09:08 am
پھول اورکارڈ

پھول اورکارڈ

09:08 am

گاڑی میرے گھرکے سامنے رکی،پہلے با و ر د ی شوفراترا،پچھلے دروازے کی طرف بھاگا اور سرعت سے ہینڈل کھینچ دیا۔اندر سے سرمئی سوٹ میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان نکلا ،اس کے ہاتھوں میں گلدستہ تھا۔میں یہ سب کچھ اپنے گھر کے فرنٹ روم کی سامنے والی کھڑکی سے دیکھ رہاتھا۔اس نے عینک کے گہرے سیاہ شیشوں کے پیچھے سے ماحول کاجائزہ لیا اورآگے بڑھ کرمیری دہلیزپرقدم رکھ دیا۔اس نے جونہی گھرکی بیل بجائی تومجھے قدرے حیرت بھی ہوئی اورپریشانی بھی کہ یہ اجنبی کون ہے اورمیرے ہی گھرکااس نے انتخاب کیوں کیاہے؟
اگلے دومنٹوں میں وہ میرے سامنے بیٹھا تھا ، وہ ایک خوشحال،وجیہہ اورمہذب آدمی دکھائی دے رہاتھالیکن اسے اپنے سامنے پاکرمجھے کوئی مسرت نہیں ہورہی تھی۔میں دراصل پچھلے چنددنوں سے شد ید ڈ پر یشن کاشکارتھا،خدادادپاکستان کی اوپرتلے کی نا کا میا ں ، سنگین معاشی بحرانوں،مہنگائی میں تڑپتے عوام اورحا لا ت کے بے مہرتھپیڑوں نے میری جڑیں تک ہلادی تھیں۔میںچڑچڑا،سنکی اوربیزارہوچکاتھا۔ بغیر منہ دھوئے رات کے لباس میں بیٹھاایک کتاب پڑھنے میں منہمک تھا،میل ملاقات سے مجھے چڑسی ہو گئی تھی۔میں نے سوچاکہ یہ کتنے غلط وقت پربغیر اطلاع دیئے میرے پاس آیاہے۔ اس کے پھول میرے سامنے میزپر دھرے تھے جودروازہ کھولتے ہی اس نے اپنی مسکراہٹ کے ساتھ میرے ہاتھوں میں تھمادیئے تھے۔
اس نے دھوپ کاانتہائی قیمتی چشمہ اتارا ، ا و ر زندگی سے بھرپورمسکراہٹ میری طرف پھینک کربولا، آپ نے مجھے پہچانا؟ میں نے غورسے اسے دیکھا،چہرہ توشناساتھالیکن وقت اور دوری کی دھندمیں ملفوف تھا۔ اس نے میری کشمکش بھانپ لی،آپ پہچان بھی کیسے سکتے ہیں،دس سال تھوڑاعرصہ نہیں ہوتا؟میں اسے خاموشی سے دیکھتارہا۔آپ میرے محسن ہیں ،میری خواہش تھی، میں جب کامیاب بزنس مین بن جائوں،میرے پاس بے پناہ دولت آجائے،لوگ میرے اوپررشک کریں، تومیں ایک بارآپ کے قدموں میں حاضری دوں۔
میری وحشت حیرت میں تبدیل ہوگئی اورمیں سکتے کے مریض کی طرح اسے دیکھنے لگا۔وہ تھوڑا سا جذباتی ہوگیا،سرمیں ایک ناکام شخص تھا،غریب تھا، جذ با تی تھا،جس سونے کوہاتھ لگاتامٹی ہوجاتا،جس نوکری کیلئے درخواست دیتاوہاں سے انکارہوجاتا۔میں نے سوچا اس زندگی سے توموت اچھی ہے۔اس سے پہلے کہ میں مرجاتا، ایک دوست مجھے آپ کے پاس چھوڑگیا۔ آپ نے میری ساری کہانی سن کرمجھے خودکشی کاایک انوکھا طریقہ بتایا۔آپ نے کہااس معاشرے میں زندہ رہنے سے بڑی کوئی خودکشی نہیں،تم اپنے اردگرد موجود لوگوں جیسے ہوکران سب سے انتقام لے سکتے ہو۔آپ نے کہاکامیابی اور ناکامی،اچھائی اوربرائی فقط( اسٹیٹ آف مائنڈ)اپنے دماغ کی سوچ ہوتی ہے۔جیب تراشی ایک شخص کی ناکامی اوردوسرے کیلئے کامیابی ہوتی ہے،اسے ایک برائی کہتاہے اوردوسرے کے نزدیک وہ حصولِ رزق کاذریعہ ہوتی ہے۔
وہ سانس لینے کیلئے رکا،وہ مجھے اب ہلکاہلکایادآنے لگا۔دس سال پہلے وہ ایک کمزور سا زردرو لڑکاتھالیکن اب وہ سڈول جسم کاخوبصورت نوجوان تھا۔ وہ گویاہوا،آپ نے کہاتھا کہ اصل قصوروار ضمیر ہو تا ہے، یہ جوتم بہت خوشحال قسم کے لوگ دیکھتے ہوجن کی لوگ مثالیں دیتے ہیں کہ یہ برسوں میں ارب پتی بن گیایہ بھی کبھی تم جیسے لوگ تھے،بس انہوں نے خود کو مارنے کی بجائے اپنے اپنے ضمیر کوقتل کردیااوربس ایک ہی رات میں خوشحالی کے سفرپرگامزن ہوگئے۔ جیسادیس ویسا بھیس۔اس ملک میں ضمیرکی کوئی ضرورت نہیں،اس سوسائٹی میں ضمیراپینڈکس کی طرح ہے،اگرہے توکوئی فائدہ نہیں، موجودنہیں توکوئی نقصان نہیں۔آپ نے کہاتھاکہ اپنے اردگرددیکھو،کتنے سیاستدان ہیں،کتنے مذہبی رہنما،بزنس مین، دانشور، ادیب اورصحافی ہیں،یہ سب اخبار،ریڈیواورٹیلیویژن پرکتناجھوٹ بولتے ہیں کہ عرش تک ہل جاتاہے۔یہ جب کہتے ہیں تو جانتے ہیں ہم غلط کہہ رہے ہیں لیکن تم ان کا اعتماد دیکھو،ان کے لہجے کی کھنک،ان کی آنکھوں کی چمک اوران کے چہرے کی دمک ملاحظہ کروتمہیں کسی جگہ کشمکش،پریشانی اور شرمندگی نظرآتی ہے،نہیں دکھا ئی دیتی،کیوں؟ کیونکہ ان لوگوں کے اندرضمیرجیسی چیزہی نہیں۔آپ نے کہاتھایہ ضمیرہی ہوتاہے جو انسان کوشرمندگی،پریشانی اورکشمکش سے دوچارکرتا ہے،جوآپ کے اعتمادمیں دراڑڈالتاہے،اگرضمیرنہیں توسکھ ہی سکھ، اطمینان ہی اطمینان اورسکون و چین ہی چین!
 وہ رکا،اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اورلمباساسانس لیکربولا،سر!اس کے بعد آپ نے یہ بھی کہاتھاکہ اگرضمیر کے ساتھ زندہ رہوگے تومیں تمہیں یہ یقین دلاتاہوں کہ کامیاب تو تم پھربھی ہوجاگے لیکن یہاں نہیں بلکہ وہاں،جہاں ہم سب کا انتظار ہو ر ہا ہے۔ سر !میں  نے آپ کی پہلی نصیحت پرعمل کیا،میں نے اپنے ضمیرکاگلہ دبادیا،میں نے اسے مٹی میں دفن کر دیا۔آپ کی پشین گوئی یاتجربہ کی بات بالکل سچ ثابت ہوئی،میں واقعی کامیاب ہوگیا۔مجھے لگامیں آپ کے ساتھ ملاقات سے پہلے قطب شمالی پربرف کی دوکان کھول بیٹھا تھا یاچولستان کے باسیوں کو ریت بیچ رہاتھا۔میں نے جب بازارمیں درست سودا بیچناشروع کیا تودن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔میں آپ کامشکور ہوں سر!وہ خاموش ہو گیا۔میں اس کے چہرے کوغور سے دیکھنے لگا،وہاں واقعی کوئی ملال،کوئی شرمندگی اورکشمکش نہیں تھی بالکل ہمارے آج کے حکمرانوں کی طرح!آئی ایم ایف کی شرمناک شرائط کو پاکستانی عوام پرمسلط کرکے کس قدرخوشی کے ساتھ سینہ پھلاکر ہمارے حکمران پاکستان کے مختلف چینلزکواپنی کارکردگی سے آگاہ کررہے ہیں یاپھرمودی کے حالیہ اقدامات کے خلاف فتح مندی کے ڈھول پیٹ رہے ہیںوہ اس کواپناحق بھی سمجھتے ہیں کیونکہ وزیرخارجہ بڑے فخرکے ساتھ اس طوقِ غلامی کی کامیابی کاسہر ااپنے کپتان کے سر باندھ رہے ہیں۔
 اس نے آگے پیچھے دیکھااوربڑے اعتمادسے بولا،سر! آپ مجھے کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں، کوئی مسئلہ آن پڑا ہے ’’اینی پرابلم سر؟‘‘میں نے ٹھنڈی سانس بھری اورتھکی مرجھائی آوازمیں کہا،ہاں میں پریشان ہوں،میں بھی اپنے ضمیر کے ہاتھوں تنگ آچکا ہوں، اس نے قہقہہ لگایااورچمک کربولا،آپ بھی میری طرح کریں،مطمئن اورخوشحال ہو جائیں۔ میں نے بھی زوردارقہقہہ لگایااوراس کی طرف دیکھ کر کہا،بڑی کوشش کرتاہوں لیکن اللہ نے میرے اندر ایک عجیب نسل کا ضمیر  فِٹ کر دیاہے،میں جہاں چھوڑ کرآتاہوں، یہ بلی کی طرح واپس آجاتاہے،میرے گھرپہنچنے سے پہلے دہلیزپرکھڑاہوتا ہے اورپہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مجھ پرحملہ آورہوتاہے اور بالآخر مجھے شکست سے دوچار کردیتا ہے ۔ سر ! پھرآپ کاشمار ان لوگوں میں ہوتاہے جواپنے مقدرمیں ناکامی لکھواکرآئے ہیں،جوکبھی کامیاب نہیں کہلواسکتے البتہ یہاں نہیں بلکہ وہاں بھی آپ کامیاب ٹھہریں گے، مجھے معلوم نہیں؟میرے لائق کوئی خدمت ہوتویہ میراکارڈرکھ لیں،کبھی یاد فرمائیں!اب میز پرپڑے پھولوں کے ساتھ یہ کارڈ بھی مجھے دیکھ کرطنزیہ ہنسی کو چھپانے کی کوشش کررہاتھا!