07:42 am
مذہب کارڈ؟

مذہب کارڈ؟

07:42 am

قیام پاکستان کا بنیادی نعرہ‘ پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ‘ نام ’’اسلامی‘‘ جمہوری پاکستان‘ آئین کی شقوں میں اسلام ہی اسلام‘ لیکن بعض کرائے کے ’’ارسطو‘‘ شور اٹھاتے ہیں کہ پاکستان میں  مذہبی سیاست نہیں ہوسکتی‘ مذہب تو مذہب ہوتا ہے ان فکری ’’بونوں‘‘ سے کوئی پوچھے کہ یہ ’’کارڈ‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ آئین نے ختم نبوتؐ کے تحفظ کی بات ہے  کیا تحفظ ختم نبوتؐ کی بات کرنا کسی ’’کارڈ‘‘ کا نام ہے؟ آئین نے ناموس رسالتؐ کے دفاع کی بات کی ہے کیا ناموس رسالتؐ کے تحفظ کی بات کرنا کسی ’’کارڈ‘‘ کا نام ہے؟
 
دینی مدارس کے شناختی کارڈ رکھنے والے طلباء اگر اپنی مرضی سے کسی جلسے‘ جلوس میں شریک ہونا چاہئیں تو کیا آئین نے ان پر پابندی عائد کی ہے؟ اگر نہیں تو دینی مدارس کے طلباء کی دھرنے میں متوقع شرکت کے حوالے سے طوفان بدتمیزی اٹھانا کیا دینی مدارس کے لاکھوں طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہے؟
کیا دینی مدارس کے علماء و طلباء انڈیا سے آئے ہوئے ہیں کہ جو فکری ’’بونے‘‘ ٹی وی ٹاک شوز میں ان کے  خلاف طوفان  برپا کئے ہوئے ہیں؟ پاکستان تو وہ ملک ہے کہ جہاں انڈین پٹاری کے دانش فروش اور قلم فروش دندناتے پھرتے ہیں‘ ٹی وی شوز میں ڈنکے کی چوٹ پر نظریہ پاکستان کو جھٹلاتے ہیں‘ دجال مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو ’’احمدی‘‘ کہہ کر انہیں مسلم فرقہ ڈکلیئر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نہیں شرماتے‘ اگر انڈین لابی کے  خرکاروں کو آئین سے متصادم حرکتوں کی اجازت ہے تو دینی مدارس کے علماء و طلباء کو سیاسی سرگرمیوں سے کون روک سکتا ہے؟
غامدی فکر کے ’’ارسطو‘‘ فرماتے ہیں کہ پاکستان میں ختم نبوتؐ اور ناموس رسالت کو کوئی خطرہ  نہیں ہے‘ ان کے اس فرمائے ہوئے میں اگر رتی بھر بھی صداقت ہوتی تو میں ان کے اس فرمائے ہوئے تو تسلیم  کرنے کی پوری کوشش کرتا‘ زیادہ دن نہیں گزرے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی کی کوشش پر کہرام برپا ہوا تھا‘ اور پھر یہ بات ثابت ہوئی کہ واقعی ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی کر دی گئی تھی یہ  تو بھلا ہو جے‘ یو‘ آئی کے سینیٹر حافظ حمد اللہ اور شیخ رشید کا کہ جنہوں نے سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج کرکے عوام کو باخبر کر دیا اور پھر بیت اللہ میں موجود مولانا فضل الرحمن نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کرکے انتباہ کیا کہ پرانے حلف نامے کو بحال کیا جائے وگرنہ حالات کسی  سے سنبھالے نہیں  جائیں گے۔
کیا گزشتہ مہینے ایک قادیانی نمک حرام ٹرمپ کے دربار میں پہنچ کر وہاں  پاکستان کی شکایتیں نہیں لگا چکا؟ کیا چند ماہ پہلے ختم نبوتؐ کے باغی عاطف میاں  کو اقتصادی کونسل کا رکن نہیں بنایا گیا تھا؟
جاوید غامدی اینڈ کمپنی ناموس رسالت کے حوالے سے پاکستان کے غیور مسلمانوں کو بھی سیکولر بنانا چاہتی ہے؟ اگر آسیہ ملعونہ گستاخ نہ تھی تو پوپ پال سے لے کر یورپ کے حکمرانوں تک اس ملعونہ کی رہائی کے لئے بے چین کیوں رہے؟ کیا پاکستان کی جیلوں میں آج کل کوئی عیسائی قید نہیں ہے؟ دیگر جرائم میں گرفتار عیسائیوں کے لئے یورپ کو کوئی ہمدردی نہیں‘ مگر آسیہ ملعونہ کے لئے ان کی ہمدردی چھپائے نہیں چھپتی تھی تو کیوں؟ این جی ار مارکہ غامدی کے ’’ارسطو‘‘ جواب دیں۔
کیا ملعون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین گستاخ رسول نہیں ہیں؟ اگر وہ گستاخ ہیں تو ان بدمعاش گستاخوں کو کس نے پناہ دے رکھی ہے؟
یہ کہنا کہ ناموس رسالتؐ اور ختم نبوت  ؐ کو کوئی خطرہ نہیں ہے‘ تاریخی  جھوٹ ہے‘ ایسی کذب بیانی کرنے والے بھی لاشعوری طور پر قادیانیوں کا ہی ہتھیار ہیں‘ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے آئین میں موجود ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ کا دفاع کرنے والی مشقوں کو ختم کروانے کے لئے امریکہ سمیت پورا یورپ پاکستان کی حکومتوں پر دبائو ڈالتا رہتاہے؟
کفریہ طاقتیں اور ان کے رنگ برنگے ایجنٹ اور گماشتے دراصل چاہتے یہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ’’عشاق‘‘ کا رشتہ‘ تعلق اور رابطہ نبی محترم رحمت عالمﷺ سے کاٹ دیا جائے‘ مسلم نوجوانوں کو توہین رسالتؐ کی خبر سننے کے بعد ’’برداشت‘‘ کرنے کی تلقین کی جائے‘ یہ عجیب لال بجھکڑ قسم کے ’’ارسطو‘‘ ہیں فلسطینیوں کا قتل عام اسرائیلی یہودی کر رہے ہیں لیکن ان کے نزدیک ’’امن‘‘ قائم رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے‘ افغانستان میں جارحیت امریکہ اور نیٹو نے کی مگر ان کی ’’شریعت‘‘ میں امن قائم رکھنا طالبان کی ذمہ داری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندوئوں نے سوا لاکھ کے لگ بھگ کشمیری شہید کر دئیے‘ لیکن ان کے نزدیک وہاں بھی امن  کے قیام کو ممکن بنانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے‘ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے متوقع آزادی مارچ کی ابھی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی‘ مگر حکومت اور سیکولر لادینیت کے  خرکاروں پر ابھی سے بوکھلاہٹ طاری ہوچکی ہے‘ مذہب’’ کارڈ‘‘ اور دینی مدارس کے طلباء کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کرنا ’’بوکھلاہٹ‘‘ نہیں تو پھر کیا ہے؟
عمران خان کے 126دن کے دھرنے میں سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے صرف طلباء نہیں بلکہ طالبات بھی‘ ساری‘ ساری رات مخلوط ڈانس کریں تو جائز‘ لیکن مولانا کا جو آزادی مارچ کہ جو ابھی تک  شروع ہوا ہی نہیں اس میں مدارس کے طلباء کی خیالی شمولیت کی تاویلیں گھڑ کر دینی مدارس کے خلاف تبراء بازی کرنے والے اس ملک اور قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔
کل مجھے جامعہ بنوریہ کے ایک طالب علم کا فون آیا‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم دینی مدارس کے طلباء اپنی پڑھائی کے دنوں میں دائیں بائیں دیکھنے کے کبھی روادار نہیں رہے‘ لیکن میڈیا میں بیٹھے ہوئے شدت پسندوں کے بیانیئے نے مجھے مجبور کیا کہ میں مولانا فضل الرحمن کے متوقع آزادی مارچ کے بیانیئے پر غور و فکر کروں‘ انتہائی غورو فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے مولانا کے آزادی مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونا چاہیے۔ اگر کالجز کی چند سو لڑکیوں اور لڑکوں کو ساتھ ملا کر عمران خان صرف چار حلقے کھلوانے کے لئے 126دن تک دھرنا دے سکتے ہیں تو تحفظ ختم نبوتؐ کے لئے‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور لاقانونیت کے خلاف ہم مدارس کے طلباء مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں کیوں شریک نہیں ہوسکتے؟ ہم شریک ہوں گے جس کے باپ میں جرات ہے وہ ہمیں روک کر دکھائے؟
غامدی فکر کے ’’ارسطو‘‘ روک سکیں تو ضرور روک لیں‘ بدبو اور تعفن سے بھرپور ’’سونامی‘‘ کو بہانے  کے لئے آزادی مارچ کا سمندر تیارہے۔