09:00 am
دوستی کے نام پر دھوکہ!

دوستی کے نام پر دھوکہ!

09:00 am

   آج کشمیر کے دونوں بازو لہولہان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری اپنی آزادی کیلے کٹ مررہے ہیں۔ جوش جذبے سے معمور اپنی جانیں نثار کررہے ہیں۔ اب جبکہ مقبوضہ کشمیر جاگ گیا ہے تو وہ دن دور نہیں جب اللہ انہیں سرخرو کرے گا۔ان شااللہ کشمیر جلد اپنے زوربازو پر آزاد ہوجائے گا‘دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے دیکھتی رہے گی۔ سب زبانی کلامی ہمدردی بھی دکھائوے کی کررہے ہیں ورنہ اقوام متحدہ میں مسلم ممالک کی بے حسی کامظاہرہ یوں نا د یکھنے  میں آتا ۔مسلم ریاستوں نے جوپاکستان کی دوستی کادم بھرتے نہیں تھکتیں۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت کوووٹ نادیتیں ۔انہیں اگر کشمیر سے ہمدردی نہیں تھی تو قرار داد توپاکستان نے پیش کی تھی جس سے ووٹ دینے والے مسلم ممالک دوستی کااخوت کادم بھرتے ہیں۔ وہ اگر پاکستان کواپناووٹ نہیں دینا چاہتے تھے توبھی ان کے پاس کسی کوبھی ووٹ نادینے کاتو اختیار تھا۔ اگر وہ بھارت کوووٹ نادیتے تب بھی وہ پاکستان کی مدد کرسکتے تھے۔ پاکستان پھربھی سر خرو ہوسکتاتھا ۔
 
یہاں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کے نام نہاد دوستوں نے دوستی کے نام پر دھوکہ دیا۔آڑے وقت پرکام نا آنا بھی دوستی نہیں کہلاتی اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ امریکی صدر جو بار بار مسئلہ کشمیر پر اپنی ثالثی کی پیش کش کررہاہے اس کا مقصد کیاہے امریکہ اور اس کے حواریوں نے امریکہ کی مرضی کے مطابق سلامتی کونسل میں اپنے ووٹ کااستعمال کیا کیونکہ ان اسلامی ریاستوں کیلئے پاکستان کی خوشنودی سے کہیں زیادہ امریکہ کی دوستی اور خوشنودی اہم ہے ۔پاکستان سے اس کی اوقات کے مطابق ہمدری کرناہی ان کیلئے کافی ہے ۔
  اس وقت دنیا کے تمام سر برہان امریکہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے لے جمع ہیں وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کارویہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دیکھا جارہاہے وہ حیران کن ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ صدر کی قربت دوستی کا جس طرح اظہار کیا جارہاہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پاکستان کے لئے لمحہ فکر ہے اسے سوچنا پڑے گا۔ امریکہ جس کی افغانستان میں لڑائی کواپنی لڑائی سمجھ کرلڑی اپنے ہزاروں جوان شہید کرالئے اپنے ملک کو دہشت گردی کانشانہ بنوالیا اپنی سر زمین اس کے لئے کھول دی اس کے باوجود امریکہ کوہماری قربانیوں کا ذرا احساس نہیں۔ پاکستان نے امریکیوں کی بے حسی اور مطلب پرستی کومحسوس کرنا ہے۔ اگر پاکستان  اپنی بقا ء اور سلامتی وترقی کیلئے چین سے اپنے تعلقات مضبوط کررہاہے تواس میں امریکیوں کی ناراضگی والی کونسی بات ہے جوانہوں  نے پاکستان سے ہاتھ کھنچ لیا اور بھارت پر اپنی مہربانیوں کی برسات برسانا شروع کردی‘ شاید اس کے پیچھے ان کی کلیسائی ذہنیت کار فرماہو کلیسا کامتفقہ فیصلہ ہے مسلمانوں کوہر طرح کچل کر مسل کر ان کا قصہ تمام کردیاجائے۔  یہودونصاریٰ آج بھی مسلم اتحاد سے خوف زدہ ہیں مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کیلئے وہ اپنی تمام تر توانائی صرف کرتے رہتے ہیں ۔ مسلمانوں کوختم کرنے انہیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے میں اپنی قوت صرف کرتے ہیں‘ پاکستان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی قوت وصلاحیت سے ایٹمی قوت حاصل کر لی ہے جو انہیں کس قیمت پرقبول نہیں ۔اب انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا ہے کہ کہیں چین اور روس کی سر پرستی سے پاکستان  سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں میں ناشامل ہوجائے اور ویٹو پاور بن جائے۔ بھارت بھی ایٹمی قوت رکھتا ہے اس کیلئے ان کے دل فرش راہ  ہیں‘ بھارت کارستہ چین روس روک دیتے ہیں ورنہ وہ اب تک سلامتی کونسل  کامستقل ممبر بن چکا ہوتا ۔ کشمیر میں اگر ہندوئوں کاقتل عام اسی طرح ہو جس طرح مسلمانوں کا ہورہا ہے ناصرف ساری دنیا  چیخ  پکار کررہی ہوتی  بلکہ نیٹو فوج کشمیر میں اتر چکی ہوتی اوراب تک آزاد کشمیر بھی پاکستان کے ہاتھوں سے چھن گیاہوتا ۔
  آزاد کشمیر میں زلزلہ نے تباہی ایک بار پھر مچادی ہے۔ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کاکہناہے کہ آزاد کشمیر میں باربار جو زلزلے آرہے ہیں یہ مقبوضہ کشمیریوں کی آہ وفریاد کانتیجہ ہیں کیونکہ آزاد کشمیروالے مقبوضہ کشمیریوں کی عملی مدد نہیں کر رہے۔ اگر آج اگر پاکستان اپنی کسی نادیدہ مجبوری کی وجہ سے کشمیریوں سے صرف زبانی ہمدردی کررہاہے توکرتارہے۔ اللہ اس عمل کی توفیق دے مگرآزاد کشمیر تو ہمارابازو ہے اسے توآکرہماری جدوجہد میں شامل ہوناچاہے لیکن ہائے افسوس وہ بھی تماش بین بنا دیکھ رہاہے لیکن ہم اپنے ہی خون کادریا پار کرکے بھی اسے گلے لگانے پاکستان سے الحاق کرنے ان شا اللہ جلد ملنے والے ہیں ‘اللہ تمہارا بھی ہمارا بھی حافظ وناصر ہو(آمین)۔

تازہ ترین خبریں