10:04 am
ٹرمپ، ثالثی کی ایک اور پیش کش

ٹرمپ، ثالثی کی ایک اور پیش کش

10:04 am

٭ٹرمپ، پھر ثالثی کی پیش کشO بھارت: جنرل بپن راوت کی پاکستان کو نئی دھمکیO ’’عمران خان جعلی وزیراعظم ہے‘‘ اقوام متحدہ کو فضل الرحمان کا پیغامO وزیراعظم نے بجلی کمپنیوں کو 10 ارب روپے جرمانہ کی معافی روک دیO آئندہ ن لیگ میں  چلائوں گا،کیپٹن صفدرO افغان طیارے، بارات پر بم باری، 40 افراد جاںبحقO مجھے نوبل انعام ملنا چاہئے۔ ٹرمپOمحبوبہ مفتی فلمیں دیکھ رہی ہے۔ بھارتی وزیرجتندر سنگھ۔
 
٭امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پھر کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ مکاری، عیاری کی ایک اور پیش کش! ایک روز قبل ہیوسٹن میں نریندر مودی کی پاکستان دشمن ریلی میں شریک ہوتا ہے۔ مودی پاکستان کو دہشت گرد اور ٹرمپ کو بھارت کاسچا دوست قرار دیتا ہے! یہی ٹرمپ اگلے روز پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تعریفیں، بہترین وزیراعظم، میرا قابل اعتماد دوست! منافقت کی انتہا! پتہ نہیں اس شخص کی ثالثی پر پاکستانی وزارت خارجہ کیوں خوش ہو رہی ہے۔ ٹرمپ پاکستان کو صریح دھوکا دے رہا ہے۔ اس کالم میں علامہ اقبال کی ’ایک مکڑا اور مکھی‘ والی نظم چھاپ چکا ہوں۔ مکڑا مکھی کو پھانسنے کے لئے اس کی خوبصورتی، خوش نمائی، سریلی آواز‘‘ کی اسی طرح تعریف کر کے بالآخر اسے پھانس لیتا ہے فرض کریں امریکہ کا یہ مکڑا چکر دے کر بھارت کو ثالثی پر رضا مند کر لیتا ہے اور پھر بھارت کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہے تو کیا بنے گا؟ پاکستان کی کشمیر سے دستبرداری، آزاد کشمیر بھی خطرے میں!خدا تعالیٰ پاکستان اور کشمیر کو محفوظ رکھے!
٭مولانا فضل الرحمن نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کا جعلی وزیراعظم ہے، ہمارا نمائندہ نہیں۔ اس بیان کو بھارتی میڈیا نمایاں اچھال رہا ہے۔ ایک ایسے موقع پر کہ عالمی سطح پر کشمیر کا معاملہ نمایاں ہو رہا ہے، پاکستان سے آواز اٹھتی ہے کہ یہ نمائندگی ہماری نہیں!بھارت کو اور کیا چاہئے؟ عمران خان اچھا ہے، یا بُرا ہے، اس کے ساتھ ملک کے اندر جو مرضی لڑائی کرو مگر اقوام متحدہ کو پاکستان کے اندر مداخلت کی دعوت! اسلام آباد کو فتح کرنے کے لئے ہرقسم کے حربے! چلیں، اسلام آباد فتح ہو گیا، عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی، پھر؟ نئے انتخابات ناممکن ہیں، 25 ارب روپے سے زیادہ رقم چاہئے۔ یہ رقم بھی مل جائے، انتخابات ہو جائیں تو کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ یہی الیکشن کمیشن، یہی فوج! کیا کوئی پارٹی بھاری اکثریت حاصل کر پائے گی؟ کیا ن لیگ، پیپلزپارٹی اکٹھی بیٹھ سکیں گی؟ مولانا کو کیا حاصل ہو گا؟ اور کیا تحریک انصاف حکومت کو چلنے دے گی؟ پھر ریلیاں اور دھرنے! حالات کیسے نازک ہیں! بھارت کا  آرمی چیف جنرل بپن کسی بھی وقت پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ دونوں طرف افواج اسلحہ تانے کھڑی ہیں۔ جنگ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، ایسے موقع پر اسلام آباد پر حملہ! ملک کا نظام منتشر کرنے کی دھمکیاں! کیا ملک کی محافظ قوتیں ایسا ہونے دیں گی۔ ذرا ہندوستان ٹائمز، انڈین ایکسپریس، ٹائمز آف انڈیا اور ’ہندو‘ کے تبصرے پڑھئے، کیسا اظہار مسرت کیا جا رہا ہے!
٭ن لیگ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی جگہ پارٹی کی قیادت سنبھال لی ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے کہا ہے کہ شہباز شریف کی کوئی اہمیت نہیں، آئندہ مجھ سے بات کی جائے۔ اخباری خبروں کے مطابق اس موقع پر مولانا نے آزادی مارچ کے لئے ن لیگ سے بھاری فنڈز کا مطالبہ کر دیا۔ اس پر کیپٹن صفدر نے کہا کہ وہ نوازشریف اور مریم نواز سے پوچھ کر بتائے گا! یہ کوئی نئی بات نہیں، گھر میں دانے نہ ہوں تو گھر والے اسی طرح لڑا کرتے ہیں!
٭ایک تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ پیش کر دی کہ لاہور سیکنڈری بورڈ کے امتحان میں صوبائی وزیر فیاض الحسن کے بیٹے کو پریکٹیکل کے ٹیسٹ میں 14 نمبر دیئے۔ وہ فیل ہو گیا مگر ہیڈ ایگزامینر پروفیسر سلیم نے 14 کو کاٹ کر 30 نمبر کر دیئے اور لڑکا پاس ہو گیا! استغفار! اس ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے! مزید کچھ نہیں ہو گا۔ لڑکا بالآخر پاس ہو جائے گا اور علم و تعلیم سر پیٹتے رہ جائیں گے۔
٭ بھارت کے مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے گھروں میں نظر بند سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ گھروں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کی نظر بندی کو ہائوس اریسٹ (گھر میں قید) نہیں بلکہ ’ہائوس گیسٹ‘ کہنا چاہئے۔ انہیں فائیو سٹار ہوٹلوں جیسی آرام دہ سہولتوں کے ساتھ بھارتی فلموں کی بہت ہی کیسٹیں دی گئی ہیں۔ اعلیٰ کھانا دیا جا رہا ہے۔ صرف یہ کہ گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں،انہیں18 ماہ کے بعد رہائی ملے گی ایک پرانا دلچسپ اشتہار یاد آ رہا ہے۔ عربی نسل کا خوبصورت جواب سفید صحت مندگھوڑا برائے فروخت، ہر قسم کی خوبیاں، ہاں، یہ کہ ذرا سامَر گیا ہے!
٭ وزیراعلیٰ پنجاب کے جنوبی پنجاب کے آبائی علاقے میں چوری کے الزام پر دو نوجوانوں کو پنچائت کے حکم پر دہکتے انگاروں پر چلایا گیا۔ (تفصیل اخبارات میں) پنچائت کے سربراہ کا نام ملک سرتاج  بزدار!
٭ٹرمپ نے کہا ہے کہ سابق صدر اوباما کو غلط طور پر نوبل انعام ملا تھا۔ نوبل انعام کا مستحق تو میں ہوں! پتہ نہیں مجھے یہ انعام کیوں نہیں دیا جا رہا؟ ٹرمپ کی شکائت درست ہے ابھی کل ہی اس کے تربیت یافتہ افغان طیاروں نے افغانستان میں شادی والے ایک گھر پر بم باری کر کے 40 افراد جاں بحق، بے شمار زخمی کر دیئے ہیں۔ ’انعام‘ تو بنتا ہے!
٭ایک دلچسپ خبر: کرایہ دار نے مالک مکان نے شکائت کی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہے، اندر باہر چوہے ناچتے پھر رہے ہیں! مالک مکان نے جواب دیا کہ تم معمولی سا کرایہ دے رہے ہو، اتنے میں کیا یہاں بھارت کی مادھوری ناچے گی؟
٭وفاقی وزیر مالیات حماد رضا کو موٹر وے پولیس نے تیز رفتاری پر ساڑھے سات سو روپے جرمانہ کر دیا۔ موٹروے پولیس بہت سخت ہے، وزیر نے جرمانہ ادا کر کے جان چھڑائی۔ عین اسی روز آسٹریلیا میں مشہور کرکٹر شین وارن کو تیز رفتاری پر 1500 ڈالر جرمانہ اور ایک سال کے لئے ڈرائیونگ پر پابندی کی سزا مل گئی! پاکستان کے وزیر پر صرف ساڑھے سات سو روپے جرمانہ!
٭میں دفتر جا رہا تھا۔ ایک جگہ کسی وجہ سے ایک سکول میں آدھی چھٹی کے وقت ساری چھٹی کر دی گئی۔ بچے خوش ہو کر چھلانگیں مارتے جا رہے تھے۔ میرپور میں مقیم پروفیسر ’شاخِ نبات‘ نے نِکیاوے‘ کے نام سے بچپن کی بولیوں کی ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ اس میں ایک دلچسپ بولی ہے ’’اَدِّھی (نصف) چُھٹی ساری، میاں مکھی ماری، میاں گیا دِلّی، اوتھوں لیاندی بِلّی، بِلّی دِتّے بچے، اللہ میاں سچے!‘‘
٭ملٹری انٹیلی جنس پنجاب کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد یوسف بہت اچھے شاعر اور ادیب بھی ہیں۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ آہٹ اور شگفتہ تحریروں کا مجموعہ سالٹ رینج شائع ہو چکا ہے۔ اب نیا شعری مجموعہ ’’شہر غم گساراں‘غم کے نام سے شائع ہوا ہے۔ وطن کی محبت اور اردگرد معاشرے کی صورت حال پر خوبصورت ادبی انداز میں بہت خیال انگیز اور متاثر کن کلام کہا ہے۔اس پر جامع تبصرہ بعد میں۔ چند شعر :
ہمیں یوں دیکھ کر پتھرا گئے ہیں
امیر شہر تو گھبرا گئے ہیں
ہوا یہ کیسی بستی میں چلی ہے
کہ آئینے سبھی دھندلا گئے ہیں
…………………
یقیں کتنا ہمیں تھا، کسی کے آنے کا
سحر ہوئی بھی تو ہم نے دیئے بجھائے نہیں
عجب نہیں کہ ہر موسم کا ہو اثر ان پر
خزاں کی رُت میں پرندوں نے گیت گائے نہیں
…………………
میں نے جو بات سدا اس سے چھپا کر رکھی
وہ ہوائوں کو سر راہ سنا دیتے ہیں