07:48 am
 خبر کی لسی!

 خبر کی لسی!

07:48 am

 میڈیا پر ایک اہم سیاسی شخصیت کی گرفتاری کا خوب چرچا رہا ۔ اہم سیاسی شخصیت تو یوں ہی روا نی میں لکھ دیا ۔ اہم کے بجائے معروف لکھنا زیادہ مناسب ہے۔ عین ممکن ہے گرفتار ہونے والے موصوف اپنی جماعت کے لیے اہم ہوں لیکن قومی سطح پر ہمیں جناب کی کوئی خاص اہمیت کبھی بھی دکھائی نہیں دی۔ پیپلز پارٹی کے جیالے کی حیثیت سے  گرما گرم بیانات داغنے کی شہرت کے حامل  شاہ صاحب آج کل نیب کے قیدی ہیں ۔ ویسے نیب کے مہمان کہہ دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا ۔ گرفتار ہونے والی شخصیات سے تفتیش کا آغاز بعد میں ہوتا ہے پہلے اُن کے قیام و طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کہاں ٹھہریں گے ؟ کیا کھائیں گے ؟ کہاں کا کھائیں گے؟ یعنی کھانا گھر کا ہوگا یا نیب کا ؟ علاج و طبیب کا انتظام بھی نیب کے ذمے ہے۔ گرفتاری کے بعد  باخبر میڈیا قیدی کی صحت کے متعلق پل پل کی خبر نشر کرتا رہتا ہے۔ کسی کام سے گھر سے باہر جانا ہوا ۔ واپس لوٹے تو شاہ صاحب کی گرفتاری ہو چکی تھی۔ ان کے حامی اس گرفتاری کے نتیجے میں  جمہوریت کو لاحق ہونے والے نت نئے خطرات کی پیش گوئیاں فرما رہے تھے۔ اکثر چینلز پر تازہ تازہ گرفتار ہونے والے شاہ صاحب کا بلڈ پریشر ، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن کی رفتار کے متعلق اطلاع بار بار نشر کی جارہی تھی ۔ 
ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اگر قیدی کی صحت ٹھیک ہے تو بار بار طبی معائنے کے نتائج نشر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور خدانخواستہ قیدی بیمار بھی ہو تب بھی اُس کے شوگر ، بلڈ پریشر یا نبض کی رفتار کا تذکرہ میڈیا پر کرنے سے کیا حاصل ہوگا ؟ بہتر ہے معالج ان نتائج کی روشنی میں مریض قیدی کا علاج تجویز کردے۔ شاہ صاحب پر دیگر سیاستدانون کی طرح ہی  کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات ہیں ۔ خیر سے ان الزامات پر اب شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے فخریہ انداز میں وکٹری کا نشانہ بناتے ہوئے گرفتاری دینے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ پی پی پی کے جیالے کی حیثیت سے مشہور سیاستدان کی کرپشن پر گرفتاری میں ایسی کیا بات تھی کہ اکثر چینلز پر اس واقعے کو قومی سانحہ بنا کر واویلا مچایا جاتا رہا۔ خدا کرے کہ شاہ صاحب کا بے گناہی کا دعویٰ درست ثابت ہو اور وہ تفتیش کے تمام مراحل سے گزر کر بے گناہ ثابت ہوں  لیکن اس گرفتاری پر ضرورت سے زیادہ واویلا سمجھ سے باہر ہے۔ 
جس جماعت کی نمائندگی اور ترجمانی شاہ صاحب فرماتے ہیں اُس کی  ناقص کارکردگی کی بدولت صوبہ سندھ جہنم بنا ہوا ہے۔ جماعت کی وجہ شہرت نظریات یا اصول پرستی نہیں بلکہ دو نمبر طریقے سے مال بنانے اور ملک سے باہر پہنچانے میں مہارت ہے۔ کراچی کو کچرا کنڈی بنانے کا منفرد  اعزاز بھی اسی جماعت کے حصے میں آیا ہے۔ کتے کے کاٹے سے ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دینے والے بچے کی ویڈیو پی پی پی کے اعلیٰ طرز حکومت اور بہترین  انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تھر میں واقع ہونے والی بچوں کی اموات فی الحال قوم کو یاد نہیں ۔ چند روز قبل ڈاکو ایک سندھی لوک فنکار کو اغوا کر کے لے گئے تھے ۔ بازیابی کے آپریشن میں اعلیٰ پولیس افسر کی شہادت بھی ہوئی تھی۔ آگے کیا ہوا کچھ پتا نہیں ؟  ڈاکو راج کچے کے علاقے میں ابھی بھی نافذ ہے یا پی پی پی کا جیالا راج دوبارہ بحال ہو چکا ہے؟ کچھ خبر نہیں ؟ 
سر سے پیر تک نالائقی ، بے حسی اور بد عنوانی میں لتھڑی حکومتوں کے نمائندے کرپشن کے الزامات پر گرفتار ہوں تو خبر اس انداز میں نشر نہیں کی جانی چاہیئے گویا بہت ہی اعلیٰ پائے کی ہستی گرفتار ہو گئی ہو۔ نکمے ، نکھٹو اور نااہل لوگوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا  درست نہیں ۔ میڈیا خصوصاً چینلز پر ذمے دار عہدیدار محتاط اور متوازن رویہ اپنائیں ۔ شاہ صاحب کی گرفتاری اور دکھائی نہ دینے والی بیماری کا بلاضرورت واویلا کوفت کا باعث بنا ۔ 
شاہ صاحب کے حامیوں اور عقیدت مندوں سے معذرت چاہتے ہوئے ایک بار پھر یہ موقف دہرانا چاہوں گا کہ ایسی شخصیات کا تذکرہ کیوں کیا جاتا ہے جن کی کوئی قومی خدمات یا اہم کردار نہیں ۔ کسی  مخصوص جماعت سے وابستگی  انسان کی پسند اور  بنیادی حق ہے۔ محض جماعتی وابستگی اور کسی خاندان کی اندھی سیاسی تقلید کی بنیاد پر قومی کردار کا تعین نہیں کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک راقم کی ناقص معلومات کا تعلق ہے اُس کے مطابق گرفتار ہونے والے شاہ صاحب نے پی پی پی کی ٹکٹ پر آبائی حلقے سے  الیکشن جیتنے اور بھٹو خاندان کی اندھا دھند حمایت کرنے کے علاوہ کبھی کوئی قابل ذکر کارنامہ یا قومی خدمت سرانجام نہیں دی۔  پاکستان میں  عام پائے جانے والے ایسے سیاستدانوں کی گرفتاری کی خبر کی لسی بنانا اچھی بات نہیں !