07:40 am
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

07:40 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

 عسکری تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا جس میں سولہ نفر پر مشتمل مختصر دستے نے نہ صرف دو ٹینک تباہ کیے تھے بلکہ دو ٹینکوں اور دو انفینٹر کمپنیوں جوابی حملے کو بھی ناکام
بنادیا تھا۔
 شکربو چوکی رینجرز کے حوالے کرنے بعد میں ڈالی آپریشن کے لیے بٹالین میں چلا گیا۔ میری کمپنی نے دشمن کے عقب میں اونچے مقام پر قدم جمانا تھے۔ ہم نے اے اور سی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ڈالی پر قبضے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ ہمیں فضائی مدد فراہم کرنے والے دو جنگی طیارے بے جگری کے ساتھ آگے بڑھے۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور ایم کے عباسی خود ایک طیارہ اڑا رہے تھے۔ فضائی حملے میں نہ صرف دشمنوں کی گولہ بارود سے بھری ٹرین تباہ ہوئی بلکہ انھیں بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شام ڈھلے فلک شگاف نعروں کے ساتھ حملے کا آغاز ہوا اور مکمل طور پر کام یاب رہا۔ ڈی کمپنی کی مدد سے ڈالی کو خالی کروالیا گیا۔ پہلے ہی یہ کمپنی جاسو(جوپر) کی جانب سے ہونے والے جوابی حملے کو ناکام بنا چکی تھی۔ ڈی کمپنی اور رائفلز اور مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور ایک سپاہی دشمن کو للکارتا رہا ’’مورچوں سے نکل آؤ ورنہ ہم تمہارا قیمہ بنا دیں گے‘‘۔
دشمن نے ہتھیار ڈال دیے اور سات افسران ، 12جے سی اوز اور متعدد سپاہیوں کو قیدی بنالیا گیا۔ ان کا تعلق 5مراٹھا اور 17مدراس سے تھا۔ 18پنجاب نے ان کے تین ٹینک قبضے میں لے لیے جو بعد میں بھارتی فوج کے خلاف تین آپریشنز میں استعمال ہوئے۔ یہ بٹالین کی بہترین کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعد 18پنجاب کلران کا تلاؤ کی جانب متوجہ ہوئی۔ یہاں بھارتی فوج رینجرز کی کئی چوکیوں پر قابض ہوچکی تھی، 18پنجاب کو کلران کا تلاؤ واگزار کروانا تھا، بٹالین کے اس علاقے میں پہنچتے ہی بھارتیوں نے رینجرز پوسٹ پر حملہ کردیا، ڈی کمپنی نے پیش قدمی جاری رکھی اور جوابی وار کیا جس سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور دشمن اپنی لاشیں اور زخمی میدان میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ حملہ کرنے والی 3گڑھوال جنگ کے باقی عرصے اپنے زخم ہی چاٹتی رہی اور اسے پاک فوج کی جانب نظر اٹھانے کی جرات بھی نہیں ہوئی۔ 1965ء کی جنگ میں گدرا چھاچھر کے ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج کے دو بریگیڈز کے مقابلے میں یہ اس بٹالین کی کامیابی تھی۔ 
44پنجاب نے دشمن کے فضائی حملوں کے باوجود تیزی سے حرکت کی اور چھور میں دفاع کو کمک پہنچائی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے انتہائی لائق اور قابل افسران کا ساتھ حاصل ہوا۔ ان میں سے چند کے نام میں پہلے ہی ذکر کرچکا ہوں۔ ان میں سے خاص طور پر میجر(ر) اکرام سہگل، میجر جنرل فہیم، کیپٹن(ر) طارق اور بریگیڈیئر افتخار مہدی سے آج بھی رابطہ قائم ہے۔ ان افسران نے اپنے دورِ جوانی کا کچھ حصہ میرے ساتھ گزارا ہے، اس وقت میں بھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا تھا۔ میں انھیں ہمیشہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہوں اور جب تک میں زندہ ہوں یہ تعلق اسی طرح قائم رہے گا۔ ان شاء اﷲ۔ ‘‘
جنرل ضیاء الحق نے اپنے پورے دور میں دہرے معیارات برتے۔ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ تھے۔ افغان جنگ نے انہیں اقتدار کو طول دینے کا بہانہ فراہم کیا۔ فوج پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے جنرل ضیا نے اپنے من پسند اور تابع دار افسران کو ترقیاں دیں۔ اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیے ہر فوجی آمر یہی حربہ استعمال کرتا ہے۔ 
ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصے مری کہوٹہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایم کے ڈی اے) کا ڈی جی رہنے کے بعد میں نے گزر بسر کے لیے مری میں ایک ہوٹل کھولا۔ ہوٹل مقامی تجارت اور کاروبار کا سب سے بڑا شعبہ تھا، میں بھی اب اسی کا حصہ تھا اس لیے اس کاروبار سے منسلک نمایاں افراد اکثر مجھ سے ملنے آیا کرتے اور کئی کاروباری مسائل پر بات چیت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی یونین کی صدارت قبول کرنے کے لیے مجھ سے اصرار کرنا شروع کردیا۔ جتنا ممکن ہوا میں مزاحمت کرتا رہا اور انکاری رہا لیکن بالآخر مجھے یہ عہدہ قبول کرنا پڑا۔ اس عہدے کے باعث مجھے دیگر کاروباری، سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان سے میل ملاپ کا موقع ملا جو 1998ء کے گرما میں جابرانہ ٹیکسوں کے نفاذ کے شدید مخالف تھے۔ 
بدقسمتی سے ایک مشہور سیاحی مرکز ہونے کے باوجود مری پر ٹول ٹیکس، پارکنگ فیس جیسے کئی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ حکام عوامی رائے کی پروا کیے بغیر پہلے سے عائد شدہ ٹیکسوں میں بیک جنبش قلم اضافہ کردیتے ہیں۔ 1998ء میں بلدیہ کے گرد چار چوکیوں پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا جس میں7روپے کا اضافہ کرکے اسے 50روپے فی گاڑی کردیا گیا۔ پورے ملک میں ایسے فیصلے کی نظیر نہیں ملتی تھی اور اس فیصلے کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں، سیاحوں اور مقامی آبادی کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ اگرچہ مقامی لوگوں کو ٹول ٹیکس سے استثنی حاصل تھا لیکن اس کے لیے پرمٹ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ 
ہم نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ رسائی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ حکام نے ہمیں بتایا کہ ٹیکس میں اضافے کے احکامات براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جاری کیے ہیں اور ان پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ اکثر مری آیا کرتے تھے، ہم نے ان سے کئی بار ملنے کی کوشش کی لیکن کسی نے ہمیں ان کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔ یہ بے لچک رویہ مصیبت کودعوت دینے کے مترادف تھا۔ صورت حال کی گرما گرمی بڑھنے لگی اور ایک دن چھتار سے کوہالا تک پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔ یہ ہڑتال دو ہفتے تک جاری رہی۔ ان دوہفتوں کے دوران سڑکیں ویران، بازار بند رہے اور علاقے میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی۔ یہ عرصہ عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل تھا کیوں کہ کھانے پینے کی اشیا سمیت کسی شے کی خرید وفروخت مکمل طور پر بند تھی لیکن حکمرانوں کو اس کی کب فکر تھی۔ اخبارات میں اس صورت حال کی بڑیے پیمانے میں رپورٹنگ ہوئی اور صوبائی حکومت ہل کر رہ گئی اور بالآخر حکومت احتجاج کرنے والوں کی قیادت کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوگئی۔ 
لیفٹیننٹ کرنل تاج کو 1965 ء میں ستارۂ جرات سے نوازا گیا اور اور 1971ء میں ایک بار پھر یہی اعزاز دیا گیا۔ ایک مضمون میں بریگیڈیئر تاج کی جنگی کامیابیوں کا احاطہ ممکن نہیں۔ انہوں نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہمارے حوصلے جس انداز میں بلند رکھے اور جوش و جذبے برقرار رکھنے کے لیے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، اس کے احساس محاذ پر لڑنے والے ہی کرسکتے ہیں۔