07:44 am
ٹرمپ، بھارت کا سچا دوست

ٹرمپ، بھارت کا سچا دوست

07:44 am

  ٭کوچ کا حادثہ،27 جاں بحقO ٹرمپ بھارت کا سچا دوست ہے۔مودیO ہیوسٹن، مودی کے خلاف زبردست مظاہرہO حوثیوں کی سعودی عرب کو جنگ بندی کی پیش کشO کیپٹن صفدر کا شہباز شریف سے ملنے سے انکار،O کچھ ادبی باتیں۔
٭قارئین کرام! گرمی اور حَبس کے باعث آنکھوں میں سخت تکلیف ہے اس کی ایک دلچسپ وجہ ایک عزیز نے بتائی ہے کہ میں ایک عرصے سے بوجھل قسم کے سیاسی کالموں میں پھنس کر رہ گیا ہوں۔ ان سے آنکھوں پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس عزیز نے اتنے خلوص اور اعتماد کے ساتھ بات کی ہے کہ میں نے اسے تسلیم کر لیا ہے۔ میںنے فیصلہ کیا ہے (پہلے بھی کئی بار کیا ہے) کہ اب میں کالموں میں کچھ ادبی باتیں بھی کیا کروں گا۔ آج ادبی باتیں بھی ہوں گی مگر اردگرد ہونے والے واقعات سے کیسے لاتعلق رہا جا سکتا ہے؟ مثلاً یہ کہ سکردو سے آنے والی مسافر کوچ کا معاملہ! اس کی تفصیل میں جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ اخبارات میں تفصیل موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسے حادثے کیوں ہوتے ہیں؟ مختلف وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ طویل سفر کے دورانیے میں ڈرائیور کو نیند آ جاتی ہے اور وہ سو جاتا ہے۔ سفر وہ بھی خطرناک پہاڑی رستوں پر ایسے سفر پر جانے والے ڈرائیور کی صحت اور جسمانی حالت جانچنے کا کوئی ضابطہ موجود نہیں۔ پہاڑی راستوں کے علاوہ میدانی علاقوں میں بھی ٹرکوں اور بسوں وغیرہ کے ڈرائیونگ کا بھی یہی حال ہے۔ ان ڈرائیوروں کو کم از کم 12 گھنٹے ڈیوٹی دینا ہوتی ہے۔ چھٹی بہت کم ملتی ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کا حال توبہت ہی ابتر ہے، ایک ٹرک ڈرائیور نے بتایا تھا کہ وہ ایک بار گھر سے نکل آئے تو بعض اوقات کئی دن بلکہ کئی ہفتے تک گھر واپسی نہیں ہوتی۔ کراچی سے پشاور تک ویسے ہی کم و بیش 30 گھنٹے ٹرک میں ہی گزارنا ہوتے ہیں اور پھر منزل پر پہنچ کر دوبارہ واپس آنا ہوتا ہے۔ اڈے پر پہنچ کر پھر کوئی نیا سفر بتا دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو کبھی مکمل آرام کا وقفہ نہیں ملتا۔ اس سخت کوشی سے عہدہ برآ ہونے کے لئے یہ لوگ نشہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ نشہ کی حالت میں سفر کا فاصلہ اور سختی محسوس نہیں ہوتی۔ گھروں سے دور بال بچوں سے طویل مدت کے لئے دور اپنے سے بہت سے ازدواجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں کی اس زبوں حالی پر کبھی کوئی تحقیق، کوئی مذاکرہ، کوئی منصوبہ بندی نہیںدیکھی۔
٭مولانا فضل الرحمان کی دو گھنٹے شہباز شریف سے ملاقات رہی۔ شہباز شریف نے مولانا کے اسلام آباد پر حملے میں شرکت کاکوئی یقین نہیں دلایا اور معاملہ کل پاکستان پارٹیز کے اجلاس پر ڈال دیا۔ شہباز شریف سے مایوس ہو کر مولانا مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر سے ملنے چلے گئے۔ موصوف نے فوراً مولانا کو ہر قسم کا یقین دلایا اور اخباری خبروں کے مطابق مولانا کو مشورہ دیا کہ آئندہ شہباز شریف کی بجائے میرے ساتھ رابطہ رکھیں، قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ن لیگ کا کیا حال ہے؟
ایک بات یہ کہ مولانا کے اعلان کے مطابق اسلام آباد پرلشکرکشی کی تاریخ کا ایک دو روز میں اعلان ہونے والا ہے۔ اہم بات یہ کہ لشکر کشی کو کامیاب بنانے کے لئے ایک سفارتی کمیٹی بنائی گئی ہے جو موجودہ حکومت کو ہٹانے کے مِشن کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف سفارت خانوں سے رابطہ کر کے ان کی حمائت حاصل کرے گی! ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی پارٹی نے کھل کر اپنے مقاصد کے لئے غیر ملکی سفارت خانوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے! دنیا بھر میں سفارت خانے وہاں کے ملک میں ہونے والی کسی حکومت دشمن سازش یا منصوبہ میں براہ راست شامل نہیں ہوتے البتہ زیر زمین خفیہ کام کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے یہ نہیں بتایا کہ کیا ان کی سفارتی کمیٹی بھارت اور افغانستان کے سفارت خانوں سے بھی رابطہ کرے گی؟ آیئے، دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے مرکزی رہنما چودھری اعتزاز احسن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ ان سے کسی معاملہ میں مشاورت نہیں کی جاتی۔ نوجوان چیئرمین بلاول زرداری نے کبھی کوئی رابطہ نہیں کیا، جو جی میں آئے بولتا چلا جاتا ہے۔ چودھری صاحب ن لیگ کے سخت خلاف ہیں، اس کے ساتھ پیپلزپارٹی کی ہم آغوشیوں کے بارے میں سخت بیانات دیتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں صاف کہہ دیا کہ نوازشریف اور شہباز شریف مزید دولت کے لئے کراچی جا کر پورا نیشنل بینک بھی لوٹ لیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ ایسے اور بھی بیانات پر خبریں پھیل گئیں کہ اعتزاز احسن پیپلزپارٹی سے الگ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الگ ہونے کی تو تردید کر دی مگر دوسری باتوں کی تردید نہیں کی آیئے کچھ ادبی باتیں کرتے ہیں۔
٭ایک چونکا دینے والا واقعہ جو شائد اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔ میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ 1981ء میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا انتہا پر تھا۔ صحافیوں اور دانش وروں کو کوڑے لگائے جا رہے تھے۔ کالم نگاروں کے کالم پیشگی سنسر کئے جاتے تھے۔ روزنامہ مشرق سرکاری قبضہ میں تھا۔ اس میں ملکی بلکہ عالمی سطح پر نامور افسانہ و ناول نگار انتظار حسین کالم ’لاہور نامہ‘ لکھتے تھے۔ یہ کالم بہت مشہور تھا۔ انہیں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ دوہ سیاست پر کچھ نہ لکھیں صرف ادب و ثقافت تک محدود رہیں۔ وہ ویسے بھی سیاست سے دور ہی رہتے تھے۔ اسی دور میں پنجاب یونیورسٹی نے ان کی علم و ادب کی نمایاں خدمات (20 سے زیادہ اہم کتابیں، سینکڑوں افسانے) پر پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری دینے کا اعلان کر دیا۔اگلے روز ان سے سرکاری طور پر کہا گیا کہ وہ بعض دوسرے ادیبوں کی طرح مارشل لا کے حمائت میں کالم لکھ دیں۔ انہوں نے نہیں لکھا۔ دو تین دنوں کے بعد یونیورسٹی کی طرف سے ملک میں علم و ادب کو فروغ دینے کی ’’اعلیٰ خدمات‘‘ پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کو پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ ملک بھر میں علمی ادبی حلقے حیرت زدہ رہ گئے۔ اس اعلان کے بعد تیسرے دن یونیورسٹی کے ایک خصوصی کانووکیشن میں جنرل ضیاء الحق کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی گئی۔ سرکاری ٹیلی ویژن اور اخبارات میں یونیورسٹی کی علم شناسی پر واہ واہ، سبحان اللہ کا شور مچ گیا۔ مجھے سخت حیرت ہوئی۔ غصے کے عالم میں یونیورسٹی گیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خیرات ابن رسا سے پوچھا کہ انتظار حسین جیسے بڑے ادیب کی بجائے ضیاء الحق کو کیوں ڈگری دی گئی؟ ڈاکٹر خیرات ابن رسا، نے جواب دیا کہ سرفراز صاحب! جنرل ضیاء الحق نے یونیورسٹی کو ایک کروڑ روپے دیئے ہیں۔ انتظار حسین نے کیا دیناتھا؟ دو دن بعد ڈاکٹر خیرات ابن رسا کی وائس چانسلر کے عہدہ پر مزید تین سال کی توسیع کا اعلان جاری ہو گیا۔
٭ایک قاری نے فرمائش کی ہے کہ کبیر والا ضلع خانیوال کے نامور استاد شاعر ’بیدل حیدری‘ کا کلام اپنے کالم میں شائع کروں۔ بیدل حیدری عام استاد ہی نہیں بڑے بڑے استاد شاعروں کے بھی استاد تھے۔ بیدل حیدری اعلیٰ درجے کے بے پناہ شاعر تھے۔ ان کے بہت سے شعر ضرب المثل بن چکے ہیں۔ یہاں ان کی ایک مشہور غزل شائع کی جا رہی ہے جو بعض بڑے بڑے شعری دیوانوں پر بھی حاوی ہے، یہ غزل پڑھئے:۔
دریا نے جب سے چپ کا لبادہ پہن لیا
پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا
فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی
عریاں ہوئے توشب کا لبادہ پہن لیا
گرمی لگی تو خود سے الگ ہوکے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی
ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا
بیدل لباس زیست بڑا دیدہ زیب تھا
اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا
 ٭چلتے چلتے شیخ سعدیؒ کا ایک شعر، ایک بار دمشق میں قحط پڑ گیا۔ اس کی شدت کا عالم یہ تھا کہ شیخ سعدی پکار اٹھے ’’چناں قحط سالے شداندر دمشق …کہ یاراں فراموش کردند عشق!‘‘ (قحط اتنا شدید تھا کہ دمشق کے عاشق لوگ عشق بھول گئے!)