07:28 am
اِسے بھی پڑھئے!

اِسے بھی پڑھئے!

07:28 am

زیست کی راہگزر پر بکھرے ہوئے ہزار ہا موتی جب خیال کی مالا میں پروئے جاتے ہیں تو اُن کی چمک
زیست کی راہگزر پر بکھرے ہوئے ہزار ہا موتی جب خیال کی مالا میں پروئے جاتے ہیں تو اُن کی چمک اوردمک دماغ کو روشن کر دیتی ہے۔ ضوفشانی کے ہالے چاند کو شرما دیتے ہیں۔ بصیرت چشم بینا پر چشمہ بن کر اپنے ہونے کا ادراک بیان کرتی ہے۔ واقعات طائر خیال کو اذنِ پرواز دے کر اِنسان کی ذہنی وسعتوں کوبام عروج پر پہنچا دیتے ہیں۔ میں اپنے قارئین سے آج جو واقعات شیئر کرنے جا رہا ہوں اُمید ہے کہ میرے قارئین اِن واقعات سے بصیرت کے موتی تلاش کر کے اُنہیں اپنی سوچ کی مالا میں پرونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ واقعہ معروف سیاسی شخصیت اور سابق وزیراعظم پاکستان ملک معراج خالد کے حوالے سے آصف محمود صاحب کا بیان کردہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رئوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل مین گو اینڈ فیس دی میوزک۔خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جائوں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بنائوں گا کہ کیوں نکالا گیا؟وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟…آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے! مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں…اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا…کافی دیر یونہی گزر گئی…ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں نے اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جائوں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاوں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں؟اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیشن جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لائو، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔
ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رئوف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رئوف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔ایک دوسرا واقعہ بھی ملاحظہ فرمایئے!کسی نے دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس سے پوچھا، کیا دنیا میں آپ سے امیر ترین کوئی ہے ؟؟بل گیٹس نے کہا جی ہاں! ایک ہے جو مجھ سے زیادہ امیر ترین ہے۔ پھر اس نے کہانی شروع کی۔ایک ایسے وقت میں جب میرے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے اور نہ ہی شہرت۔ ایک دن میں نیویارک کے ایئرپورٹ پر تھا اور وہاں ایک اخبار بیچنے والا سامنے آیا۔ میں ایک اخبار خریدنا چاہتاتھا لیکن میرے پاس چھوٹے ڈالر نہیں تھے۔ میں نے اخبار واپس کر دیا اور کہا کہ سوری میرے پاس کھلے نہیں ہیں۔ اُس نے جواب میں کہاکوئی بات نہیں، میں یہ آپ کو مفت میں دے رہا ہوں۔ میں نے انکار کیا لیکن اس کے اصرار پر میں نے اُس سے اخبار مفت میں لے لیا۔ اتفاقاًسال بعد میں اسی ایئر پورٹ پر دوبارہ اترا۔ لیکن اس مرتبہ بھی میرے پاس چھوٹے پیسے نہیں تھے۔ اخبار بیچنے والا پھر آیا اور اخبار پیش کیا۔ میں نے انکار کیا کہ میں یہ نہیں لے سکتا میرے پاس کھلے نہیں ہیں۔ اس نے پھر کہاکہ آپ پیسے نہ دیں۔یہ میں اپنی جیب سے ادا کر لونگا مجھے زیادہ نقصان نہیں ہے۔ اور میں نے وہ اخبار لے لیا۔ ٹھیک 19 سال بعد میں امیر اور مشہور ہوگیا۔ مجھے وہ اخبار بیچنے والا ذہن میں آیا اور میں اسکی تلاش کرنے لگا۔ ڈیڑھ مہینہ بعد میں اسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے ان سے پوچھا کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ وہ کہنے لگا ہاں کیوں نہیں، آپ بل گیٹس ہیں۔ میں نے پھر پوچھا کیا آپ کو یاد ہے میں نے آپ سے مفت میں اخبار لیا تھا ؟ وہ کہنے لگا ہاں میں نے دو دفعہ دیا تھا۔ میں نے اُس سے کہا کہ آپ نے میری مدد کی تھی، اب آپ بتا دیں جو کچھ بھی آپ کو چاہیے میں دلا دونگا ؟وہ کہنے لگا سر!میں نہیں سمجھتا کہ آپ کی یہ مدد میرے اس مدد کے برابر ہوگی جو میں نے آپکی کی تھی۔ میں نے پوچھا کیوں ؟وہ کہنے لگا!سر میں نے آپ کی مدد اس وقت کی تھی جب میں ایک غریب اخبار بیچنے والا تھا۔ اور آپ اس وقت مدد کر رہے ہو جب آپ امیر بن گئے ہو۔ یہ دونوں باتیںکیسے ایک دوسرے سے میچ کر سکتی ہیں ؟اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اخبار بیچنے ولا مجھ زیادہ امیر ترین تھا کیونکہ اس نے کسی کی مدد کرنے کے لیے خود امیر بننے کا انتظار نہیں کیا۔ لوگوں کو یہ سمجھ میں آنا چاہیے کہ امیر ترین وہ ہوتے ہیں جن کے دل امیر ترین ہیں وہ نہیں جن کے پاس بہت سارا پیسہ ہو۔میں اپنے قارئین کو بتلاتا چلوں کہ ایساہی ایک امیر آدمی لاہور میں بھی بستا ہے جس کے پاس نہ کوٹھی ہے نہ بنگلہ، نہ لینڈکروزر، نہ کوئی مال و دولت کے انبار وہ سارا دِن خدمت خلق میں مصروف رہتا ہے، اُس کا نام شاہد قادر ہے، وہ چھوٹے گھر میں رہنے والا ایسا بڑا آدمی ہے۔ جسے بل گیٹس اور عبدالستار ایدھی مرحوم جیسی شخصیات بھی سلام پیش کرنے پر مجبور ہیں۔