07:51 am
سعودی تقریبات کااحوال  اور  زلزلے کی وجوہات

سعودی تقریبات کااحوال  اور  زلزلے کی وجوہات

07:51 am

پیر اور منگل کے دن اسلام آباد کے مختلف ہوٹلز میں تین بڑی تقریبات منعقد ہوئیں، گو کہ ان تینوں تقریبات کے عنوانات مختلف تھے مگر مقصد تقریباً ایک ہی تھا، پیر کے دن ایک ہوٹل میں وحدت امت کے عنوان سے کانفرنس انعقاد پذیر تھی تو دوسرے ہوٹل میں تقدس حرمین سیمینار کا غلغلہ تھا۔ دونوں تقریبات میں تمام مسالک کے علماء، سیاسی، سماجی شخصیات کے علاوہ پیران کرام اور مشائخ عظام بھی بھرپور نداز میں شریک رہے جبکہ منگل کے دن سعودی عرب کے 89 ویں قومی دن کی نسبت  سے سعودی سفارت خانے کی طرف سے مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان تینوں تقریبات  کی منفرد بات یہ تھی کہ سعودی عرب کے اسلام آباد میں سفیر نواف سعید المالکی پیر کے دن منعقدہ علماء ومشائخ کی دونوں تقریبات کے مہمان خصوصی اور منگل کے دن منعقدہ پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام آباد میں منعقدہ  ان تینوں تقریبات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری تھا لیکن افسوس کہ منگل کے دن آنے والے زلزلے نے ذہن میں آئے ہوئے خیالات پر بھی لرزہ طاری کر دیا۔ بہرحال ایک بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ اسلام آباد میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بہرحال سفارت کاری کے ہنر سے خوب آشنا ہیں ،  مان لیں اگر وہ سعودیوں والا لباس نہ پہنیں تو اندر باہر سے پورے کے پورے پاکستانی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔
 
دورہ پاکستان کے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد سلمان نے جنہوں نے اپنے آپ کو بیرون دنیا میں پاکستانی سفیر کہہ کر قوم کے دل جیت لیے تھے ، نواف سعید المالکی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس تاریخی جملے کی عملی تفسیر ہیں وہ جب سے پاکستان سے سفیر مقرر ہوئے ہیں، میں نے ان کا کوئی بیان یا انٹرویو ایسا نہیں پڑھا کہ جس میں انہوں نے سعودی عرب کے مخالف ملک کے خلا ف بھی کوئی نفرت انگیز جملہ کہا ہو۔
پاکستانیوں کو سعودیوں سے ملوانا تو شائد ان کی سفیرانہ جاب ہو لیکن وہ تو پاکستانیوں کو مخالف پاکستانیوں سے ملانے کے فن کے بھی شناور ہیں۔ اسلام آبادد سے غیر حاضری کے سبب یہ خاکسار ان تقریبات میں شریک میں نہ ہوسکا۔ اب بڑھتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف ، آزاد کشمیر ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک دفعہ پھر کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں پر ہیبت طاری کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ زلزلے نے سب سے زیادہ  متاثر آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کو کیا ۔مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو ہندو شدت پسندی کا زلزلہ آیا تھا، ہندو شدت پسندی کے زلزلے کے سبب مقبوضہ کشمیر54 روز سے کرفیو کی زد میں ہے اور وہاں سوا کروڑ کے لگ بھگ بچوں، بوڑھوں، جوانوں، عورتوں اور مردوں کی زندگیاں د ائو پر لگی ہوئی ہیں۔8 اکتوبر2005 ء  کو بھی خوفناک زلزلہ آیا تھا  جوکہ  ایک لاکھ سے زائد جیتے جاگتے انسانوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔
9 اکتوبر2005 ء کو جب یہ خاکسار ایک امدادی وفد کے ہمراہ گڑھی حبیب اللہ کے راستے مظفر آباد پہنچا تھا تو وہاں کے مناظر بڑے خوفناک بھی تھے اور ہولناک بھی، ان دنوں یہ خاکسار مسلسل بیس دن تک مظفر آباد سے لے کر بالاکوٹ تک اپنے دوستوں کے ہمراہ امدادی کارروائیوں میں شریک رہا۔ آج بھی جب وہ مناظر یاد آتے ہیں تو انسانوں کی بے کسی اور بے بسی کے واقعات خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
 زلزلے کیوں آتے ہیں؟ اس کا جواب نہ تو ’ارسطو‘‘ سے لینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی افلاطون سے… ہم چونکہ مسلمان ہیں اور نبی آخر الزماں حضرت محمد کریمﷺ کے سچے پیروکار بھی، اس لئے زلزلے کیوں آتے ہیں؟ والے سوال کے جواب کا جائزہ ہم قرآن حدیث کی روشنی میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورہ الروم  کی آیت نمبر41 میں ارشاد خداوندی ہے ۔ ترجمہ: ’’خشکی اور پانیوں میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اللہ) انہیں بعض (برے) اعمال کامزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے  ہیں تاکہ وہ باز آجائیں‘‘ حضرت سیدنا ابوہریرہؓروایت کرتے ہیں کہ آقاء مولیٰﷺ نے فرمایا۔ جب مال غنیمت کو گھر کی  دولت سمجھا جانے لگے۔ امانت میں خیانت کی جائے۔ زکوٰۃ کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔علم دین دنیا کے لئے حاصل کیا جائے۔انسان اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے۔ انسان دوست کو قریب اور اپنے باپ کو دور کرے۔ مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے۔قوم کی قیادت فاسق و فاجر کرنے لگیں۔ انسان کے شر سے بچنے کیلئے اس کی عزت کی جائے۔ گانے والی عورتیں اور  موسیقی اور گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہو جائے۔ شراب سرعام پی جانے لگے اور امت کے بعد والے لوگ امت کے اگلے لوگوں پر لعن طعن کرنے لگیں تو پھر انتظار کرو سرخ آندھیوں اور تندوتیز ہوائوں کا، زمین میں زلزلوں کا، زمین میں دھنسے جانے کا، شکلیں مسخ ہونے اور بندر و خنزیر بنائے جانے کا اور آسمان سے پتھر برسنے کا اور یکے بعد دیگرے  آنے والی ایسی نشانیوں کا جو کسی لڑی ٹوٹنے کے بعد دانوں کے گرنے کی طرح پے درپہ آئیں گی ۔ (سنن الترمذی)
سچی بات ہے کہ بحیثیت قوم اور بحیثیت امت ہر مسلمان کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے، ایسی توبہ کہ جس توبہ سے پروردگار ہم سب سے راضی ہو جائے۔ یاد رکھیئے کہ  مسلمان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مادر بدر آزادی کا حق نہیں دیا بلکہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لئے حدودوقیود مقرر کی گئی ہیں۔ اسلام کی مقررہ کردہ حدودو قیود کے اندر رہنے والے مسلمان سے ہی پروردگار عالم راضی ہوتے ہیں، بعض افلاطونی دماغ رکھنے والے زلزلے سے بچنے کے لئے سائنس میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ رب کی ناراضگی کے سبب آفت بن کر آنے والے زلزلے سے تو سائنس بھی پناہ مانگتی ہے۔
ہم نے  اکتوبر2005 ء میں آنے والے زلزلے کے دوران فلک بوس پہاڑوں کو زمین میں دھنستے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بڑی بڑی مضبوط چٹانوں کو زلزلے نے ریزوں میں تبدیل کر دیا، کیا کوئی ’’افلاطونی‘‘  یہ سمجھتا ہے کہ وہ لوہے اور کنکریٹ کے بنکرز تعمیر کروا کر زلزلے کی تباہی سے بچ سکتا ہے؟ نہیں، خدا کی قسم نہیں، جب پکڑ رب کی طر ف سے آجائے تو لوہا، کنکریٹ، سیمنٹ، درخت، پہاڑ، غار ، دریا، سمندر، صحراء اور جنگل غرضیکہ خشکی اور تری ’’انسان‘‘ کو پناہ دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے آئیے توبہ کرکے اپنے پروردگار کو راضی کرلیں۔