10:01 am
چلوکشمیر کی توقیرِکا سامان کرنا ہے 

چلوکشمیر کی توقیرِکا سامان کرنا ہے 

10:01 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
المیہ یہ ہے کہ ہماری حکومت اس تمام تر بھیانک کھیل سے یا تو بالکل بے خبر تھی ،یا جان بوجھ کے خاموش تماشائی بنی رہی ۔ 370 آرٹیکل کے خاتمے کے بعد انٹرنیشنل ادارے جینو سائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے اندر جن خطرات اور جن حالات کا ادراک کیاوہ نہایت قابل توجہ ہیں۔جینو سائیڈ واچ کے الرٹ جاری کرنے کی سات وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ نسل کشی سے قبل قتل عام اور ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ دینا ۔

دوسری وجہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح ٹکراؤ کا تسلسل ، تیسری وجہ بی جے پی کا ہندو توا کا نظریہ کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے ، چوتھی وجہ بھارت کی سول انتظامیہ کی جانب سے قانونی پابندیوں کے بغیر کشمیر میں آمرانہ فوجی راج،پانچویں وجہ مسلم اکثریت پر ہندو اور سکھوں پر مشتمل ملٹری فورس کا راج، چھٹی وجہ ذرائع ابلاغ ، انٹرنیٹ میڈیا ، ٹیلی فون، موبائل اور تجارت کے ذریعے بیرونی دنیا تک رسائی کا مکمل بلیک آؤٹ اور ساتویں وجہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، تشدد ، جنسی زیادتی، بغیر الزام دو برس تک نظر بندی ، بلاجواز گرفتاریاں اور مسلمان سیاسی و انسانی حقوق نمائندگان کی علاقہ بدری شامل ہیں۔  جینو سائیڈ واچ کا کہنا ہے کہ نسل کشی کے آٹھ مراحل ایڈوانس سطح پر پہنچ چکے ہیں جن میں پہلا درجہ ہندو اور سکھ بھارتی فوج کا کشمیری مسلمان شہریوں سے مقابلہ ہے۔ دوسرا علامت بندی جس میں شناختی کارڈ پر مسلمان نام ، کشمیری زبان ، لباس اور مساجد کی تقسیم شامل ہے ۔ تیسرا مسلمانوں کو دہشت گرد ، علیحدگی پسند ،جرائم پیشہ اور باغی قرار دے کر انہیں انسانی حقوق سے محروم قرار دینا ہے ۔ چوتھا بھارتی ہتھیاروں سے لیس ٓآٹھ  لاکھ  بھارتی فوج  ور پولیس کا کشمیر پر تسلط ،پانچواں مودی اور بی جے پی کا اسلام دشمنی پر اکسانا اور سوشل میڈیاپر جھوٹ کی ترویج کرنا،چھٹا یہ پراپیگنڈہ کرنا کہ مودی حکومت کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور خوشحالی لانا ہے ۔ ساتواںمسلسل قتل عام کی تردید کرتے رہنا آٹھواں تشدد، جنسی زیادتی یاقتل کے واقعات پر بھارتی فوج یا پولیس کے خلاف کارروائی نہ کرنا ۔ایسی سنگین صورتحال جس پر غیر جانب دار اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں سے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں ہمارے حکمرانوں کی طرف سے ان تمام سازشوں اور یورشوں کے باوجود کوئی تیز رفتاری نظر نہیں آرہی جس قدر مودی نے دوسرے ممالک کے دورے کیے اور اپنا مؤقف پیش کر کے بھارت کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی پاکستان کی طرف سے ایسی تندو تیز سفارتی مہم ہر گز نہیں چلائی گئی ۔یہ تو بار بار کہا جا رہا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں مگر آرام دہ  محلات میں  بیٹھ کر  کربلائے  کشمیر میں کرفیو زدہ اور موت کے سائے کے تلے محصور  کشمیریوں  کے بارے  میں ساتھ کھڑے ہونے کے بیان کا مطلب یہی بنتا ہے جو  شاعر  نے کہا:  
ہمارے نیزوں ، ڈھالوں ، پہ تھا بھروسہ ، جنھیں ازل سے 
ہمارے آگے ، وہ سر بریدہ، پڑے تھے ،پر ہم کھڑے تھے 
مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لیے قوم میں موجود غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بار بار 27 ستمبر کو منعقد ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کا حوالہ دیا جا رہا ہے اور اس میں عمران خان کی تقریر کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا جا رہا ہے ۔مگر اس کی حیثیت سوائے طفل تسلیوں کے کچھ نہیں ہے ۔2016 ء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں بھر پور انداز میں مسئلہ کشمیر پر بات کی بلکہ اپنی تقریر کا بیشتر حصہ کشمیرہی کو بنایا حتیٰ کہ برہان وانی شہید کو آزادی کا مجاہد تک قرار دیا مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوا ۔یہی نتیجہ موجودہ وزیر اعظم کی تقریر کا بھی ہو گا لیکن  اب تو 27 ستمبر بھی دور نہیں ہے جلد ہی اتمامِ حجت کا بہانہ بھی ختم ہو جائے گا اور اب مزید کسی تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے مظلوم کشمیریوں کو اسلام آباد کا راہ تکتے تکتے بہت لیٹ ہو چکی ہے ۔اب جب کہ ہر طرف کشمیر کی خاطر آزادی کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے ان حالات میں آزادی مارچ کی قوم کو سمجھ نہیں آرہی۔نہایت افسوس کی بات ہے مولانا کے اقتدار میں ہوتے ہوئے دین اسلام کی خاطر نکلنے کے بڑے بڑے اہم مواقع آئے جس پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے خواہ وہ غازی ممتاز حسین قادری اور ناموس رسالت کا ایشو ہو یا حلف نامہ ختم نبوت پر حملے کی بات ہو یا رانا ثناء اللہ کی مبینہ قادیانیت نوازی کا معاملہ ہو ان میں سے کوئی ایشو بھی  ان کے سکوت کو نہیں توڑ سکالیکن قوم اس لیے پریشان ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت کی طرف سے اسلام پر بہت بڑا حملہ کیا گیا ہے مولانااس کی بجائے اسلام آباد کے لیے زیادہ بے چین کیوں ہیں؟