08:40 am
 بھارت کی سلگائی ہوئی آگ 

 بھارت کی سلگائی ہوئی آگ 

08:40 am

 ماضی کے بر خلاف پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر سفارتی چابکدستی اختیار کر رکھی ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد ہمارے سفارتی حلقوں کا خمار ٹوٹا اور غیر معمولی دوڑ دھوپ شروع کر دی گئی ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ  زنگ آلود سفارتی مشینری یہ کام با دِل نخواستہ کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے لی جانے والی ذاتی دلچسپی کی بدولت بھی دفتر خارجہ معمول سے زیادہ کارکردگی دکھانے میں جُتا ہوا ہے۔ بلاشبہ پچاس برس بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ گو کہ اس معاملے پر ہمارے وزیر خارجہ عادت سے مجبور ہو کر ضرورت سے زیادہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی لیکن سنجیدہ مزاج حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے اُٹھائے گئے مہلک آئینی اقدام اور بدترین کرفیو کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑائی ۔ اس کے علاوہ اسی سال پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے ناکام سرجیکل سٹرائیک اور پاکستان کی جانب سے دو بھارتی طیارے گرائے جانے کے سخت جوابی اقدام سے پیدا ہونے والی کشیدگی کی فضا بھی تاحال ختم نہیں ہوسکی۔ 
مجموعی طور پر بھارتی جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں کشیدگی میں بتدریج اضافہ ان تمام عالمی طاقتوں کے لیے باعثِ تشویش ہے جو اس خطے میں اپنے مفادات کی آبیاری میں مصروف ہیں ۔ مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی یہ خبریں باعث تشویش ہیں کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مقررہ تاریخ تک سولہ اراکین کی حمایت سے مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی حکومت کی جانب سے  انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر  قرار داد جمع نہیں کروائی جاسکی ۔  سولہ اراکین کی حمایت   کے حصول  میں  ناکامی   دفتر خارجہ کی ناقص کارکردگی کا شرمناک ثبوت ہے۔ یہ بات اور زیادہ تکلیف دہ ہے کہ حقائق کے برعکس دفتر خارجہ کے ذرائع پچاس سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے رہے ہیں ۔ معاملے کی حساسیت اس بات کی متقاضی ہے کہ وزیر خارجہ بذات خود چھان بین کر کے درست اور حتمی اطلاع فراہم کریں ۔ بیانات اور تقاریر کی حد تک وزیر اعظم صاحب نے مظلوم کشمیری عوام کی بھرپور ترجمانی فرمائی ہے۔ ان سطور کے چھپنے تک عین ممکن ہے کہ سلامتی کونسل سے خطاب کا مرحلہ بھی طے ہو چکا ہو۔
 ہماری سفارتی کوتاہیوں کے باوجود اس مرتبہ مسئلہ کشمیر بھارت کے لیے عالمی رسوائی کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے مودی کو ہٹلر سے دی جانے والی تشبیہ نے عالمی  رائے عامہ کو بھارت میں شدت پسندی کے پھیلتے ناسور کی جانب متوجہ کیا ہے۔ آر ایس ایس کو بھارت میں  فاشسٹ نازی طرز فکر کے دوسرے جنم کی طرح دیکھا جا رہا ہے۔ پچاس روز سے زائد عرصے پر محیط کرفیو اور ذرائع مواصلات کی بد ترین بندش نے غیر جانبدار اور انصاف پسند عالمی حلقوں کو کشمیریوں کی جانب متوجہ کیا  ہے۔  یہ واضح ہو چکا ہے کہ بیشتر مغربی اور عرب ممالک بھارت سے وابستہ تجارتی تعلقات کو کشمیر کے لیے دائو پر لگانے کو تیار نہیں ۔ امریکی ثالثی کی دکھاوے کی پیشکش کی حقیقت بھی عیاں ہو چکی ہے۔ 
امریکہ  سے   بلاوجہ مرعوب رہنے  اور  ہمہ وقت  اُس کی محبت میں گرفتار طبقے کی آنکھیں کھولنے کے لیے ہیوسٹن شہر کا وہ اجتماع ہی کافی ہے جس میں مودی اور ٹرمپ بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک دوسرے پر صدقے واری جانے کی اداکاری کرتے رہے۔ یہ طے ہے کہ کشمیر میں قید مظلوم عوام  کے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد پاکستان اور کشمیریوں کو اپنے زورِ بازو پر ہی کرنا ہوگی۔ عالمی اداروں میں چین ، ترکی اور ایران کی جانب سے پاکستان کے موقف کی تائید سامنے آئی ہے۔ اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ  پارلیمان میں موجود  قومی قیادت کی دعویدار سیاسی جماعتیں  حکومت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر تعاون کرتے ہوئے قابل عمل سفارتی و سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ 
بدقسمتی سے سیاسی محاذ پر مایوس کُن جمود طاری ہے۔ گروہی مفادات اور موروثی سیاسی  گدیوں سے وفاداری نبھانے والے سیاسی بونے کسی بھی قومی مسئلے پر آزادانہ رائے کا اظہار کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے نازک موقعے پر جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ، بعض شعور سے عاری سیاستدانوں کی جانب سے حکومت پر کشمیر کا سودا کرنے جیسے سنگین الزامات کی تکرار کشمیریوں کے لیے آزار کا باعث ہے۔ بھارت کی جانب سے دھمکیوں اور الزامات کی بوچھاڑ سے واضح ہوتا جارہا ہے کہ مستقبل میں یہ معاملہ مزید تشویشناک صورت اختیار کرے گا ۔ بھارت کی  سلگائی آگ  مقبوضہ کشمیر ہی نہیں آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے وجود کو بھی بھسم کر سکتی ہے۔ پیش آمدہ سنگین صورتحال سے نبٹنے کے لیے حکمت، تدبر ، اتحاد  اور اندرونی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔