07:41 am
 سچ کیا ہے؟

 سچ کیا ہے؟

07:41 am

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں مشن کشمیر کا  بہت چرچا ہو رہا ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور لاک ڈائون کے 50دن گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیر پر قرارداد پیش کرنے میںکیوں کامیاب نہ ہو سکے جبکہ حالات پاکستان کے حق میں سازگار تھے۔ 
 
 ’’میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیریوں کے انسانی حقوق سے متعلق حالیہ اقدامات کے اثرات سے متعلق شدید تشویش میں مبتلا ہوں، جن میںانٹرنیٹ مواصلات اور پرامن اجتماع پر پابندیاں، اور مقامی سیاسی لیڈرز اور کارکنوں کی حراست بھی شامل ہے‘‘ یہ الفاظ کونسل کے جنیوا میں موجودہ سیشن کے افتتاح کے موقع پر یو این انسانی حقوق کمشنر محترمہ بچلٹ کے تھے۔ سوئٹزرلینڈ کا شہر جنیوا، اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر برائے یورپ ہے۔ کشمیر کی سنگینی کی وجہ سے سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلاس بھی 16اگست کو منعقد ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کمشنر نے صرف تشویش ہی ظاہر نہیں کی بلکہ مزید کہا’’میں نے انڈیا سے کہا ہے کہ موجودہ لاک ڈائون یا کرفیو نرم کرے، بنیادی ضروریات زندگی تک عوام کی رسائی ممکن بنائے، گرفتار افراد کے حقوق کا احترام کرے، کسی بھی فیصلے کے عمل میں کشمیری عوام کی شمولیت اور مشاورت ضروری ہے کہ جس کے اثرات ان کے مستقبل پر پڑتے ہوں۔ ‘‘ یہ بھارت کے لئے واضح پیغام تھا۔یہ بھارت کے 5اگست کے فیصلوں کی نفی تھی۔ مگر بھارت نے انسانی حقوق کمشنر کی تاکید کو کسی خاطر میں نہ لایا۔ بلکہ کشمیریوں پر پابندیاں مزید سخت کر دیں، بنیادی ضروریات تک رسائی کے بجائے بھارتی فورسز نے گھروں میں گھس کر خوراک کے ذخائر کو تباہ کر دیا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے پاکستان سے نکالے گئے ہائی کمشنر اجے بساریہ کی قیادت میں ایک بڑا وفد جنیوا روانہ کیا۔ یہ وفد دنیا کو پاکستان کے بارے میں گمراہ کر رہا ہے۔امید ہے حکومت پاکستان بھی اس طرف متوجہ ہو گی۔
 مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ایک کروڑ عوام کے تمام حقوق پامال کر رکھے ہیں ، مگر ہم تمام دعوئوں کے باوجود اقوام متحدہ کے 193رکن ممالک میں سے صرف 16کا تعاون حاصل نہ کر سکے۔ جب کہ آج پوری دنیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں سیشن میں شرکت کی تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو12ستمبر کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ممالک نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے، محاصرہ ختم کرے، پابندیاں ختم کرے، کشمیریوں کے حقوق کا احترام اور حفاظت کرے اور یواین سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر حل کرے۔ یہی اعلان وزیر خارجہ نے بھی کیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ 58ممالک نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ اس پر ان ممالک کا شکریہ ادا کرنا ضروری تھا۔ وزیراعظم صاحب  نے ایسا ہی کیا۔ مگر سچ یہ ہے کہ 58ممالک تو کجا ، پاکستان کا ساتھ 16ممالک نے بھی نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان انسانی حقوق کونسل میں قرارداد پیش نہ کر سکا۔ انسانی حقوق کونسل کا 42واں سیشن9ستمبر سے جنیوا میں جاری ہے۔ 19ستمبر تک پاکستان کونسل کے 16رکن ممالک کے دستخطوں سے قرارداد جمع کرا سکتا تھا۔ جب کہ کونسل کے رکن ممالک کی تعداد 47ہے۔ معلوم نہیں وزیراعظم پاکستان کی معلومات میں یہ کیسا اضافہ کیا گیا کہ انسانی حقوق کونسل کے ارکان کی تعداد 47سے بڑھا کر 58کر دی گئی۔ سوشل میڈیا پر بھی وزیراعظم صاحب کی ٹویٹ کو آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔ ہو سکتا ہے یہ سب پاکستان دشمنوں کا کام ہو۔ مگر مذاق اڑانے کا موقع دینے والے کون تھے۔ دشمن ہر وقت موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ مگر اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کے بجائے دشمن کو ہی سب کا ذمہ دار ٹھہرانا کہاں کی عقل مندی ہو سکتی ہے۔ بلا شبہ انسان سے کوتاہی ہو سکتی ، مگر یہ بدترین غفلت اور لاپرواہی ہے کہ سربراہ حکومت کو غلط معلومات فراہم کی جائیں جس کی وجہ سے دنیا میں مملکت کی سبکی ہو۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا یہ اجلاس 27ستمبر تک جاری رہے گا۔ پاکستان وقت مقررہ تک قرارداد پیش کرنے کی درخواست جمع نہ کرا سکا۔وزیر خارجہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ قرارداد لائیں گے۔ یہ وعدہ وفا کیوں نہ ہوا۔کونسل میں قرارداد لانے کی درخواسست جمع کرانے کے لئے47ممالک میں سے ایک تہائی یعنی 16کی حمایت لازمی قرار دی گئی ہے۔  58ممالک کی حمایت حاصل کرنے کا علان کیا گیا ، تو یہ حمایت کہاں گئی۔
پاکستان کے لئے اب دو آپشنز دستیاب ہیں۔ اول، یہ کہ کونسل میںمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کرائی جائے یا دوم، خصوصی سیشن طلب کیا جائے۔ سیشن کے دوران سیشن نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے بھی کم از کم 16ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ اب فوری بحث کرائی جا سکتی ہے۔اس کی درخواست دائر کرنے کے لئے بھی 47میں سے 24ممالک کی حمایت چاہیئے ہو گی۔ پاکستان کے لئے دونوں آپشنز کھلے ہیں۔ کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سنگین ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔تمام شہری آزادیاں سلب ہیں۔ کاروبار زندگی مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ اس لئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ان آپشنز کی اجازت دے سکتی ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیٹرز، ہائی کمشنر انسانی حقوق مچلی بچلٹ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل ، عالمی میڈیا مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے بھی جنیوا میں یو این انسانی حقوق کونسل کے سیشن کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں بھارت سے کہا کہ کشمیر میں لاک ڈائون ختم کرے اور بنیادی مواصلاتی خدمات کو بحال کرے۔
( جاری ہے)