07:47 am
یو این جنرل اسمبلی وزٹ 

یو این جنرل اسمبلی وزٹ 

07:47 am

  اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو یو این جنرل  اسمبلی کے سیشن سے خطاب کے بعد وطن واپس لوٹ آئیں گے۔ انہیں نیویارک میں پہنچے ہفتہ گزر چکا ہے اس دوران انہوں نے ورلڈ لیڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ امریکی اداروں سے بھی خطاب کیا اور ہر سطح پر مسئلہ کشمیر  پر پاکستانی موقف  سے آگاہ کیا اور بھارتی  جارحیت اور کشمیریوں پر بھارتی  ظلم و ستم کے بارے میں تفصیل سے آگاہ بھی کیا اور سرکاری رپورٹس کے مطابق ان کی ملاقاتیں بہت کامیاب رہیں۔
اسی دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہوسٹن میں  اوورسیز انڈینز سے بھرپور خطاب کیا۔  حاضرین کی تعداد 30سے چالیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے اسی جلسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خطاب کیا۔  جہاں مودی نے یہ کہا کہ ہم نے بھارت کا 70سالہ مسئلہ حل کردیا ہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے وہاں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور  بھارت مل کر اسلامک ٹیررزم کا مقابلہ کریں گے جبکہ دیگر کئی مقامات پر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش بار ہا دوہراتے رہے۔  ہوسٹن میں جب مودی خطاب کررہے تھے تو ٹرمپ بھی سامنے بیٹھے تھے اور شاید سامعین کے ساتھ مل کر تالیاں بھی بجاتے رہے۔  یوں اگر دیکھا جائے تو ٹرمپ کیلئے یہ ایک انتخابی جلسہ تھا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں بھارتی تارکین وطن کے ووٹ جیتنا ان کا مطمع نظر بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مودی کی بھی یہ بڑی کامیابی ہے کہ ٹرمپ نے ان کے جلسے سے نہ صرف خطاب کیا بلکہ بڑی حد تک ان کے موقف کی تائید بھی کہا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب جنیوا میں یو این ہیومن رائٹس کمیشن میں پاکستان کو کشمیریوں اور کشمیر کے حق میں قرارداد لانا تھی جس کے لئے انہیں 58ممالک کی حمایت درکار تھی مگر چونکہ ہمارے سفارت کار مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کرپائے انہیں محض 42 ممالک کی حمایت میسر آسکی اس لئے انہوں نے یہ قرارداد واپس لے لی جبکہ ہمارے وزیر خارجہ ابھی چند ہفتے پہلے جنیوا گئے اور اپنے کامیاب دورے سے واپسی پر قوم کو یہی خوش خبری دی کہ انہوں نے بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔  جبکہ حالیہ قرارداد کی حمایت میں سعودی عریبیہ‘ متحدہ امارات‘ بحرین کے بھی ووٹ ہمیں نہ مل سکے جبکہ  ترکی‘ چین‘ ایران ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔
سوشل میڈیا پر ایک معروف اینکر پرسن یہ بتا رہے تھے کہ نیویارک  یو این جنرل اسمبلی کے سیشن کے لئے بھارت سے دو سو سے زائد جرنلسٹ‘ تجزیہ کار لابسٹ گئے ہوئے تھے جبکہ پاکستان نے کوئی میڈیا سینٹر بھی نہیں بنایا اور بنایا بھی تو چند روز بعد۔ نیویارک میں کوئی پریس سنٹر نہیں نہ جانے ہمیں کیوں بچت اور آسٹریٹی کا اتنا شوق ہے کہ ہم قومی مفاد کو بھی بعض اوقات پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ نیویارک یو این آفس میں ایک پریس سینٹر قائم کرنے کا بنیادی مقصد محض رپورٹنگ نہیں بلکہ یہ ایک طرح کا لابی ہائوس ہوتا ہے۔ قد آور جرنلسٹ اوپینین لیڈرز کو بلاتے ہیں ان کے انٹرویو کئے جاتے ہیں انہیں اپنی قومی موقف سے روشناس کرایا جاتا ہے اور یوں پریس سینٹر سے پیدا ہونے والا تاثر ایک آزادانہ  اور دانشورانہ موقف سمجھا جاتا ہے جو ورلڈ پریس میں چھپتا ہے اور discuss ہوتا ہے لیکن نجانے کیوں ہمارے سفارت کار محض خوبصورت ڈرافٹ‘ اچھی انگریزی اور سوٹ ٹائی کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔
ہمیں شاید ابھی تک یہ ادراک نہیں ہوپایا کہ دنیا صرف وہ نہیں جانتی جو ہم بتاتے ہیں بلکہ دنیا کے لیڈرز اور اوپینین لیڈرز وہ بھی جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے یا ہم جاننا نہیں چاہتے۔  ہر جگہ جا کر ہم کرپشن کا رونا روتے ہیں گرتی اکانومی کا رونا روتے ہیں اداروں کی نااہلی اور عدم کارکردگی کا واویلا کرتے ہیں اور یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کوئی سرمایہ کار ایسے ملک کا رخ نہیںکرے گا جہاں یہ سب کچھ ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آزاد کشمیر کے صدر کو وزیراعظم کو اس دورے پر ساتھ لے جاتے اور کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنے کیلئے کشمیر کی آزادی کے بیس کیمپ کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جاتا۔  مسعود خان بہت اچھی طرح یو این اور یو این کے اداروں سے آگاہ وہ کشمیر پر بات کرتے ورلڈ پریس اور اوپینین لیڈرز سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جاتا مگر یہاں بھی شاید Austerityکو ہی مدنظر رکھا گیا۔
بین الاقوامی سیاست میں جذبات کے بجائے logicاور دلیل سے قائل کیا جاتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور دلیل سے بات کرتے ہیں مگر یہ کام ٹیم ورک ہے۔  ہوسٹن میں مودی کی جلسہ گاہ کے باہر اگرچہ پاکستانی تارکین وطن‘ کشمیریوں اور سکھوں نے ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہو کر احتجاج بھی کیا۔ کشمیر کا جھنڈا بھی بلند کیا مگر ایک بھرپور اور agressiveکمپین نہیں بن سکی۔ اب بھی شاید وقت ہے ہمیں پبلک ڈپلومیسی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی وزارت خارجہ میں ایک الگ شعبہ بنانا چاہئے اور غیر سرکاری سطح پر تھنک ٹینک کھڑا کیا جائے اس میں معروف ریٹائرڈ ڈپلومیٹ‘ کمیونی کیشن ایکسپرٹس‘ spin doctors‘ سیاسی دانشور ہوں۔ تو اہم ایشوز پر فارن آفس اور  پی ایم کو inputدے سکیں کیونکہ  یہ ایک طویل جنگ ہے جو ہمیں ہر حال میں جیتنی ہے۔