10:02 am
زندگی کی پاسباںہےموت

زندگی کی پاسباںہےموت

10:02 am

بہت سے فرعونوں، ظالم بادشاہوں، جمہوریت کانعرہ لگانے والی حکومتوں، فوجی اور سیاسی  آمروں نے انسانیت کابے دریغ قتل کرکے اپنے ہاتھ انسانی خون سے رنگے۔پہلی جنگ عظیم میں انسانوں کا قتل،دوسری جنگ عظیم میں ہٹلرکے ہاتھوں انسانی جانوں کاضیاع، جاپان کے شہروں ہیروشیمااورناگا ساکی پرامریکاکاایٹمی حملہ جس میں نہتے لوگوں کی ہڈیاں بھی راکھ بن گئیں، ویت نام،کوریا،بوسنیا، ایران عراق،فلسطین،عرب اسرائیل  اورگلف کی لڑائیوں میں بے پناہ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔حالیہ دورمیں عراق اورافغانستان میں جوہورہا ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے لیکن کشمیرکی صورت حال سب سے زیادہ ابتر اور ناروا ہے اور دن  بدن ساری دنیاکے امن کیلئے ایک خطرناک دھماکہ خیز ہوتی جارہی ہے کہ اس مسئلے کے تین فریقوں میں سے دوایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں۔
 
 حیرت ہے ان افرادکی سوچ پرجوآج بھی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ کوئی پرواہ کئے بغیراپنی اسی پرانی روش کوقائم رکھے ہوئے ہیں اور کشمیرکواپنااٹوٹ انگ کہتے ہوئے اپنے ظلم وستم میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔سرینگراوردہلی کے درمیان صرف پچھلے بیس برسوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہداکی قبروں کے سات سو قبرستانوں کاسمندرحائل ہوچکاہے اور بالخصوص گزرے ہوئے تین ماہ میں ایساکون سازخم اوردکھ ہے جومجبورومظلوم کشمیری عوام نے دہلی میں براجمان حکومتی جنتاکے ہاتھوں نہیں سہا ہے۔ کشمیریوں اوربھارتی حکومت کے درمیان بے یقینی اور نفرتوں کاسمندراس قدروسیع ہوچکاہے کہ اس کوپاٹنے کی ہرکوشش کاالٹانتیجہ نکل رہاہے۔
صرف سرینگرکے شہرخموشاں کی آبادی میں حالیہ دنوں میں اس قدرتیزی کے ساتھ اضافہ ہواہے کہ اب بھارتی استبدادکاشکارہونے والے نوجوانوں کی تدفین کا مسئلہ پیداہوگیا ہے ۔یہ وہ شہداکے قبرستان ہیں جن کے دروازے پرلگے ہوئے بینرکے الفاظ پرشہرخموشاں کی طرف سے وہ پہلی سلامی موصول ہوتی ہے کہ ’’ہمیں فراموش نہ کرنا، ہم نے آپ کے ’’کل‘‘پراپناآج‘‘ قربان کر دیا ہے ۔یہ ہے سینکڑوں قبرستانوں میں سے ایک قبرستان کانحیف ونزار، ادھیڑ عمر عبدالحمید گورکن جو برسوں سے اپنے دل میں ڈھیروں داستانیں چھپائے اس شہرِ خموشاں کی دیکھ بھال کو اپنے  لئے  ایک اعزازاور بخشش ونجات کا وسیلہ سمجھ کردن رات خدمت میں مصروف ہے۔ 
اب توان شہرخموشاں کے نگراں جلسے جلوسوں اورمظاہروں کودیکھ کر اندازہ لگالیتے ہیں کہ اس کے شہدا کی کتنی تعدادگھرواپس جانے کی بجائے اس شہر خموشاں کارخ کریں گے۔پچھلے دنوں جب فوج اورپولیس کے خلاف پتھرپھینکنے والے کم عمرلڑکے یامعصوم طلبہ میدان میں اترے تودوسری طرف سے بھارتی فوجیوں نے  اندھا دھند پیلٹ گن سے بھون دینے کاانسانیت سوزسلسلہ شروع کردیاتوگورکنوں نے شہداکی لاشیں آنے سے پہلے ہی پچاس نئی قبریں تیارکرلیں جو کہ بعد میں کم پڑگئیں۔عبدالحمیدکہتاہے کہ پہاڑوں سے اترتی موت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔مسلح درندوں کے مقابلے میں سنگبازنوجوان اپنی جانیں بے دریغ اندازمیں قربان کرنے کیلئے واضح طورپرنظرآرہے تھے جبکہ گولیاں چلانے والوں کے عزائم بھی کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ہمیں اندازہ ہوگیا تھاکہ موت تھوک کے حساب سے آئے گی،اسی لئے ہم نے پیش بندی کے طورپراپناکام جلدی جلدی مکمل کرناشروع کردیا تھا۔
 تھوڑی دیرکیلئے عبدالحمیدخاموشی سے آسمان کوتکتارہا،وہ کچھ کہناچاہتاتھالیکن شائد اس کی زبان اس کاساتھ نہیں دے رہی تھی۔یکدم اس کی آنکھوں سے گرم گرم آنسوں کے چشمے ابلنے لگے۔اس نے ایک قبرکی طرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ تین دن پہلے کی یہ تازہ قبرایک بارہ سالہ بچے کی ہے جواپنی شہادت سے ایک ہفتہ قبل ہرروز بلاناغہ ان شہدا کی قبروں پراپنی بہت ہی خوبصورت مترنم آوازمیں قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف رہتا تھا۔چار دن پہلے اس نے مجھ سے سوال کیاکہ تم توبرسوں سے اس قبرستان میں موجودہواورہزاروں شہداکی قبروں کوکھودنے کی سعادت بھی تم کوحاصل ہے۔ کوئی ایک مثال ایسی توبتاجب تمہیں کسی کودفناتے ہوئے ہوئے سب سے زیادہ دکھ ہوا ہو ؟ میں اس بچے کے سوال پرچونک گیااوراس کو یہاں سب سے کم عمرشہیددوسالہ بچے ثاقب بشیرکی قبرپرلے گیاجسے اس کی ماں کے ساتھ بھارتی ظالم فوج نے فائرنگ کرکے تقریباً آٹھ سال   پہلے شہیدکردیاتھا۔اس بارہ سالہ بچے نے پہلے ان دونوں قبروں پرپڑے ہوئے سوکھے پتوں کوایک طرف کیااوراس کے بعد بہت ہی درد ناک آوازمیں اس قبرپر قرآن کی تلاوت کی اور سلام کرکے رخصت ہونے لگاتواونچی آواز میں بولا کہ  بابااگرمیں شہید ہوجاں تو مجھے بھی اس بچے کی بغل میں دفن کرنا۔میں نے اس کوکرفیوکی پاسداری کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے گھر لوٹ جانے کوکہا۔عبدالحمید کچھ دیرکیلئے پھر خاموش ہوگیا جیسے وہ اپنی قوتِ گویائی کو اکٹھا کر رہا ہو۔
ہرشہیدکی میت دیکھ کرقدرتی طور پر صدمہ ہوتاہے لیکن یہ تومیرے گمان میں بھی نہ تھاکہ شہداکی قبروں پرجس بچے نے چنددن پہلے جس سوزوگدازسے قرآن کریم کی تلاوت کی تھی،تین دن کے بعدمجھے اسی بچے کودوسرے چھ بچوں سمیت اپنے ہاتھوں سے لحدمیں اتارناپڑے گا۔اس معصوم شہید کی میت دیکھ کر میرے دوسرے ساتھیوں کی آنکھوں سے بھی آنسوئوں کاسیلاب امڈ پڑا۔ہم نے اس شہید کوبھی اسی دوسالہ ثاقب بشیرکے ساتھ ہی دفن کردیاجس کے جسدِخاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹاہواتھا۔مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس بچے نے دوماہ پہلے اپنی والدہ کو یہ وصیت کی تھی کہ میں جب شہید ہوجائوں تو مجھے پاکستانی پرچم میں دفن کرنااورمیراجنازہ سیدعلی گیلانی پڑھائیں۔سید علی گیلانی کوتوبھارتی درندوں نے پچھلے نوسال سے غحرمیں نظر بند کر رکھا ہے اوربچے کاجنازہ پڑھانے کی اجازت نہ مل سکی لیکن میں نے تہیہ کررکھاہے کہ ہمیشہ اس بچے کی قبرکوسرخ گلاب کے پھولوں کی دبیز چادر میں اپنے آنسوملاکرسجائے رکھوں گا۔کیا ایسی قوم کو مزید غلام بناکررکھاجاسکتا ہے جوموت کواپنی زندگی قراردے چکی ہو، یقینا ًہرگز نہیں!