10:59 am
ولی اللہ اور ولایت 

ولی اللہ اور ولایت 

10:59 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام کی پہچان؟ ولی اللہ کی پہچان حقیقتاً بہت مشکل ہے۔ مفتی احمدیار خان فرماتے ہیںکہ حقیقت یہ ہے کہ ولی اللہ کی پہچان بہت مشکل ہے۔ حضرت سیدنا ابویزید بسطامی فرماتے ہیںکہ اولیاء اللہ رحمت الٰہی کی دلہن ہیں جہاں تک سوائے اس کے محرم کے کسی کی رسائی نہیں۔ اسی لئے کہا گیا کہ ’’ولی رَا وَلی می شناسد‘‘ یعنی ولی کی پہچان ولی ہی کر سکتا ہے۔ حضرت سیدنا شیخ ابوالعباس فرماتے ہیںکہ خدا کی پہچان آسان ہے مگر ولی کی پہچان مشکل کیونکہ رب عزوجل اپنی ذات و صفات میں مخلوق سے اعلیٰ و بالا ہے اور ہر مخلوق اس پر گواہ مگر ولی شکل و صورت، اعمال و افعال میں بالکل ہماری طرح۔ شریعت میں اظہار ہے اور طریقت میں اِخفا (چھپانا)، مکان کی زینت دروازہ پر رکھی جاتی ہے اور موتی کوٹھڑی میں۔
اللہ عزوجل کے پیارے محبوب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ’’کتنے ہی پریشان حال، پراگندہ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتے لیکن اگر وہ اللہ عزوجل پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو وہ ضرور اسے پورا فرما دے‘‘۔
یاد رکھیے! ولی ہونے کیلئے تشہیر و اشتہار، نمایاں جبہ و دستار اور عقیدت مندوں کی لمبی قطار ہونا ضروری نہیں جس سے ان کی ولادیت کی معرفت اور شہرت ہو بلکہ عام بندوں میں بھی ولی اللہ ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں ہر نیک بندے کا ادب و احترام کرنا چاہئے کہ نہ جانے کون گدڑی کا لعل (یعنی چھپا موتی) ہو، جیسا کہ حضرت سیدنا ذوالنون مصری فرماتے ہیںکہ اللہ عزوجل نے تین چیزوں کو تین چیزوں میں مخفی رکھا ہے (۱)اپنی ناراضگی کو اپنی نافرمانی میں۔ (۲)اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں اور (۳)اپنے اولیاء کو اپنے بندوں میں۔ پس کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے اسی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی پوشیدہ ہو اور کسی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ اسی میں اللہ عزوجل کی رضامندی ہو اور بندوں میں سے کسی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے اولیاء میں سے کوئی ہو۔
اولیائے کرام کے مختلف مراتب کہ اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام کے مرتبے مختلف ہیں اور یہ حضرات مختلف انبیاء کے مظہر ہیں، اسلئے اُن کی شانیں جداگانہ ہیں، سب میں ایک (ہی طرح کی) علامت تلاش کرنا غلطی ہے۔ جس طرح ایک حکومت کے مختلف محکمے ہیں، ہر محکمے کی وردی، پگڑی علیحدہ، پولیس کی وردی اور فوج کی وردی کچھ اور ریلوے کی دوسری، سب میں ایک ہی علامت تلاش نہیں کی جا سکتی، یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں ان نفوسِ قدسیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی مختلف علامتیں ارشاد ہوئی ہیں‘ البتہ ایمان اور تقویٰ ایسی صفات ہیں جو ہر ولی اللہ کیلئے شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا کوئی بے دین یا فاسق و فاجر شخص ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ کریم نے ان دونوں صفات کو بیان فرمایا ہے کہ چنانچہ پارہ 11 ، سورۂ یونس کی آیت نمبر 62 اور 63 میں خدائے رحمن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں‘‘۔ 
پارہ 9 سورۃ الانفال کی آیت نمبر 34 میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں‘‘۔ اس آیت مبارکہ کے تحت مفتی احمدیار خان فرماتے ہیں: کوئی کافر یا فاسق اللہ عزوجل کا ولی نہیں ہو سکتا۔ ولایت الٰہی ایمان و تقویٰ سے میسر ہوتی ہے۔
فضل خداوندی کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں ،اولیائے کرام رحمہم اللہ الاسلام کا کسی مخصوص خاندان یا نسل سے ہونا ضروری نہیں کہ فضل خداوندی کسی نسل یا قوم ہی کے ساتھ خاص نہیں، اللہ عزوجل جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ مسلمانوں کی ہر قوم اور ہر پیشہ کرنے والوں میں ہوتے رہے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ کبھی مزدور کے بھیس میں، کبھی سبزی اور پھل فروش کی صورت میں، کبھی تاجر یا ملازم کی شکل میں، کبھی چوکیدار یا معمار کے روپ میں بڑے بڑے اولیاء ہوتے ہیں، ہر کوئی ان کی شناخت نہیں کر سکتا۔ روئے زمین پر متعدد اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام ہر وقت موجود رہتے ہیں اور انہی کی برکت سے دُنیا کا نظام چلتا ہے۔
کیا ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا ضروری ہے؟ولی سے کرامت کا ظاہر ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ جو کرامت اس ولی سے صادرہو وہی دوسرے اولیاء سے بھی ظاہر ہو۔ یاد رکھئے! اصل کرامت، شریعت و سنت پر استقامت کیساتھ عمل کرنا ہے، جو جتنا زیادہ شریعت و سنت کا پابند ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ باکرامت ہو گا۔ چنانچہ سیدنا شیخ ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ پانی پر چلنا، ہوا میں اُڑنا اور غیب کی خبریں دینا کرامت نہیں بلکہ کرامت یہ ہے کہ وہ شخص سراپا اَمر بن جائے یعنی شریعت کا مطیع و فرماں پذیر ہو جائے اس طرح کہ اس سے حرام کا صدور نہ ہو۔ 

تازہ ترین خبریں