07:49 am
                  ہمارا جمہوری مقدر!

                  ہمارا جمہوری مقدر!

07:49 am

سیاست سماج سدھار عمل کا نام ہے اور سیاستدان سائیس،مگر ہمارے یہاں سیاست چالاکی اور عیاری کی بساط اور سیاستدان مختلف قوتوں کے مہرے،عنان ِ اقتدار ہاتھ میں ہو تو اسٹیبلشمنٹ اور اوپر والوں کے زیرِ اثر اور اپوزیشن میں ہوں تو بے سمت و بے مہار راستوں پر بگٹٹ دوڑتے ہوئے وہ مسافر جو اپنی منزل کے حصول کی بجائے حکومت کا سفر کھوٹاکرنے کے درپے، عوام بے چارے کبھی ان کا منہ دیکھتے ہیں اور کبھی سرکار کی  لاچاری اور بے بسی کا رونا روتے ہیں ۔
 
تحریک انصاف کے منشور میں باریاں لگانے اور خاندانی سیاست کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔سستے انصاف کی کی آسان اور جلد فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔حصولِ اقتدار کے بعد سب وعدوں سے دست کش ہوئی اور سارا زور دشمن کشی پر خرچ کر رہی ہے ۔
اس سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا کہ کپتان کمزور ٹیم کے ساتھ ایوانِ اقتدار میں داخل ہوئے ہیں ۔ اس پر یہ افسوس کہ ان کی کپتانی کے قرینے بھی ویسے نہیں جیسے کھیل کے میدان میں ہواکرتے تھے۔اس کی بڑی وجہ ان کی سیاسی ناپختہ کاری اورانا کے پندار سے نکلنے سے گریز ہے ،وہ ایک سال بیت جانے کے بعد بھی یہ باور نہیں کر پائے کہ ان کا مقابلہ میدانِ سیاست کے بہت ہی پرانے اور تجربہ کار سیاستدانوں سے ہے ۔جو کھیل کھیلنا بھی جانتے ہیں اور کچھ ہاتھ نہ آئے تو کھیل بگاڑنے کے دائو بیچ بھی خوب جانتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی دانست میں جنہیں وہ بہت زیادہ بدعنوان تصور کرتے تھے ،ان پر ہاتھ ڈالنے کی حد تک کامیاب رہے ،مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ ان میں سے کسی کے خلاف ایسی شہادتیں اکٹھی کر نے میں ناکام ونا مراد رہے ہیں کہ انہیں سزاوار ثابت کر سکیں۔ اس بارے نیب کی کارکردگی بھی ایسی مثالی نہیں جس پر انگلی اٹھانا دشوارہو، پی پی پی کے خورشید شاہ کا گرفتار کیا جانا کس قدر کار گر ہوگا اس پر کچھ کہناقبل از وقت ہے ۔اب وزیر اعلیٰ سندھ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ،اس کے سوا کچھ نہیں لگتا کہ حکومت کے خلاف ہونے والی صف بندی  کو زیر کیا جا سکے حالانکہ بلاول زرداری نے صاف الفاظ میں عندیہ دیا ہے کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ ملکر وفاق کو کسی طور نقصان پہنچانے کے حق میں  نہیں ،یقینا یہ خبر وزیر اعظم عمران خان کی نظر سے نہیں گزری ، یا پھر اطلاعات کی مشیر نے ان کے گوش گزار کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہی بات مسلم لیگ ن کے صدر قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی دہرا چکے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف کسی مزاحمتی تحریک کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں(تادمِ تحریر) ۔پھر نہ جانے کسی نے کیوں حکومت خوف میں مبتلا کر دیا ہے کہ مولانا کی تنہا پرواز کسی بڑی کامیابی کے دہانے پر جاکھڑی ہوگی اور پھر وہ پی پی پی کی قیادت  کو اعتماد میں لے کر بازی الٹ دیں گے۔جس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مولانا کے ممولوں کے قافلے فی الحال  اول تو بن نہیں سکیں گے اور اگر بن بھی گئے تو ان کی پیش قدمی کو رو کنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔
یہ بجا کہ مولانا منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ، پاکستان کی سیاست کے گرم و سرد سے بخوبی آشنا ہیںمگر اتنے بلند قامت نہیں جتنے ان کے والد مولانا مفتی محمودؒ ،مولانا شاہ احمد نورانیؒ ،یا مولانا عبدالستار نیازی ؒ تھے ،اور یہ کہ اُن جید شخصیات کو پروفیسر عبدالغفوراور ایئر ماشل اصغر خان جیسے لوگوں کی معیت حاصل تھی جنہوں نے پی این اے کی تحریک کو کامیابی کے کنارے  لا کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔مولانا کے پاس ناں تو اپنا ایسا مثالی سیاسی اندوختہ ہے نہ کسی بیرونی یا اندرونی قوت کی خفیہ حمایت،وہ جن نوجوانوں کے کندھوں پر بندوقیں رکھ کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں وہ  کبھی ان کو منزل تک نہیں پہنچاسکتے۔
زبانی طور یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ  مولانا کشمیر کمیٹی کی چیئر مینی اپنے ایم این اے بھائی کو دلوانے کی اندرون خانہ تگ ودو میں ہیں کہ اپنی چیئر مین شپ کے دوران انہوں نے جو فنڈز خرچ کئے ان کی پردہ دری نہ ہونے پائے ،جس کے آثار کچھ کچھ عیاں ہیں،عمران حکومت جن کڑے حالات سے نبرد آزما ہے ان کا اخلاقی تقاضہ یہ بھی بنتا ہے کہ مولانا  کشمیر کے سلسلے میں کی گئی اپنی کامیابیاں سامنے لائیں ۔قوم پر واشگاف الفاظ میں واضح کریں کہ انہوں نے کشمیر کی آزادی  کی جدوجہد میں کس قدر سیاسی یا نظریاتی پیش رفت کی۔  اس فورم کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کو دنیا پر کتنا اجاگر کیا،ان کی کامیابیوں کی فہرست مرتب کی جائے تو اس کی تاریخی حیثیت کیا ہوگی؟
جہاں تک حکومت مخالف تحریک کا تعلق ہے ،اس کے لئے مولانا نے جو وقت چنا ہے وہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ۔ شاید اسی لئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن تحریک کا حصہ بننے سے دامن بچا رہی ہیںکہ پوری قوم انڈیا کی ننگی جارحیت کا  مقابلہ کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہی صفحہ پر دیکھنے کی آرزومند ہے۔ واقعتا ہونا بھی ایسا چاہیئے کہ عمران خان جس جوش و جذبے کے ساتھ انڈیا کو بین الاقوامی سطح پر پر یشان کئے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق مودی کی پراگندہ سوچ کا دنیا  پر پردہ چاک  کرر ہے  ہیں وہ اس امر کا بین  ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی ناتواں حکومت کے  دوران جتنی مزاحمت کا سامنا آج انڈیا کو ہے پہلے کبھی نہ تھا۔تادم تحریر مولانا بے رحم سیاست پر تلے ہوئے ہیں جبکہ قومی سالمیت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمال سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہونے سے بچائیں ،موجودہ سیاسی حالات میں دو ہی طاقتور اور جمہوریت کی روح کو سمجھنے والے سیاستدان ہیں جو صحیح معانی میں جمہوری جدوجہد کرنے کی ہمہ جہت صلاحیت رکھتے ہیں۔ زنداں میں  قید مستقبل کی بشارتیں دینے تک محدود آصف علی زرداری اور عوام کے بیچ موجود ذاتی انا کی تسکین کے لئے حربے استعمال کرتا ہوا۔ اپنی پے در پے شکستوں میں گھائل مولانا فضل الرحمن،جن کے ہاتھ میں ہمارا جمہوری مقدر ہے۔