07:27 am
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

07:27 am

اﷲ ان کی مغفرت فرمائے، بریگیڈیئر تاج 1971ء کی جنگ اور بلوچستان میں شورش کے خلاف آپریشن
(گزشتہ سے پیوستہ)
 اﷲ ان کی مغفرت فرمائے، بریگیڈیئر تاج 1971ء کی جنگ اور بلوچستان میں شورش کے خلاف آپریشن میں (44پنجاب جسے بعدازاں تشکیل نو کرکے 4سندھ رجمنٹ کردیا گیا) ہمارے کمانڈنگ آفیسر رہے۔ فوج میں اپنی38سالہ خدمات کے دوران مجھے کئی کمانڈنگ افسران کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہوا لیکن سچی بات یہ ہے کہ کسی کو ان جیسا باصلاحیت نہیں پایا۔ دوران ملازمت جن لوگوں سے ملنے کا موقعہ ملا وہ ان سب میں نمایاں تھے۔ ان کے ماتحت خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ وہ خود بھی انتہائی ایمان دار، بااصول اور بے باک انسان تھے اور اپنے ماتحتوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے۔ دانستہ یا نادانستہ ہونے والی غلطیوں کے بارے میں سچ بولنے والوں کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ اعلیٰ افسران کو ان پر بے حد اعتماد تھا یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین محاذاور کام ہماری فورمیشن کے ذمے لگائے جاتے تھے۔ بہت کم ہی ایسا ہوتا کہ کوئی فرد ہمشہ بحران میں یکساں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ 1965ء کی جنگ، مشرقی پاکستان آپریشن، 71کی جنگ، بلوچستان میں شورش کے خاتمے کے لیے ہونے والے آپریشن جس میں انہوں نے بریگیڈ کی کمان کی، بریگیڈیئر تاج نے ان سبھی مواقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اﷲ رب العزت ان جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین‘‘ 
ستمبر 2002 ء میں ڈیفنس جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں بریگیڈیئر تاج نے اپنے حالات زندگی کی تفصیلات بتائی تھیں،جو یہاں نقل کی جارہی ہیں:’’ میرا تعلق مری تحصل کے ایک بڑے قبیلے ’دھند‘‘ سے ہے جس کا سلسلہ نسب رسول کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ سے جا ملتا ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے یہاں کہ لوگ اپنے نام کے ساتھ عباسی لگاتے ہیں۔ میں نے ابتدئی تعلیم اپنے گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی اس کے بعد قریبی گاؤں اوسیاہ میں قائم مڈل اسکول چلا گیا۔ اس گاؤں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آج یہاں خواتین کی شرح خواندگی پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ محکمہ تعلیم اس بات کی تصدیق کرچکا ہے۔ 1944 ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول مری سے میٹرک کیا۔ ان دنوں میں سفر بہت دشوار تھا۔ مری میں ہائی اسکول تک آنے کے لیے ہمیں 20میل پیدل چلنا پڑتا تھا۔ 
اسکول میں میرے اکثر قریبی ہم جماعت اور دوست فوج میں بھرتی ہوئے۔ ان میں جنرل محمد ریاض خان، ایئر کموڈور خاقان عباسی، کرنل صالح اور کرنل حفیظ شامل ہیں۔ مرحوم خاقان عباسی 1985ء میں سیاست میں آگئے اور عام انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر پیدوار بنے۔ وہ ذہانت اور درد مندی رکھنے والے باصلاحیت لیڈر ثابت ہوئے۔ مری کے کوہساروں، کوٹلی ستیاں اور کہوٹہ کے پورے علاقے میں انہیں سیاسی عروج حاصل ہوا اور اپنے ہم عصروں میں ممتاز حیثیت حاصل کی۔ 10اپریل 1988ء کو اوجھڑی کیمپ دھماکے میں ان کی کار سے ایک میزائل ٹکرا گیا اور ان کی حادثاتی موت کے ساتھ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا۔ یہ ایک ناقابل تلافی ذاتی نقصان تو تھا ہی لیکن خاقان عباسی کی موت سے پورے ملک کو صدمہ پہنچا اور پہاڑوں پر بسنے والے ایک قابل رہنما سے محروم ہوگئے۔ 
میں نے 1949ء میں او ٹی ایس میں شمولیت اختیار کی، ہمارا پلاٹون کمانڈر ایک گورا کیپٹن تھا۔ میں فوج سے گیا تھا اس لیے مجھے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں پریشانی نہیں ہوئی۔ میں نے ٹاپ کیڈٹ کے طور پر فراغت حاصل کی۔ 
میں فرسٹ پنچاب رجمنٹ کے ساتویں بٹالین میں شامل ہوا۔ میرے گاؤں کے چند بزرگ بھی اس رجمنٹ کا حصہ رہ چکے تھے۔ یہ اپنی رجمنٹ کا نہایت عمدہ بٹالین سمجھا جاتا تھا اور میں ایک اچھا افسر بننا چاہتا تھا۔ جب میں یونٹ میں شامل ہوا تولیفٹیننٹ  اقبال، لیفٹیننٹ عثمان اور لیفٹیننٹ نادر پہلے سے وہاں موجود تھے۔ او ٹی اسی سے میں اورلیفٹیننٹ سہراب بعد میں یونٹ میں شامل ہوئے۔ بدقسمتی سے لیفٹیننٹ اقبال ژوب ملیشیا کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہوئے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں نشانہ بن گئے۔ عثمان، نادر اور سہراب بطور میجر فوج سے سبکدوش ہوئے۔ 
6ستمبر کو جب پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو میرے یونٹ کو ضلع تھرپارکر میں کھوکھرا پار سرحد پر تعینات کیا گیا۔ کراچی سے لے کر سندھ کے چپے چپے کے عوام بھارتی جارحیت کے خلاف ملکی دفاع کے لیے پُرعزم اور متحد تھی۔ 
اس جذبے نے فوج کے حوصلے بلند کردیے تھے اور سپاہی دفاع وطن کی خاطر خون کا آخری قطرہ بہانے کے لیے تیار تھے۔ مجھے کھوکھرا پار سے سولہ میل کے فاصلے پر واقع شکربو چوکی بھارتی قبضے سے واگزار کروانے کا ہدف سونپا گیا۔ میے پاس رائفل کمپنی اور مارٹر توپوں کا چھوٹا دستہ تھا۔میری کمپنی حملے کی اگلی ہی صبح سورج کے پہلی کرن پھوٹتے ہی شکربو کے کے نواح میں پہنچ کر کام یاب کارروائی سرانجام دے چکی تھی۔ بھارتی اپنی چند لاشیں چھوڑ کر میدان سے فرار ہوگئے اور چوکی واپس حاصل کرلی گئی۔ شکربو پہنچتے ہیں مجھے بھارتی سرحد میں واقع کھرین پوسٹ پر کچھ نقل و حرکت نظر آئی اور میں نے فوراً ہی اس پر حملے کا منصوبہ بنایا جس میں ایم جی ایس اور آر آر ایس کے ساتھ سولہ جوانوں کا دستہ بھیجا گیا۔ بغیر کسی مزاحمت کے ہم نے اس چوکی کا قبضہ حاصل کرلیا۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے دشمن کے دو ٹینک دو رائفل کمپنیوں کے ہمراہ اس چوکی کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ ہم نے فوری مشین گن سے فائرنگ شروع کردی۔ کمانڈر آر آر لانس نائیک خوشی محمد نے ایک ٹیک کو تباہ اور دوسرے کو ناکارہ کردیا۔ میں نے پیش قدمی جاری رکھنے والوں کو مشین گن اور مارٹر کی مسلسل فائرنگ سے نشانہ بنانا شروع کیا اور حملہ آور کئی لاشیں اور دو ٹینکوں کا ملبہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مجھے اور لانس نائیک خوشی محمد کو اس کارکردگی پر ستارۂ جرات تمغہ جرات سے نوازا گیا۔ 
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں