07:52 am
ایک اور زلزلہ!

ایک اور زلزلہ!

07:52 am

٭ایک اور زلزلہ26 شہید300 زخمی، زمین پھٹ گئیO امریکہ، سعودی عرب: عمران خان سے ایران کے ساتھ ثالثی کی دعوتO موجودہ حکومت جنوری تک ختم، پیپلزپارٹی راولپنڈی پر یلغار کرے گی:بلاولOزلزلہ عمران خان کی حمائت میں آیا! فردوس عاشق اعوان، پھر معافی-
 
٭ابھی 2005ء والے زلزلہ کے اثرات ذہنوں پر حاوی تھے کہ نیا زلزلہ آ گیا۔ آزاد کشمیر میرپور سے صرف ایک کلومیٹر دور ’جاتلاں‘ کے علاقہ میں زمین پھٹ گئی، گاڑیاں الٹ گئیں، دو کلو میٹر تک سڑک ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہر میں گر گئی۔ نہر کے تین پل ٹوٹ گئے، ایک کنارہ ٹوٹ گیا۔ میرپور میں پرانی اور ناقص مصالحہ سے بنی ہوئی بہت سی عمارتیں گر گئیں۔ 26 افراد شہید، 300 زخمی! تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ زلزلہ کی پہلی اطلاع پر حسب معمول پاک فوج کی امدادی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر جائے وقوع کی طرف بھاگ پڑے۔ فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ڈاکٹر آ گئے۔ پنجاب سے بھی ڈاکٹر اور دوسرے افراد پہنچ گئے۔ 2005ء میں 90 ہزار جانیں چلی گئی تھیں۔ تاہم 26 جانیں بھی بہت بڑا نقصان ہے۔ ایسے عالم میں کہ پورا ملک غم اور دکھ میں مبتلا تھا، مولانا فضل الرحمن اسلام آباد پر اور بلاول زرداری راولپنڈی پر قبضے کے اعلانات کر رہے تھے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر زلزلہ زدگان کے پاس پہنچ گئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی جا رہے تھے۔ بلاول یا مولانا فضل الرحمن کو دوسرے بہت سے کام ہیں۔ مولانا نے اکتوبر میں اسلام آباد کو، بلاول نے دسمبر کے آخر تک راولپنڈی کو فتح کرنا ہے۔ دونوں آپس میں حکومتیں کیسے بانٹیں گے؟ یہ بعد کا مسئلہ ہے۔ مجھے اس وقت زلزلہ کی کچھ باتیں کرنا ہیں۔ میرپورمیں کچھ عزیز و اقارب رہتے ہیں۔ سائنس کالج کی پرنسپل جویریہ یاسمین بتا رہی ہیں کہ زلزلہ سے کالج کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بچے بھاگ کر باہر نکل آئے تھے۔ جویریہ کی آواز بہت غم آلود تھی۔ میرپور میں ہی ادیب اور استاد محترم مرزا یاسین اور پروفیسر ’شاخ بنات‘ ایڈووکیٹ نعمان اشفاق اور بہت سے دوسرے عزیز بھی ہیں۔ ان سب کے بخیریت ہونے پر اطمینان ہوا مگر شہید ہونے والے 26 بھی اتنے ہی عزیز تھے۔ زخمی ہونے والے 300 لوگ بھی تو اتنے ہی قریب ہیں۔
٭سخت دکھ اور صدمہ کی حالت میں ہوں۔ کیا نظام ہے کہ دنیا کے 50 فیصد زلزلہ سرسبز خوبصورت پہاڑی علاقوں میں، 40 فیصد ساحلوں پر اور 10 فیصد صحرائوں یا عام میدانی علاقوں میں آتے ہیں! زلزلے ہمیشہ اچانک آتے رہے ہیں۔ قدیم زمانوں میں سائنسی تحقیق نہیں ہوتی تھی اور مختلف لوگ الگ الگ نظریات بیان کرتے تھے۔ ہندوئوں کا عقیدہ رہا کہ ایک گائے نے زمین کو سینگوں پر اٹھا رکھا ہے، سینگ بدلتی ہے تو زمین ہلنے لگتی ہے۔ عیسائی پادریوں کا تصور تھا کہ خدا کے باغی اور گنہگار لوگوں کو سزا کے طور پر زلزلہ آتا ہے۔ جاپانی عقیدہ تھا کہ ایک بہت بڑی چھپکلی اپنی پشت پرزمین کو اٹھائے ہوئے ہے۔ امریکی ریڈانڈینز گائے کی بجائے کچھوے کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔ سائبیریا والوں نے بہت بڑے برفانی کتے کی کہانی بیان کی۔ مشہور ریاضی دان فیثا غورث کا خیال دلچسپ تھا کہ بعض اوقات زمین میں دفن مُردے آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ ارسطو نے قدرے بہتر نظریہ پیش کی کہ زمین کے اندر آگ دہک رہی ہے، باہر نکلتی ہے تو زمین لرزنے لگتی ہے۔ غالباً اس نے کوئی آتش فشاں دیکھ لیا ہو گا۔ ارسطو کے استاد افلاطون نے بھی زمین کے اندنر تندوتیز ہوائوں کی حرکت کا خیال دیا۔ دور کی بات نہیں صرف 70 سال پہلے تک سائنس دانوںکی تحقیق بتا رہی تھی کہ زمین اندر شدید گرم تھی۔ اس کی گرمی کم ہو رہی ہے اور وہ سکڑ رہی ہے، اس سے لرزنے لگتی ہے۔ اب تازہ ترین قابل قبول تحقیق بتا رہی ہے کہ زمین اندر سے چھ بڑی بڑی پلیٹوں یا ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے الگ الگ ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے یا اچانک دور چلے جاتے ہیں تو زمین ہلنے لگتی ہے۔ یہ چھ پلیٹیں اشیا، افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے ٹکرانے سے سمندروں کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ابھر آتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کوہ ہمالیہ، قراقرم اور یورپ وغیرہ کے پہاڑوں کی جگہ پہلے سمندر تھے، زمین کی پلیٹوں کے ٹکرانے سے پہاڑ ابھر آئے۔ ان پہاڑوں کے نیچے اردگرد زمین اب بھی حرکت میں رہتی ہے۔ پہاڑی زلزلوں میں چند منٹ کے اندر خوفناک تباہی پھیل جاتی ہے۔اس کی لہریں 25 ہزار کلو میٹر کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ پھر زلزلہ رک جاتا ہے مگر سمندر کے نیچے زلزلے زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ ان سے ساحلوں پر 40 فٹ سے بھی بلند طوفانی لہریں ابھرتی ہیں جو سینکڑوں میلوں تک تباہی مچاتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طوفانی بارشیں اور سیلاب بھی امڈ آتے ہیں۔ خدا تعالیٰ پاکستان کو ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے! اب کچھ دوسری باتیں!
٭راولپنڈی کے ثانوی تعلیمی بورڈ نے صوبائی وزیر کالونیز فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کو غیر قانونی طریقے سے اضافی نمبر دے کر پاس کیا۔ اس پر شور مچ گیا۔ ایک سینئر پروفیسر غلام دستگیر نے تحقیقات کیں۔ ان کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ سائنس کے پریکٹیکل میں اس وزیر کے بیٹے کے 14 نمبر تھے۔ وہ فیل تھا۔ ہیڈ ایگزامینر پروفیسر محمد سلیم نے 14 کا عدد کاٹ کر 30 کر دیا اور لڑکا پاس ہو گیا۔ پروفیسر سلیم نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے اور معافی مانگی ہے کہ اس نے غلط کام کیا ہے۔ اس کامضحکہ خیز شرم ناک اعتراف ہے کہ وزیر نے تو اس پر دبائو نہیں ڈالا، البتہ اس نے اپنے ’وجدان‘ کے تحت ایسا کیا ہے!وجدان وَجَد کی کیفیت ہے! اسے کسی کے بتائے بغیر کیسے وجدان ہوا کہ یہ طالب علم ایک وزیر کا بیٹا ہے؟ اور یہ وجدان صرف ایک ہی خاص طالب علم کے لئے نازل ہوا تھا! ایسے وجدان پر تو اس نام نہاد استاد بلکہ وجدان طاری کرنے والے وزیر کا بھی سخت محاسبہ ضروری ہے۔ مگر کس کس کا محاسبہ! یہ ’وجدان، تو ہر جگہ جگہ قدم پر پھیلا ہوا ہے۔ بڑے بڑے وڈیرے غریب لوگوں پر ظلم توڑتے رہیں۔ تھانوں میں تھانیداروں کے وجدان کی بنا پر ایسی کمزور ایف آئی آر لکھی جاتی ہے کہ وڈیرا صاف بچ نکلتا ہے اور غریب سر پیٹتا رہ جاتا ہے۔ اسی وجدان کے نتیجہ میں جرنیل کا بیٹا جرنیل، وزیر کا بیٹا وزیر اور ڈپٹی کمشنر کا بیٹا ڈپٹی کمشنر بنتا ہے، ہر دور میں اپوززیشن مردود قرار پاتی ہے۔ جیلوں میں بھٹکتی پھرتی ہے اور حکمران پاک صاف دودھ سے دھلے قرار پاتے ہیں۔ پھر اپوزیشن اقتدار میں آتی ہے تو یہی حکمران نیب اور ایف آئی اے کے سپرد ہو جاتے ہیں! ایسے میں ایک استاد ایک وزیر کو خوش کرنے کے لئے وجدان کی زد میں آ جاتا ہے تو ایسی کون سی بڑی بات ہے؟ میں نے ایسے ہی شرم ناک کے بے فائدہ الفاظ لکھ دیئے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں ہوگا!
وقت بے وقت بہت زیادہ بولتے رہنا بھی ایک نفسیاتی مرض ہے۔ یہ مرض بہت سے خوشامدی سیاست دانوں کو ہر وقت لاحق رہتا ہے۔ روزانہ دو دو پریس کانفرنسیں، موقع بے موقع چہرہ نمائی اوربولتے رہنا اتفاق سے کام بھی چہرہ نمائی کا مل جائے تو سونے پر سہاگہ! ان کالموں میں ایسے بہت سے نام لیتا رہتا ہوں کہ خدا را کبھی منہ بند بھی رکھا کریں! نام کیا لوں؟ ایک خاتون کو ہفتہ میں سات دن کم از کم دس بارہ کانفرنس کرنے کی عادت ہے۔ گزشتہ روز پوری قوم آزاد کشمیر کے زلزلے پر غم زدہ تھی، اس خاتون نے پریس کانفرنس میں زلزلے کو بھی عمران خان کے حق میں قدرت کی تبدیلی قرار دے دیا۔ ذرا الفاظ پڑھئے: ’’…کوئی تبدیلی آتی ہے تو نیچے بے تابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلی کی نشانیاں ہیں جو زمین نے بھی کروٹ بدلی ہے کہ اسے اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں…‘‘ استغفار! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ بعد میں معافیاں کہ جذبات میں یہ کچھ کہہ دیا! کیا کہا جائے؟ کوئی روک ٹوک، کوئی اصلاح، کچھ نہیں، ایسے ہی چلے گا! زبان کی نکسیر کا کیا جائے؟