09:09 am
جنرل اسمبلی میں معرکہ

جنرل اسمبلی میں معرکہ

09:09 am

٭آج جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی، اس سے پہلے نریندر مودی کی تقریریں ہوں گیO جنرل اسمبلی میں صدر ترکی کی بھارت کی کھلی مذمتO پاکستان، ترکی، ملائیشیا کا مشترکہ ٹیلی ویژنO’’ بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کو اسلحہ پہنچانے والا پاکستانی ڈرون طیارہ پکڑا گیا‘‘ ٹائمز آف انڈیاO جنرل باجوہ، وزیراعلیٰ پنجاب زلزلہ زدہ علاقے میںO فردوس عاشق کی ’’غیر سنجیدہ‘‘ بات پر شیریں مزاری کی معافیO جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کی تقریر، کشمیر کا نام نہیں لیا80 سال کے اندر ممبئی، کلکتہ، چنائی (مدراس) اور سورت ڈوب جائیں گے:بھارتی میڈیا۔
 
٭عمران خان آج رات گئے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ امریکہ اور پاکستان کے وقت میں 10 گھنٹے کا فرق ہے۔ پاکستان کا وقت 10 گھنٹے آگے ہے۔ امریکہ میں صبح 9 بجیں گے تو پاکستان میں سات بجے شام کا وقت ہو گا۔ جنرل اسمبلی میں پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر ہو گی۔ اس کے دو تین گھنٹے بعد عمران خان کی باری آئے گی۔ اندازہ ہے کہ یہ تقریر 11,10 بجے تک ہو سکتی ہے۔ پہلے کبھی بھارت اور پاکستان میں ان دونوں کی تقریروں کا اتنی شدت سے انتظار دیکھنے میں نہیں آیا۔ عمران خان نے بار بار کہا ہے کہ اس بار جنرل اسمبلی میں جو تقریر کروں گا وہ تقریر آج تک کسی نے نہیں کی ہو گی۔ یہ دونوں تقریریں، اب تک سامنے آ چکی ہوں گی۔
٭زلزلہ سے میرپور کے علاقے میں شہیدہونے والے افراد کی تعداد 39 اور زخمیوں کی تعداد 500 ہو گئی۔ چیف آف سٹاف جنرل باجوہ اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد عثمان بزدار موقع پر پہنچ گئے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر پہلے ہی موجود تھے۔ پاک آرمی نے اس موقع پر بھی فوری طور پر پہنچ کر ہر قسم کی امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جو رات بھر جاری ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام زلزلہ زدگان کی مکمل امداد، علاج معالجہ اور تعمیراتی کاموں میں مکمل معاونت کا یقین دلایا ہے۔ مجھے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں سے بھی ایسی ہی معاونت کی توقع ہے۔ یہ ہم سب کا دکھ ہے، ہمیں مل کر نمٹنا ہے۔ ایک قاری نے مشورہ دیا ہے کہ قومی معاملات میں بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کا ذکر نہ ہی کیا کریں، خواہ مخواہ ان کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے، نام لینے سے گریز کرنا چاہئے مگر میں نے ابھی تک ان لوگوں کے زلزلہ زدہ علاقوں میں جانے کی کوئی خبر نہیں پڑھی البتہ راولپنڈی میں بلاول اور اسلام آباد پر مولانا کی لشکر کشی کے اعلانات بار بار چھپ رہے ہیں۔ یہ لوگ کس ملک کے رہنے والے ہیں؟
٭ایک سروے کے مطابق بین الاقوامی سطح پر عالمی رائے عامہ نریندرمودی کے مقابلے میں عمران خان کی باتوں میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ عمران خان مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے ظلم و ستم کے خلاف  آواز اٹھا رہا ہے جب کہ نریندر مودی کو دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف رفاہی، سماجی ادارے مقبوضہ کشمیر میں 54 دنوں کے کرفیو کی کھلی مذمت کر رہے ہیں۔ لندن میں لیبر پارٹی کی ایک کمیٹی نے بھارت کی مذمت کر دی اس پر بھارتی سفارت خانہ اتنا برہم ہوا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کو دیا جانے والا عشائیہ منسوخ کر دیا۔
٭اطلاعات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ عجیب بے تکا اور بے ڈھب بیان دیا کہ آزاد کشمیر میںزلزلہ عمران خان کی حمائت کے لئے آیا ہے۔ اس پر ہر طرف سے مذمتی بیان آنے لگے تو اس خاتون نے کوئی معذرت نہیں کی بلکہ زیادہ مضحکہ خیز بیان دے دیا کہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھی، اچانک زلزلہ آ گیا۔ میں نے صحافیوں کو سمجھانے کے لئے کہہ دیا کہ زلزلہ عمران خان کی حمائت میں آ رہا ہے ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے نہ ہٹایا جائے! اتنا فضول اونٹ پٹانگ بیان! مزید یہ کہ اس انٹ شنٹ پر معذرت کرنے کی بجائے وضاحتیں کرنے بیٹھ گئیں کہ جذباتی ہو گئی تھی۔ استغفار! زلزلے پر دکھ کے اظہار کی بجائے عمران خان کے لئے تالیاں بجانے لگی! فردوس عاشق وزیر یا مشیر نہیں، انتخابات میں بری طرح شکست کھائی تھی مگر عمران خان کی ہرپریس کانفرنس اور بیان کے پیچھے کھڑے ہوتے رہنے کے معاوضہ میں خصوصی معاون بنا دیا گیا (17 معاون پھر رہے ہیں) بڑا دفتر، اعلیٰ گاڑی مل گئی۔ اسی طرح آصف زرداری اور چودھری برادران کے ساتھ قربت اور عہدے حاصل کئے تھے۔ بات مختصر ۔ باقاعدہ وزیر شیریں مزاری نے فردوس عاشق کو غیر سنجیدہ قرار دے کر اس کے بیان پر خود معافی مانگ لی ہے! اور کہا ہے کہ فردوس عاشق کا حکومتی نقطہ نظر سے کوئی تعلق نہیں۔ کیسے کیسے لوگ بھان متی کے کنبے میں جمع ہیں؟ ویسے تو بی بی شیریں مزاری بھی انتخاب لڑ کر  نہیں، بلکہ ’نظرِ کرم‘ سے اسمبلی کی ہوائی رکن بن کر آئی ہیں! وہ انسانی حقوق کی وزیر ہیں مگر وہ کشمیر کے معاملہ میں ایک آدھ بیان دے کر خاموش ہیں حالانکہ مقبوضہ کشمیر کا سارا مسئلہ ہی انسانی حقوق کی پامالی کا ہے!
٭عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کرے گا۔ یہ صرف آخری آپشن ہو سکتا ہے۔ بعض حلقے اس پر اس پر اعتراض کر رہے ہیں اور وزیراعظم کو کم حوصلہ قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کی جائے (وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے بھی اسی نوعیت کی بات کی ہے)۔ اس وقت عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ جتنا ابھارا گیا ہے اس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ ایسے حالات میں عالمی سطح پر اپنی حمائت کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ اس  کے لئے خود کو امن پسند قرار دینا ضروری ہے۔ ایک سادہ بات پہلے بھی لکھی جا چکی ہے کہ اب زمین پر فوجوں کی نقل و حرکت کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ یہ میزائلوں کا دور ہے، صرف ایک شخص ایک میزائل کا بٹن دبا کر مخالف چھ شہر تباہ کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر صرف دو میزائل گرنے سے دنیا بھر کو تیل کی سپلائی بند ہو گئی۔ کیا کوئی ملک میزائلوں کی جنگ کی حمائت کر سکتا ہے؟ ایسی جنگ میں فوجوں کی بجائے شہریوں کا زیادہ نقصان ہو گا۔ ایک بات یہ کہ کیا بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ فوج اور سینکڑوں لڑاکا اور بم بار طیارے، خاموش رہیں گے؟ کھلی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو مسلمانوں کی اکثریت بستی ہے، کیا ان پر ایک گولی بھی چلا سکتے ہیں؟ بھارت کے ہر شہر میں بھی مسلمان بھاری تعداد میں بستے ہیں، جنگ میں یہ بھی متاثر ہونگے! مودی جیسے بھیڑیے کوختم کرنے کے لئے بہت سی دوسرا تدابیر ضروری ہیں۔ میں نے تین بڑی جنگیں دیکھی ہیں۔ ہر بار سلامتی کونسل بیچ میں آ کر جنگ رکوا دی گئی اور ایک دوسرے کے مفتوحہ علاقے واپس کر دیئے گئے! حاصل کیا ہوا؟ ایک شملہ معاہدہ؟ اس کے تحت کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ٹھپ ہو گیا، کسی تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔ 48 برسوں کے بعد مشکل کے ساتھ اقوام متحدہ میں پہنچا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں دیر لگ سکتی ہے مگر بالاآخر حل ہو کر رہے گا!
٭ ترکی کے صدر نے کھل کر دو ٹوک مقبوضہ کشمیر پر بھارتی پابندیوں اور ظلم و ستم کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وہاں فوری طور پر کرفیو ختم کیا جائے۔ ترکی واحد ملک ہے جس نے اس کھلے انداز میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ پاکستان کے ساتھ عرب ممالک نے ’محبت بھری‘ چکنی چپڑی باتیں تو بہت سی کی ہیں مگر کسی نے بھی بھارت کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔ ان سب ممالک کے بھارت کے ساتھ گہرے مفادات موجود ہیں۔
٭چلتے چلتے: بھارتی میڈیا نے ایک نمایاں خبر شائع کی ہے کہ بین الاقوامی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پہاڑوں پر برف کے بڑے بڑے گلیشئر جس تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں اس سے اس صدی (2000) کے آخر تک بھارت کے سمندروں کی سطح تقریباً ایک میٹر (سوا تین فٹ) بلند ہو جائے گی، اس سے 80 سال کے اندر ممبئی، مدراس (چنائی) کلکتہ اور سورت کے ساحلی شہر مکمل طور پر ڈوب جائیں گے، ان شہروں میں طوفانی بارشوں اور خوفناک سیلابوں کا بھی امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندر میں پانی کی سطح اب بھی بڑھ رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں