10:03 am
شرمین‘ ملالہ‘ اسماعیل گلالئی اور ام حسان

شرمین‘ ملالہ‘ اسماعیل گلالئی اور ام حسان

10:03 am

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پیر کے روز سچ بول کر قوم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ وہ  فرماتی ہیں کہ ’’پاکستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی چیمپیئن تنظیمیں کشمیر کے مسئلے پر خاموش دکھائی دیتی ہیں‘ ملالہ یوسف زئی اور شرمین عبید چنائے کو پاکستان کا منفی چہرہ دکھانے پر ایوارڈز دئیے گئے لیکن آج کشمیر میں حقیقی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافیوں پر خاموش ہیں‘ ان کی جانب سے  بھارتی مظالم پر بھی ڈاکومنٹری بننی چاہیے‘ دنیا کے سامنے ملالہ یوسف زئی کے منہ سے بار بار کشمیریوں پر ہونے والے مظالم بیان ہونے چاہیے‘ آج ہندوستان کا منفی اور سیاہ چہرہ دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
 
یہ شرمین عبید چنائے وہی عورت ہے کہ نواز شریف دور میں جسے مریم  نواز کے ایماء پر وزیراعظم ہائوس میں ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جبکہ ملالہ یوسف زئی کو مری کے مرد ’’آہن‘‘ شاہد خاقان عباسی کے دور میں پاکستان کا دورہ ایسے کروایا گیا کہ جیسے مقبوضہ کشمیر کی فاتح ہو؟ رہ گئی بات پاکستان میں  کام کرنے والی انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کی تو اس حوالے سے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے کہ آیا انہیں  ’’انسانی‘‘ حقوق کی تنظیمیں کہنا چاہیے یا پھر حقوق ’’حیوانات‘‘ کی این جی اوز‘ یہ خاکسار تو اپنے کالموں میں ان اندھی‘ بہری‘ گونگی  این جی اوز کو حقوق ’’حیوانات‘‘ کی این جی اوز لکھتا چلا آرہا ہے۔ ورنہ اگر وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہوتیں تو ڈاکٹر فردوس اعوان جیسی سیکولر خاتون کو یہ کیوں کہنا پڑتا کہ پاکستان  میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کے مسئلے پر خاموش دکھائی دیتی ہیں‘ پاکستان  پر حکومتیں کرنے والے کس قدر دوغلے کردار کے حامل ہوتے ہیں کہ  حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ ہی ملالہ یوسف زئی کو علم کی دیوی اور نجانے کیا کیا  قرار دیا کرتے تھے۔ پاکستان پر حکومت کرنے والوں نے ہی وزیراعظم ہائوس میں شرمین عبید چنائے کو ایوارڈ عطا کیا تھا اور آج عمران خان حکومت کی معاون خصوصی برائے اطلاعات قوم کو بتا رہی ہیں کہ ملالہ یوسفزئی اور شرمین عبید کو پاکستان کا منفی چہرہ دکھانے پر ایوارڈ دئیے گئے۔
بات تو سچ ہے  مگر بات ہے رسوائی کی ...کیونکہ ملالہ اور شرمین عبید ڈرامے کو بام عروج پر پہچانے کے لئے حکومتوں میں بیٹھے ہوئوں کے ساتھ‘ ساتھ بعض میڈیا ہائوسز بھی پیش پیش رہے‘ بعض اینکر اور اینکرنیاں تو اس حوالے سے پاگل پن کی انتہا پر پہنچ کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرتی رہیں‘ سوال یہ ہے کہ کیا شرمین عبید چنائے اسی دنیا میں زندہ ہے  یا پھر اگلے جہاں سدھار چکی ہے؟ اگر زندہ ہے تو ابھی تک کشمیر کے سوا کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کی مظلومیت پر اس نے ایک ہی ڈاکومنٹری نہیں بنائی تو کیوں؟کیا اس کی نظروں سے بی بی سی کی وہ رپورٹ نہیں گزری  کہ جس میں لکھا ہوا ہے کہ کشمیری بوڑھوں اور جوانوں کو ٹارچر سیلوں میں اس  بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ چیخ پڑتے ہیں کہ ہمیں تشدد کا نشانہ بنانے کی بجائے گولیاں مار کر قتل کر  ڈالو‘ رپورٹ کے مطابق بھارتی درندے کشمیریوں کی ڈاڑھیوں کے بال اس ظالمانہ انداز میں نوچتے ہیں کہ ان کے دانت بھی ساتھ ہی ٹوٹ جاتے ہیں‘ پاکستان کی چند لڑکیوں کے چہروں پر تیزاب پھینکنے والے ظالم تو قانون کی گرفت میں آگئے مگر اس کے باوجود شرمین نے ان تیزب سے جلے چہروں پر ڈاکو منٹر ی تیار کرکے یورپ سے اعزازات اور ڈالر وصول کرلئے‘ لیکن مقبوضہ کشمیر کی سینکڑوں بیٹیوں کو بھارتی فوج نے بیلٹ گن کے ذریعے اندھا کر دیا‘ کیا شرمین اینڈ کمپنی کے نزدیک کشمیر کی ان بیٹیوں کا شمار ’’انسانوں‘‘ میں نہیں ہوتا؟ کشمیر کی سینکڑوں عفت مآب بیٹیوں کو بھارتی درندوں نے  بے آبرو کر ڈالا‘ آج 52دن ہوگئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا عالم ہے۔ اگر پاکستان  میں حقوق حیوانات نہیں بلکہ حقیقتاً انسانی حقوق کی تنظیمیں موجود ہیں تو وہ کدھر ہیں؟ انہوں نے ان 52دنوں میں اسلام  آباد میں بھارتی مظالم کے خلاف ایک بھی احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا تو کیوں؟
وہ موم بتی مافیا کی میرا جسم‘ میری مرضی والیاں عورتوں کے حقوق کی ’’مامیاں‘‘ کہاں غائب ہیں؟ کیا کشمیر میں لاکھوں خواتین پر ہونے والے بے پناہ مظالم ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں؟ سنا ہے کہ پی ٹی ایم کی اسماعیل گلالئی بھی خفیہ طور پر ملک سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ چکی ہے اور وہاں پناہ لینے کی  کوشش کر رہی ہے۔امریکہ پہنچ کر بھی وہ اسلام اور پاک فوج کے خلاف تبراء کرنا نہیں بھولی‘ کیا پی ٹی ایم کے منظور پشتین‘ اسماعیل گلالئی سے اظہار برات کریں گے‘ اسماعیل گلالئی پر کئی مقدمات درج ہیں کیا حکومت اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے واپس لائے گی اور بھگانے والے سہولت کاروں کو پکڑے گی؟
حیرت کی بات ہے کہ پہلے عبدالشکور نامی قادیانی پرسرار اندازمیں جیل سے رہا ہو کر ٹرمپ کے دربار تک جا پہنچا اور پاکستان میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی‘ اور اب اسماعیل گلالئی بڑے پرسراز انداز میں ملک سے فرار ہو کر امریکہ چلی گئی‘ کیسے‘ ؟ ہماری پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف اسلام اور پاکستان ہے‘ اس  لئے ہم یہ سوالات اٹھاتے رہیں گے۔ 
دین اسلام اور پاک فوج کے خلاف تبراء کرنے والے آخر مقدمات ہونے کے باوجود گرفتار ہونے کی بجائے ملک سے فرار ہو کر امریکہ اور یورپین  ممالک میں کیسے جا پہنچتے ہیں۔ مجھے پی ٹی ایم کا کوئی سہ لیس یہ سمجھانے کی کوشش مت کرے کہ اسماعیل گلالئی عورت ہے اس لئے اسے مجبوراً فرارہونا پڑا‘ کیا دنیا ام حسان کے نام سے واقف نہیں ہے؟ یہ وہی ام حسان ہیں کہ جولائی 2007ء میں جس کے اکلوتے جوان سالہ بیٹے کو رسوا کن ڈکٹیٹر کے حکم پر شہید کر دیا گیا‘ ام حسان کی نوے سالہ ساس‘ عبدالرشید غازی  نام کے دیور سمیت جامعہ حفصہ کی سینکڑوں پاکباز بیٹیوں کو فاسفورس بموں سے زندہ جلا ڈالا گیا‘ ام حسان پر درجنوں مقدمات قائم کر دئیے گئے‘ مگر ام حسان ظلم و جبر کی چکی میں پسنے کے باوجود پاکستان سے فرار ہو کر نہ امریکہ گئیں اور نہ برطانیہ‘ بلکہ  سنا ہے کہ وہ آج بھی اسلام آباد میں قوم کی تین ہزار سے زائد بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہیں۔اسلام  پسند اور سیکولر خواتین میں یہی وہ فرق ہے جس کو جان بوجھ کر چھپایا جاتا ہے‘ جو اپنے موقف اور نظریات میں سچا ہوتا ہے وہ ظلم سہہ جاتا ہے‘ مگر ماں دھرتی سے غداری نہیں  کرتا اور موقف اگر جھوٹ پر مبنی ہو تو پھر قانون سے فرار ہو کر لوگ امریکہ میں چھپنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔