09:05 am
ولی اللہ اور ولایت

ولی اللہ اور ولایت

09:05 am

ولایت کیا ہے؟ ولایت ایک قربِ خاص ہے کہ مولیٰ عزوجل اپنے برگزیدہ بندوں کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے۔ ولایت وہبی شے ہے یعنی اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کردہ انعام ہے، نہ یہ کہ اعمالِ شاقہ (سخت مشکل اعمال) سے آدمی خود حاصل کر لے البتہ غالباً اعمالِ حسنہ اس عطیۂ الٰہی کیلئے ذریعہ ہوتے ہیں اور بعضوں کو ابتدائً مل جاتی ہے۔ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ولایت کسبی نہیں محض عطائی ہے، ہاں! (اللہ عزوجل فرماتا ہے: ہم) کوشش اور مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتے ہیں جیساکہ پارہ 21، سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 69 میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے‘‘۔
 
ولی اللہ کسے کہتے ہیں؟علمائے کرام نے اپنے اپنے انداز میں ولی اللہ کی مختلف تعریفات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے چند ملاحظہ کیجئے۔
صاحب تفسیر خازن حضرت علامہ علائوالدین علی بن محمدبغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قربِ الٰہی حاصل کرے اور اطاعت الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دِل نورِ جلالِ الٰہی کی معرفت میں مستغرق (ڈوبا ہوا) ہو۔ جب دیکھے دلائل قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے تو اللہ عزوجل کی آیتیں ہی سنیں اور جب بولے تو اپنے رب عزوجل کی ثناہی کیساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعت الٰہی میں کرے اور جب کوشش کرے اسی اَمر میں کوشش کرے جو ذریعہ قربِ الٰہی ہو، اللہ عزوجل کے ذکر سے نہ تھکے اور چشم دل سے خداعزوجل کے سوا غیر کو نہ دیکھے، یہ صف اولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عزوجل کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔
متکلمین کہتے ہیںکہ  ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بردلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو۔بعض عارفین نے فرمایاکہ ’’ولایت نام ہے قربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ عزوجل کیساتھ مشغول رہنے کا، جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف ہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت (ضائع) ہونے کا غم ہوتا ہے۔
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’اولیاء اللہ جن کو دیکھنے سے اللہ عزوجل یاد آ جائے‘‘۔ حضرت سیدنا ابن زید فرماتے ہیںکہ  ’’ولی وہ ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس آیت میں مذکور ہیکہ  ’’وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں‘‘۔ (پ11سورہ یونس 63) یعنی ولی وہ ہے جو ایمان و تقویٰ دونوں کا جامع ہو۔ 
بعض علماء نے فرمایاکہ ولی وہ ہیں جو خالص اللہ عزوجل کیلئے محبت کریں۔ اولیاء کی یہ صفت احادیث کثیرہ میں وارد ہوئی ہے۔بعض اکابرین نے فرمایاکہ ولی وہ ہیں جو طاعت (یعنی عبادت) سے قربِ الٰہی طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کرامت سے ان کی کارسازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا برہان کے ساتھ اللہ عزوجل کفیل ہو اور اس کا حق بندگی ادا کرنے اور اس کی خلق پر رحم کرنے کیلئے وقف ہو گئے۔ اولیاء کی مندرجہ بالا تعریفات نقل کرنے کے بعد صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیںکہ  یہ معانی اور عبارات اگرچہ جداگانہ ہیں لیکن ان میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبادت میں ولی کی ایک ایک صفت بیان کر دی گئی ہے۔ جسے قربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتی ہیں، ولایت کے درجے اور مراجب میں ہر ایک بقدر اپنے درجے کے فضل و شرف رکھتا ہے۔
اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام کی پہچان؟ ولی اللہ کی پہچان حقیقتاً بہت مشکل ہے۔ مفتی احمدیار خان فرماتے ہیںکہ حقیقت یہ ہے کہ ولی اللہ کی پہچان بہت مشکل ہے۔ حضرت سیدنا ابویزید بسطامی فرماتے ہیںکہ اولیاء اللہ رحمت الٰہی کی دلہن ہیں جہاں تک سوائے اس کے محرم کے کسی کی رسائی نہیں۔ اسی لئے کہا گیا کہ ’’ولی رَا وَلی می شناسد‘‘ یعنی ولی کی پہچان ولی ہی کر سکتا ہے۔ حضرت سیدنا شیخ ابوالعباس فرماتے ہیںکہ خدا کی پہچان آسان ہے مگر ولی کی پہچان مشکل کیونکہ رب عزوجل اپنی ذات و صفات میں مخلوق سے اعلیٰ و بالا ہے اور ہر مخلوق اس پر گواہ مگر ولی شکل و صورت، اعمال و افعال میں بالکل ہماری طرح۔ شریعت میں اظہار ہے اور طریقت میں اِخفا (چھپانا)، مکان کی زینت دروازہ پر رکھی جاتی ہے اور موتی کوٹھڑی میں۔
اللہ عزوجل کے پیارے محبوب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’کتنے ہی پریشان حال، پراگندہ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتے لیکن اگر وہ اللہ عزوجل پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو وہ ضرور اسے پورا فرما دے‘‘۔
یاد رکھیے! ولی ہونے کیلئے تشہیر و اشتہار، نمایاں جبہ و دستار اور عقیدت مندوں کی لمبی قطار ہونا ضروری نہیں جس سے ان کی ولادیت کی معرفت اور شہرت ہو بلکہ عام بندوں میں بھی ولی اللہ ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں ہر نیک بندے کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ نہ جانے کون گدڑی کا لعل (یعنی چھپا موتی) ہو، جیسا کہ حضرت سیدنا ذوالنون مصری فرماتے ہیںکہ اللہ عزوجل نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مخفی رکھا ہے (۱)اپنی ناراضگی کو اپنی نافرمانی میں۔ (۲)اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں اور (۳)اپنے اولیاء کو اپنے بندوں میں۔ پس کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے اسی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی پوشیدہ ہو اور کسی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ اسی میں اللہ عزوجل کی رضامندی ہو اور بندوں میں سے کسی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے اولیاء میں سے کوئی ہو۔
اولیائے کرام کے مختلف مراتب کہ اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام کے مرتبے مختلف ہیں اور یہ حضرات مختلف انبیاء کے مظہر ہیں، اسلئے اُن کی شانیں جداگانہ ہیں، سب میں ایک (ہی طرح کی) علامت تلاش کرنا غلطی ہے۔ جس طرح ایک حکومت کے مختلف محکمے ہیں، ہر محکمے کی وردی، پگڑی علیحدہ، پولیس کی وردی اور فوج کی وردی کچھ اور ریلوے کی دوسری، سب میں ایک ہی علامت تلاش نہیں کی جا سکتی، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں ان نفوسِ قدسیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی مختلف علامتیں ارشاد ہوئی ہیں‘ البتہ ایمان اور تقویٰ ایسی صفات ہیں جو ہر ولی اللہ کیلئے شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا کوئی بے دین یا فاسق و فاجر شخص ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ کریم نے ان دونوں صفات کو بیان فرمایا ہے کہ چنانچہ پارہ 11 ، سورۂ یونس کی آیت نمبر 62 اور 63 میں خدائے رحمن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں‘‘۔     (جاری ہے)