ہوئے کہ جان پر تو کھیل گئے مگر بریلویوں کو دیوبندیوں سے لڑانے کی امریکی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا‘ مولانا قاری حنیف جالندھری کا اس وقت محترم مہتاب خان کو کہنا تھا کہ آپ اپنےاخبار کے ذریعے اور ہم منبر ومحراب کی طاقت سے اللہ کے فضل و کرم سے اس سازش کو ناکام کریں گے‘ جبکہ اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھری میٹنگ میں ہمارے چیف ایڈیٹر سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’’مہتاب‘ فکر مت کریں میں اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن اور دیگر ذمہ دار علماء کرام سے بات کرونگا۔‘‘
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ امریکہ اور اس کے ٹوڈی ہار گئے‘ بھارت اوراس کی پٹاری کے این جی او مارکہ خرکار بری طرح ناکام ہوئے‘ امریکی اور بھارتی راتب خوروں کے منہ پر پھٹکار برسی‘ اوصاف تمام مسالک کے اعتدال پسند اکابر علماء کرام کے شانہ بشانہ اس وقت سرخرو ٹھہرا کہ جب دیوبندی‘ بریلوی کو لڑانے کی خوفناک امریکی سازش اپنی موت آپ مر گئی۔
نائن الیون سے بھی پہلے کہ جب پاکستان میں شیعہ‘ سنی فسادات کو ہوا دینے کی کوششیں عروج پر پہنچی ہوئی تھیں‘ دہشت گرد دونوں طرف کے کارکنوں کو چن چن کر مار رہے تھے۔ تب روزنامہ اوصاف ہی تھا کہ جس کے اسلام آباد دفتر کی چھت پر دونوں طرف کے اکابرین کو اوصاف فورم میں اکٹھا کرکے عوام کو امن اور محبت کا پیغام دیا جاتا تھا‘ ملک میں جہاں جب بھی جس کسی نے بھی اقلیتی برادری کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ اوصاف ظالم کے خلاف مظلوم اقلیت کے لئے صحافت کا سائبان بن گیا۔
ختم نبوتؐ کی عظمت ہو‘ صحابہ کرامؓ سے محبت ہو‘ اہل بیتؓ اطہار سے پیار ہو یا اولیاء کرامؒ کا احترام اوصاف نے اپنے اداریوں‘ خبروں‘ کالموں اور سپیشل ایڈیشنز کے ذریعے انہیں زبردست فروغ دیا‘ ایسا نہیں ہے کہ ڈالروں والوں نے لالچ نہ دیا ہو‘ خریدار نہ پہنچے ہوں؟ ڈالر خوروں نے سنہرے جال نہ پھینکے ہوں؟ یہ بازار ہی ایسا ہے جس بازار میں بعض ’’چھوٹے ‘‘ بک کر لاکھوں‘ کروڑوں پتی بن گئے‘ اس بازار کے بڑے تو پھر بڑے ہیں لیکن محترم مہتاب خان ’’انمول‘‘ رہے‘ خریدنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی‘ این جی او مارکہ خرکار ہاتھ ملتے رہ گئے‘ جب صحافت کے ’’سینئر‘‘ مامے‘ چاچے ’’امن کی آشا‘‘ کا ڈھول پیٹ رہے تھے اوصاف تب بھی مظلوم کشمیریوں کے خون سے وفا کرنے کی دہائیاں دے رہا تھا۔
جب ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی کرکے حکومتی ڈھونڈرچی سب اچھا کا ڈھونڈرا پیٹ رہے تھے یہ اوصاف ہی تھا کہ جس نے اپنی لیڈ سٹوری میں اس حکومتی سازش کو بے نقاب کیا تھا‘ اللہ سلامت رکھے محترم مہتاب خان کو ان کا لگایا ہوا صحافتی پودا اوصاف ٹیم کی کارکردگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک تناآور درخت بن چکا ہے‘ اوصاف کی اعتدال پسندانہ اور اسلام پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے آج اوصاف کی صحافت ایک ذمہ دار حوالہ بن چکی ہے۔ 9محرم الحرام کے دن کربلا کی شہزادیاں کے عنوان سے چھپنے والے خصوصی ایڈیشن میں حضرت سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کے حوالے سے ایک پیرا گراف پر جب بعض احباب کو اعتراض ہوا تو چیف ایڈیٹر نے فوراً اس کا نوٹس لیا‘ اگلے ہی دن نہ صرف یہ کہ ’’اعتزار‘‘ شائع کیا بلکہ ذمہ داروں کو سخت تنبیہ کرنے کے ساتھ ساتھ موصوف کالم نگار پر آئندہ کے لئے پابندی بھی عائد کر دی گئی۔ لیکن اس کے باوجود بعض شرپسند عناصر جان بوجھ کر روزنامہ اوصاف کو سوشل میڈیا پر اپنی فرقہ وارانہ اور منافرت کی دنیا میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ سب دیکھ کر اندازہ یوں ہو رہا ہے کہ جیسے اس واقعہ کی آڑ میں کوئی مخصوص وارداتیاء ‘ باریک واردات ڈالنے کی کوششیں کر رہا ہے‘ لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسے وارداتیوں کو منہ کی کھانا پڑے گی کیونکہ چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان کو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ’’میرا سب کچھ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حوالے ہے۔‘‘
اوصاف کی نظریاتی‘ اسلام پسندانہ اور ’’پاکستانیت‘‘ سے بھرپور صحافت بدہضموں کو تو ہضم ہو ہی نہیں سکتی‘ لیکن وہ خاطر جمع رکھیں کیونکہ
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خنداں زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا