10:01 am
 آزادی مارچ کا کوئی امکان نہیں

 آزادی مارچ کا کوئی امکان نہیں

10:01 am

آج کل ساری اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور ملین مارچ کے  سحر میں مبتلا نظر آتی ہیں  مگر جو لوگ سیاست اور سیاستدانوں کو جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مولانا کو اپنے شو کے لئے مطلوبہ حمایت مل نہیں پائے گی۔ پی پی پی نے تو ’’اصولی‘‘ بنیاد پر مارچ اور دھرنے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ ن لیگ سے مولانا کی ٹیم کی متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں مگر ابھی تک ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ کچھ لوگوں کو اس بات کا بھی خوف ہے کہ مولانا صاحب عین وقت پر موقعہ واردات سے کہیں غائب ہی نہ ہو جائیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مولانا صاحب نے دھرنے کا شوشہ کسی کے احکامات کی تعمیل میں چھوڑا ہے تاکہ عوامی ردعمل کی پیمائش کی جائے۔ اب تک تو مولانا کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی ہے مگر کبھی یہ نظر آنے لگا کہ مارچ اور دھرنے میں عوام کی بھاری تعداد کی شرکت ہوسکتی ہے تو ڈگڈگی گھمائی جائے گی اور مولانا صاحب سب کو حیران چھوڑ کر منظر سے اوجھل ہو جائیں گے کس طرح اوجھل ہوں گے اس پر بھی بہت سے تبصرے سامنے آچکے ہیں۔
 
ایک بات جو کافی حد تک واضح ہے وہ یہ ہے  کہ مولانا فضل الرحمان زیرک تو بہت ہیں مگر قابل اعتبار بالکل بھی نہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ وہ مناسب اجرت پر کوئی بھی کرتب دکھا سکتے ہیں۔ بہت پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف 14ماہ پہلے کی بات ہے کہ صدارتی انتخابات میں مولانا صاحب نے ’’بڑوں‘‘ کے کہنے پر اس بات کو یقینی بنایا کہ پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار کامیاب ہو جائے۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کو معمولی اکثریت حاصل تھی مگر سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں میں اور سینٹ میں پی ٹی آئی اکثریت میں نہیں تھی۔ اس صورتحال میں بڑوں نے منصوبہ بنایا کہ اپوزیشن کے کم از کم دو صدارتی امیدوار سامنے آئیں تاکہ ان کا ووٹ تقسیم ہو اور عارف علوی صاحب منتخب ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے مولانا کی خدمات حاصل کی گئیں اور مولانا صاحب نے تمام اصرار کے باوجود چوہدری اعتزاز احسن کے حق میں دستبردار ہونے سے انکار کر دیا اور صدارت کا عہدہ عارف علوی کی جھولی میں جا گرا۔ اس سانحے کے بعد اگر نون لیگ مولانا پر  پھر سے اعتبار کرکے ان کے دھرنے کا حصہ بن جائے تو کوئی اس کی سیاسی بصیرت کو تسلیم کر ے گا۔
شہباز شریف  اگرچہ بڑوں کے حق میں سمجھے جاتے ہیں مگر وہ بھی صاف دھوکہ کھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ان کا تجزیہ ہے کہ عمران  حکومت جلد ہی خود ہی گر پڑے گی۔ اس کے لئے اولاً تو مولانا کا احسان اٹھانا ضروری نہیں ہے اور دوئم مولانا صاحب بھروسے کے آدمی نہیں ہیں۔ مثلاً یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ ملین آزادی مارچ سے دو تین دن قبل مولانا صاحب کو منصوبے کے مطابق گرفتار کرلیا جائے۔ یعنی مولانا اس منصوبے کا حصہ ہوں اور یہ کہہ کر جیل بیٹھ جائیں  کہ اب میں کیا کر سکتا ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ تمام جماعتیں جو مارچ میں شرکت کا واضح اعلان کر چکی ہوں گی ان کو ناصرف شدید شرمندگی ہوگی بلکہ ان کا سیاسی گراف بھی تیزی سے نیچے گر پڑے گا۔ پی ٹی آئی کو ایک نئی زندگی مل جائے گی۔
مولاناکی گرفتاری نیب قوانین کے تحت کی جائے گی‘ جہاں نیب گرفتار پہلے کرتی ہے اور تحقیقات بعد میں کرتی ہے۔ چنانچہ جب اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل جانے کے بعد مولانا فضل الرحمان کو ضمانت پر رہا کیا جائے تو ان کی ذاتی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو جائے۔ گرفتاری اور نیب کا مہمان بننے کے عوض انہیں مناسب سی جرات ادا کر دی جائے گی۔
نواز شریف اور شہباز شریف دونوں صورتحال کو سمجھتے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ مولانا کسی کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ ذرا سوچیں نواز شریف بیمار تھے تو ان کے ڈاکٹر کو ان سے ملنے کی اجازت  نہیں دی جاتی تھی مگر اچانک ہی انہیں سیاسی رہنمائوں کے ساتھ چار گھنٹے کی میٹنگ کی اجازت دے دی گئی۔ اب دیکھیں کہ یہ دو بھائی کس اسٹرٹیجی پر کام کر رہے ہیں۔ نواز شریف بظاہر فضل الرحمان کے ساتھ ہیں اور ان کی طرف سے آزادی مارچ میں شرکت کے مبہم سے بیان سامنے آرہے ہیں جبکہ شہباز شریف اس مارچ کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ابھی تین دن پہلے بھی ن لیگ کی اعلیٰ قیادت مولانا کی جماعت کے رہنمائوں سے ملی ہے اس میٹنگ کے بعد بھی کوئی حوصلہ افزا پیغام سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف نواز شریف نے اپنے وکیل کو ہدایات دے دی ہیں کہ وہ ان کی رہائی یا ضمانت کے سلسلے میں تیزی نہ دکھائیں بلکہ کم از کم دسمبر تک  انتظار کریں۔
اب دسمبر تک انتظار کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ اولاً  تو کھوسہ صاحب ریٹائر ہو جائیں گے اور دوسرے عمران کی حکومت ہوسکتا ہے کہ دسمبر تک خود ہی بکھر جائے بڑوں کو اب عمران اور اس کی ٹیم پر اعتماد نہیں رہا۔ وہ صرف چند ٹیلی فون کالز کے ذریعے ن لیگ سے پی ٹی آئی بھیجے گئے اراکین اسمبلی کو واپس ن لیگ بھیج سکتے ہیں جس سے آئینی تبدیلی آسکتی ہے جس کے لئے انہیں مولانا کا احسان مند نہیں ہونا پڑے گا۔ یہ آپشن واضح طور پر موجودہ  ہے اگرچہ اس میں ایک بہت بڑا رسک بھی ہے۔ سنا یہی جارہا ہے کہ شہباز شریف کی ٹیم بڑوں کے ساتھ مل کر اس رسک کو ختم کرنے کے طریقے طے کر رہی ہے۔
رسک یہ ہے کہ عمران خان  خاموشی سے نہیں جائیں گے۔ ان کی ذاتی مقبولیت اب بھی نوجوانوں کی حد تک قائم ہے اور یہ نوجوان بہت بڑا طوفان بدتمیزی برپا کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے طریقے سوچے جارہے ہیں کہ عمران خان کو سیاسی منظر نامے سے اس طرح ہٹایا جائے کہ وہ نئی حکومت کے لئے کوئی درد سری نہ پیدا کر سکیں۔ انہیں نااہل بھی قرار دلوایا جاسکتا ہے اور دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں۔
آئیے اب دیکھتے ہیں سکے کی دوسری طرف‘ اگر مولانا واقعی سنجیدہ ہیں اور دھرنے کے معاملے میں کسی اور کے ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے تو بھی متعدد وجوہات کی بنا پر انہیں دھرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہی وجہ یہ ہے کہ یہ دھرنا پرامن نہیں ہوگا جس جلوس کے ساتھ 90ہزار کی حفاظتی ’’فورس‘‘ ہو وہ کسی نہ کسی مرحلے پر تشدد کی طرف ضرور جانکلے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دھرنے کے ملکی معیشت پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ معیشت پہلے ہی بیٹھی ہوئی ہے وہ مزید پریشر  نہیں لے سکتی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ  اگر دھرنا کامیاب ہوگیا تو ملک میں  انتہا پسندی پر عود کر آئے گی جس کا عالمی سطح پر ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ ویسے بھی دھرنے کی کامیابی کے بعد ن لیگ کو کچھ نہیں ملنے والا۔ فوری طور پر دوبارہ  انتخابات نہیں ہوسکتے۔ اگر حکومت بدلنی ہے تو صرف ’’ان ہائوس‘‘ تبدیلی سے ہی بدلے گی ورنہ اس کے اثرات ملک کے سیاسی اور معاشی منظرنامے پر بہت ہی منفی ہوں گے۔ لہٰذا دونوں صورتوں میں دھرنے سے قبل مولانا کی گرفتاری تقریباً یقینی ہے۔
بہرحال باقی جو کچھ بھی ہو فی الحال مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور آزادی مارچ کا کوئی چانس نظر نہیں آرہا۔ نون لیگ اور پی پی پی ان کے ہاتھوں بیوقوف بننے پر تیار نہیں ہیں۔