09:06 am
جی ہاں عبایا مذہبی مسئلہ ہے

جی ہاں عبایا مذہبی مسئلہ ہے

09:06 am

کے پی کے  کے بعض اضلاع میں سکولوں اور کالجوں کی طالبات کے لئے محکمہ تعلیم نے عبایا پہننے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو بعض نجی چینلز کی این جی او مارکہ اینکرینوں اور اینکرز نے عبایا پہننے کے حکومتی نوٹیفکیشن کے خلاف باقاعدہ جنگ کا ماحول پیدا کرکے خیبرپختونخواہ حکومت کو اسلامی تعلیمات پر مبنی وہ نوٹیفکیشن واپس لینے پر مجبور کر دیا۔
 
سیکولر پٹاری کے دانش فروش ہوں یا لنڈا مارکہ لبرلز‘ بعض بڑے ٹی وی چینلز کی طاقت کے زور پر اسلامی تعلیمات اور اسلامی احکامات کو جس طرح سے بلڈوز کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ انتہائی قابل مذمت بھی ہے اور قابل گرفت بھی‘ دیگر متعدد موضوعات کی مشغولیت کی وجہ  سے ’’عبایا‘‘ کے خلاف برپا ’’فتنے‘‘ کے خلاف یہ خاکسار اپنے کالم کو آئندہ کل پر ٹالتا رہا‘ غامدی سکول آف تھاٹ کے ترجمان بھی ’’فتنہ انکار عبایا‘‘ کے لشکری بن کر قلمکاری کے میدان میں کود پڑے‘ میں اس حوالے سے تفصیلی کالم آئندہ لکھوں گا ان شاء اللہ فی الحال ملک کے ممتاز اور نامور عالم دین اور متعدد کتابوں کے مصنف مولانا مفتی منصوراحمد کا خط اپنے کالم کی زینت بنا رہا ہوں جوروشن ضمیروں کے لئے انتہائی مفیدہے۔مفتی منصور احمد لکھتے ہیں : جی ہاں!عبایہ مذہبی مسئلہ ہے۔ عجیب لوگ ہیں اور کیا ہی متضاد باتیں اور متضاد رویے ہیں ۔ مختلف تعلیمی اداروں کا یہ حق تسلیم ہے کہ وہ اپنے ہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کیلئےجو چاہیں یونیفارم مقرر کریں ۔ لباس متعین ، رنگ بھی متعین ، تراش خراش بھی متعین ، کوئی آزادی نہیں کہ کوئی ایک طالب علم یا طالبہ اپنی مرضی اور خواہش سے لباس پہن کر کسی ادارے میں جا کر دکھائے ۔ ہاں!مگر چونکہ اس حکم کا تعلق اسلام سے نہیں  اس لیے کسی کو ایسی پابندیوں پر اعتراض کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی ایسے حکم سے کسی کی آزادی پر زد پڑنے کا خطرہ اور واویلا سنائی دیتا ہے‘ البتہ جب حکومت بچیوں کو ہوسناک نگاہوں سے بچانے کیلئے رنگ کی پابندی لگائے ، نہ ڈھنگ کی  صرف اتنا کہہ دے کہ بچیاں ان تعلیمی اداروں میں جن کے راستوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں جہاں اسٹاف میں بھی لازماً کوئی نہ کوئی مرد ہوتا ہے وہ عبایہ پہن کر آئیں تاکہ جن دلوں میں بیماری اور جن آنکھوں میں آوارہ گردی ہے وہ سمجھ جائیں کہ یہاں ان کا کام نہیں اور یہ شریف زادیاں اس لیے نہیں گھر سے نکلیں کہ ہر مادر پدر آزاد ذہن رکھنے والا اپنی نگاہیں ان پر گاڑتا  رہے ۔ 
کون نہیں جانتا کہ ہم کس قسم کے ماحول میں رہ رہے ہیں اور ان بچیوں کو جن کا باہر کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ان میں سے کتنے نیک اور پارسا ہوتے ہیں  یہ بھی ہم خوب جانتے ہیں لیکن ہمیں اصرار ہے کہ نہیں ہم تو تب مانیں گے جب حادثہ ہو جائے گا ۔ ماحول سارا ہم خود بنائیں گے فضا خود سازگار کریں گے تباہی کو بھی خود آواز دیں گے اور پھر جب آنکھیں بہکیں گی حادثے رونما ہوں گے تو ہم شور مچا مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیں گے ۔ کیا ہی عجیب لوگ ہیں اور کیا ہی متضاد باتیں اور رویے ہیں ۔ پھر بس صرف اس پر بھی نہیں ۔ ایک قدم آگے بڑھائیں گے اور اقبال ؒ کے الفاظ میں ’’خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘کوشش ہے کہ پردہ سر ڈھانپنے اور چہرہ چھپانے جیسے احکام  سب کو اسلام سے ہی نکال ڈالیں تاکہ ضمیر میں جو کوئی خلش کبھی کبھار ہوتی ہے  اس سے بھی چھٹکارا ملے ۔
 بحث عبایہ  سے شروع کرتے ہیں اور اس سوال پر جا اٹکتے ہیں کہ اسلام نے مرد و زن کیلئے کوئی لباس طے کیا ہے یا نہیں؟ حالانکہ اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ اسلام نے مرد و زن کیلئے لباس کا کوئی خاص رنگ ، کپڑے کی کوئی خاص قسم یا کٹنگ کا کوئی خاص اسٹائل تو متعین نہیں کیا لیکن ایسے اہم  قیمتی اور بنیادی اصول ضرور دے دئیے جن کی ضرورت انسانیت کو ہمیشہ رہے گی ۔ مثلا ًخواتین کے لباس کیلئے یہ ضابطے طے فرما دئیے کہ  اجنبی مردوں کے سامنے ان کا مکمل بد ن چھپا رہے ۔  مردوں کے لباس سے ممتاز اور جدا ہو ۔ ڈھیلا ڈھالا ہو  چست اور تنگ نہ ہو ۔ مجھے معلوم ہے کہ ان تین اصولوں پر مجھے دلائل بھی پیش کرنے ہیں لیکن یہاں حیرت اور تعجب ان لوگوں پر ہے جو اہل ایمان سے تو ہر مسئلہ کی دلیل مانگتے ہیں لیکن خود ان کیلئے ان کی فہم اور تفہیم ہی سب سے بڑی دلیل ہے ۔
بہرحال جو سمجھتے ہیں کہ عبایا  پردہ اور غیر محرم مردوں سے اپنے آپ کو چھپانا دینی اور مذہبی مسئلہ نہیں ہے وہ سور الاحزاب کی آیت نمبر 59 تلاوت کریں : ترجمہ :  اے نبی ! آپ اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر جھکا لیا کریں ۔ پھر آیت نمبر 53کا یہ حصہ تلاوت کریں:  اور جب تمہیں ان(نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں) سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو ۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہو گا۔ یہاں آپ کو ایسے عقل مند بھی مل جائیں گے جو کہیں گے کہ پردہ کا حکم امہات المومنین کے ساتھ خاص تھا اور آج کی مسلمان عورت کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ سبحان اللہ! کیا دانش پائی ہے وہ ہستیاں جن کی پاکیزگی اور دل کے تقو یٰ کی گواہی خود رب کے قرآن نے دی  انہیں تو پردے کی ضرورت تھی اور جن کے انگ انگ میں شرارت سمائی ہوئی ہے  جن کے دل پاک ہیں نہ نگاہیں ان کو پردے کی ضرورت نہیں ۔ عقل اور دانش کا تقاضا تو یہ ہے کہ صحابیات  کیلئے پردے کی تاکید کم ہو اور آج فتنہ و فساد کے دور میں اس کا اہتمام زیادہ ہو تاکہ خواتین باآسانی اپنی عزت کی حفاظت کر سکیں ۔ خواتین کے لباس کے بارے میں دوسرا اصول صحیح بخاری کی اس حدیث پاک سے ماخوذ ہے  جو عارضی اور وقتی نہیں  دین اسلام کا مستقل اور دائمی اصول ہے،ترجمعہ:’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔‘‘ خواتین کے لباس کا تیسرا اصول صحیح مسلم کی اس روایت سے لیا گیا ہے اور معمولی عقل رکھنے والا ہر شخص بھی اس حکم کی حکمت کو سمجھ سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جہنمی گروہوں کا ذکر فرمایا جو آ پ کے دور مبارک میں نہیں تھے اور بعد کے زمانے میں ان کا ظہور ہونا تھا  ان میں سے دوسرے  نمبر پر فرمایا: ونسا کاسیات عاریات  دوسرا جہنمی گروہ ان عورتوں کا ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی نظر آتی ہیں۔قرآن و حدیث میں لباس کے بارے میں دیگر بھی بہت سی قیمتی ہدایات آئی ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کتنا حساس ہے اور وہ اپنے ماننے والوں کوکیا شعور اور تربیت دینا چاہتا ہے ۔ 

تازہ ترین خبریں