07:50 am
جمہوریت اور اقبالؒ

جمہوریت اور اقبالؒ

07:50 am

گزشتہ روزجمہوریت کا عالمی دن تھا۔ دن کی مناسبت سے اس دن میں نے جمہوری فلسفے کو سمجھنے کی اپنے تئیں کوشش کی۔ فلسفے کی بات ذہن میں آئی تو خیال آیا کہ ازمنہ قدیم سے لے کر اقبال تک بڑے فلسفیوں کا وزن زیادہ تر اشرافیہ کی حکومت کے پلڑے میں رہا ہے۔ سقراط  افلاطون  ارسطو مانشیسکو والٹیئر  ڈی تواکیل  رینان  گوئٹے  فیئشے  ایڈمنڈبرک اور کارلائل جیسے فلسفی ارسٹور کریسی  کی ہی حمایت کرتے رہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اپنے استاد آر اے نکلسن کے سوالات کے جواب میں فلسفہ خودی  اور خدا کی حکومت  (Kingdom of God)کی جو وضاحت پیش کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کی فکر بھی کسی حد تک روحانی جمہوریت کے تناظر میں بہترین افراد کی حکومت یعنی ارسٹو کریسی کے حق میں ہی تھی۔ اقبال ہر حال مغربی جمہوریت کو انسانیت کے حق میں بہترین نظام نہیں سمجھتے تھے۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ میں انہوں نے مغربی جمہوریت کو خوب رگیدا ہے چنانچہ ان کا ایک شعر تو اس حوالے سے ہمیشہ سنایا جاتا رہا ہے۔ 
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر
بعض لوگوں کا گمان ہے یہ اشعار اقبال  کی اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو مغرب خاص طور پر برطانیہ میں مرد وخواتین کو ووٹ کا مکمل حق ملنے سے قبل پائی جاتی تھی۔ برطانیہ میں 1918 میں عوامی نمائندگی ایکٹ کے بعد جائیداد نہ رکھنے والے تمام مردوں جن کی عمر 21سال تھی کو ووٹ کا حق ملا جب کہ اس قانون کے تحت 30سال کی عمر کی خواتین جو جائیداد کی مالک ہوں کو ووٹ دینے کی اجازت ملی۔ 1928 میں ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا جس کے تحت مرد و خواتین کو مساوی حق رائے دہی حاصل ہوا۔ اب مردوں اور خواتین کا حق رائے دہی بس اس بات سے مشروط تھا کہ دونوں کی عمر کم ازکم 21برس ہو۔ روگسو جسے مغربی جمہوریت کا خالق تصور کیا جاتا ہے نے اٹھارہویں صدی میں جس فلسفہ جمہوریت کا پرچار کیا تھا اس کے تحت صرف مردانہ حق رائے دہی تھا اور وہ بھی جائیداد رکھنے سے مشروط تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت کو جائیداد کی شرط ختم کر کے بالغ حق رائے دہی کی ڈیموکریسی بننے میں 200برس کا طویل عرصہ لگا۔ اقبال کے خیالات میں لیکن اس تبدیلی کا اثر دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ 1930 میں اسلامی الہیات کی تشکیل نو کے ضمن میںعلامہ اقبال نے جو کہا اس کو جان لینے کے بعد اس دلیل کا ابطال ہوتا ہے کہ شاید مرد و خواتین کا محدود اختیار رائے دہی شاعر مشرق کی فکر پر اثرانداز تھا۔ درحقیقت اقبال کا مغربی جمہوریت کے خلاف موقف اس وجہ سے تھا کہ اس کی بنیاد مادیت ہے۔ اس سوچ کے پیشِ نظر اقبال نے فرمایا:
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکان نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
اقبال نے جمہوریت کی کبھی نفی نہیں کی۔ وہ 1926 میں انتخابی نظام کا خود حصہ بنے۔ اقبال نے قبل ازیں ترکی میں خلافت کے خاتمے اور کمال اتاترک کی قیادت میں شروع ہونے والے جمہوری سفر کو خوش آمدید کہا۔ اقبال نے ترکی کے اس اجتہاد کی حمایت کی کہ خلاف ایک شخص کی بجائے عوام کے نمائندوں کی اسمبلی پر مشتمل ہو مگر ایک شرط پر اور وہ شرط یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ کی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ مغربی جمہوریت کے مقابلے میں علامہ اقبال جس روحانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں توحید اس کی بنیاد ہے۔ علامہ اقبال نے اس نقطے کی وضاحت میں فرمایا کہ اس طرز فکر کا نتیجہ تخت سے وفاداری نہیں بلکہ خدا سے وفاداری کی صورت نکلتا ہے۔
 پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے جو پاکستان بنانے والوں پر مشتمل تھی نے اقبال کی سوچ کے عین مطابق جس قرارداد مقاصد کی منظوری دی اس کی ابتدا اس جملے سے ہوئی کہ اقتدار اعلی کی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اس پر اسمبلی میں موجود بعض ہندو ممبران اسمبلی بڑے سیخ پا ہوئے اور انہوں نے اس پر اعتراض اٹھایا مگر ایک رکن اسمبلی کے علاوہ اسمبلی میں موجود کسی مسلمان رکن نے ان کے اعتراضات پر کان نہ دھرے کہ بانی پاکستان قائداعظم ہمیشہ علامہ اقبال کی سوچ کے تحت جس اسلامی جمہوریت کی بات کرتے تھے اس میں اللہ کی ذات حاکم اعلیٰ اور اللہ کے قانون کو پاکستان کے بر تر قانون کا درجہ حاصل ہوا تھا۔ سید ابو اعلیٰ مودودی نے قرارداد مقاصد کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج پاکستانی ریاست مسلمان ہو گئی ہے۔ اقبال ری پبلکن فارم آف گورنمنٹ کو نہ صرف اسلام کی سوچ کے مطابق گردانتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اسلامی دنیا میں آج اس کی اشد ضرورت بھی ہے۔ 
مغربی جمہوریت پر اقبال کی طعنہ زنی اس لیے تھی کہ یہ اقبال کی نظر میں لادین اور مادیت پرستی کے عناصر پر مشتمل تھی۔ مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لادیں اور  تری حریف ہے یارب سیاست افرنگ جیسے اشعار لادینیت کی طرف اشارہ کناں ہیں جب کہ اقبال کی جمہوریت خدا کی بادشاہت ہے جس کا مطلب ان کے الفاظ میں معاشرے کے منفرد لوگوں کی جمہوریت جس کی سربراہی ان سے زیادہ منفرد فرد کے پاس ہو۔ پاکستان کے آرٹیکل 62اور 63کو باایں ہمہ اقبال کے منفرد لوگوںکی تلاش کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔