07:39 am
چلوکشمیر کی توقیرِکا سامان کرنا ہے

چلوکشمیر کی توقیرِکا سامان کرنا ہے

07:39 am

تادمِ تحریر مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤ ن کو49 دن گزر چکے ہیں تاحال سنگین حالات کی چکی میں پسنے والے کشمیری مسلمانوں کی شبِ آزمائش ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ۔جہاں تک مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی جدو جہدِ آزادی کا تعلق ہے تو وہ اس دور میں اپنی مثال آپ ہے ۔ مگر اصل حادثہ یہ ہے کہ لوگ رُکے نہیں حادثہ دیکھ کر ۔اس میں پاکستان سمیت عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویّہ بہت قابل افسوس ہے ۔سفارتی محاذ پر جس انداز میں ماضی اور حال میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی ضرورت تھی ایسا نہیں کیا جاسکا ۔ ،ہمارے حکمران یکے بعد دیگرے بھارت کے سیکولر ازم کے قصیدے پڑھتے رہے اور بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں چڑھانے میںایک دوسرے سے آگے گزرنے کی کوشش کرتے رہے ۔اس سلسلہ میں کشمیر کمیٹی نے بھی کوئی فعال کردار ادا نہ کیا ۔مولونا فضل الرحمان کو 2008 ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا اس کمیٹی نے پیپلز پارٹی کے دور میں چالیس اجلاس بلائے اور کروڑوں روپے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے ‘مگر کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی جا سکی۔
 
دوسری طرف بھارت میں آر ایس ایس کانظریہ روز پکڑتا گیا جو گاندھی اور نہرو کے سیکولرازم کو نہیں مانتے اس نظریے نے گاندھی کو قتل کیا تھا ، یہ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتے ، نہ بھارت کے آئین کو مانتے ہیں ،نہ بھارتی سپریم کورٹ اور نہ ہی ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہیں ، یہ صرف اور صرف ہندتوا اور ہندوراج کو مانتے ہیں ۔مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کی وجہ سے کشمیر کے خلاف سازشوں کا تسلسل زور پکڑ گیا ۔ ہمارے حکمران ٹرمپ کی ثالثی کا جشن مناتے اور اپنی فتح کے شادیانے بجاتے رہ گئے اور ادھر ہندو بنیے کا عفریت کشمیر کو ہڑپ کر گیاْ۔آرٹیکل 370کا خاتمہ کوئی معمولی حملہ نہیں ہے اس آرٹیکل کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اقدام کی اجازت نہیں تھی ۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے ، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی‘ اب بھی اگر  آرٹیکل 370  کے خاتمے کے بعد اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو 80 لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کی دھرتی سے بے دخل کر دیا جائے گا ،اور ان کی صورت حال خیمہ بستیوں میں رہنے والے خانہ بدوشوں والی ہو جائے گی۔سالہاسال سے مودی بھارتی انتخابات کے مواقع پر کشمیر کے بارے میں اپنے جس نہایت خطرناک نظریے کے تحت اپنی انتخابی مہم چلاتا رہا اب کی بار وزیر اعظم بننے کے بعد اس نے کشمیر پر قبضے کے لیے بڑی برق رفتاری سے اپنا سازشی سفر طے کیا تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے مقبوضہ کشمیر میں مودی کی سازش کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے انتہائی قدم اٹھانے کی سازش تیار کی اور اس پر تین مرحلوں میں عمل کیا‘ اس سازش پر عملدرآمدکا آغاز جون2018 میں اس وقت ہوا جب بی جے پی مقبوضہ کشمیر کی حکومت سے اچانک علیحدہ ہو گئی ، سازش کے دوسرے حصے پر عملد آمد اس وقت ہوا جب گورنر نے ریاستی اسمبلی تحلیل کر دی ۔ محبوبہ مفتی نے گورنر کو بھیجی گئی فیکس کی کاپی میڈیا پر ریلیز کر دی جس میں اس نے گورنر کو کہا تھا کہ وہ نئی حکومت بنانے کیلئے تیار ہے ۔جب کہ گورنر نے خط نہ ملنے کا بہانہ کر دیا ۔ امریکی اخبار کے مطابق مودی حکومت حیلے بہانوں سے الیکشن ملتوی کرتی رہی اور گھناؤنی سازش کے تیسرے مرحلے میں 5 اگست کو آرٹیکل 370 ہی ختم کر دیا ، پوری وادی میں لاک ڈاؤن اور ہزاروں کشمیریوں کی غیر قانونی گرفتاریاں بھی اسی مرحلے کا حصہ ہیں۔
(جاری ہے)