11:01 am
ایمان ثلاثہ کی حقیقت

ایمان ثلاثہ کی حقیقت

11:01 am

 سورہ التغابن ایمان کے موضوع پر نہایت جامع سورہ ہے اور ایمان انسان کی حقیقی کامیابی کے لیے اولین شرط ہے جیسا کہ ہم سورہ العصر میں پڑھ آئے ہیں کہ آخری خسارے سے بچنے کے لیے یعنی حقیقی کامیابی کے لیے چار شرائط کو پورا کرنا لازمی ہے۔ زمانے کی قسم ہے یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کی اور انہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔
 
سورہ العصر قرآن مجید کا خلاصہ ہے جس میں حقیقی کامیابی کی چار شرائط بیان ہوئی ہیں لیکن ان شرائط کی تفصیل پورے قرآن مجید میں موجود ہے۔ان میں سے پہلی شرط یعنی ایمان کے موضوع پر قرآن مجید کی جامع ترین سورہ التغابن ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایمان حقیقت میں کیا ہے؟ کس کس پر ایمان لانا ہے؟ ایمان لانے کی نشانی کیا ہے؟ورنہ آج تو ہر شخص ایماندار ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے لہذا اگر واقعی کسی کا ایمان سچا ہے تواس کی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟اس کے اعمال میں کیا تبدیلیاں آئیں گی؟ان سب چیزوں کے حوالے سے سورہ التغابن میں جامع راہنمائی دی گئی ہے۔ بنیادی طور پر ایمان کا اصل مفہوم ہے کسی کی بات پر یقین کرنا، اعتماد کرنااور ماننا ۔قرآن مجید میں تین بنیادی ایمانیات کا ذکر ہے یعنی ایک اللہ پر ایمان ، آخرت پر ایمان اور رسولوں پر ایمان۔ان تینوں ایمانیات کا ذکرسورہ التغابن میں موجود ہے۔آگے بڑھنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ ان تینوں ایمانیات کی حقیت کیا ہے؟
ہم صاحب ایمان اس شخص کو کہیں گے جو یہ بات مانے کہ یہ کائنات اتفاقی طور پر ظہور میں نہیں آئی بلکہ اس کا ایک خالق و مالک ہے جس کی صناعی اور قدرت کے مظاہر جا بجا بکھرے ہوئے ہیں، وہ ایک نہایت علیم اور حکیم ہستی ہے۔ یہ کائنات اسی کی تخلیق ہے اور اس نے ایک مقصد کے تحت انسان کو پیداکیا ہے۔ بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ایک شعر کے حوالے سے بتایا کرتے تھے کہ
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو عام طور پر وہ اپنی حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے ۔اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہوتی ہے جو ٹرین میں سفر کر رہا ہو اور اچانک کوئی حادثہ ہو یا کوئی چیز اس کے سر پر گر جائے اور اس کی یادداشت چلی جائے تو اب اسے کچھ پتا نہیں ہو گا کہ وہ کون ہے ؟کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟ کیوں جارہا ہے ؟اسی طرح جو شخص اللہ کو نہ مانے تو اس کی کیفیت بھی یہی ہوگی کہ جیسے یاداشت غائب ہو گئی ہو اور اسے کچھ بھی پتا نہیں چل رہا ہے کہ میں دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ کہاں سے چلا ہوں، کہاں میں نے جانا ہے،دنیا میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟کئی لوگ ہوتے ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں اور حقیقت کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔اسی کی ایک مثال تھی کہ گوتم بدھ حق کی تلاش میں سب چھوڑ کر چلا گیا تھاحالانکہ وہ شہزادہ تھا، اس کے پاس کیا کچھ نہیں تھا لیکن زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے اس کا پتا نہیں لگ رہاتھا۔ موت کے بعد کیا ہونا ہے؟ میں کہاں سے آیا ہوں؟ ویسے تو عالم خلق میں آنے کا ذریعہ والدین بنے ہیں لیکن کیا یہ سلسلہ از خود چل رہا ہے۔ یہ بنیادی سوالات ہیں جن کا جواب ایمان باللہ میں پوشیدہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالی انسانوں میں سے انبیاء اور رسول بھیجتا رہا، ان پر وحی آتی رہی اور ان کے ذریعے انسانوں کو اصل راہنمائی ملی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں؟دنیا کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس کے بعد ہمیں کہاں جانا ہے ؟ ہماری منزل کیا ہے؟ 
آج کے انسان نے اپنے آپ کو شعوری طور پر ان سوالات سے الگ کر لیا ہے۔ سوچ یہ بن گئی ہے کہ ان چکروں میں پڑو ہی نہیں بلکہ جو زندگی کے اوقات ہیں ان کو انجوائے فل بنائو۔کامیابی اسی کا نام ہے۔ آگے کی سوچو ہی نہیں،موت کا ذکر آئے تو موضوع کو فورا بدل دو۔آج ساری دنیا اسی رخ پر چل رہی ہے۔ اسی لیے تو قرآن میں کہا گیا کہ یقیناً انسان خسارے میں ہے یعنی انسانوں کی بہت بڑی اکثریت دنیا کے اس امتحان میں ناکام ہو گی اور جب ناکام ہو گی تو پھر جو انجام ہے الامان والحفیظ، وہ سب سے بڑا خسارا ہے چنانچہ اسی بات سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء ورسل کو بھیجا ۔ کتاب نازل کی جس کا فائنل ایڈیشن قرآن مجید ہے جو لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ )وہ اللہ کہ(جس نے بنائے سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر۔ تم نہیں دیکھ پائو گے رحمٰن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔ (الملک:3)
اتنا عظیم نظام، اتنے توافق اور ڈسپلن کے ساتھ چل رہا ہے تو کیا یہ خود بخود وجود میں آگیا ؟ جب قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس وقت کا انسان یہی سوچ رہا ہو گا کہ چند میل اوپر آسمان ہے اور اس سے اوپر اللہ کا تخت ہو گا لیکن اب انسان یہ سوچ کر پاگل ہوا چاہتا ہے کہ کائنات کی وسعت کتنی ہے؟اسی لیے تو فرمایا تم نہیں دیکھ پائو گے رحمٰن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔پھر لوٹائو نگاہ کو کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟ پھر لوٹائو نگاہ کو بار بار(کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے) پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔ (الملک:3،(4
 معلوم ہواکہ یہ کائنات خود بخود نہیں بن گئی۔اس کا کوئی خالق ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ وہ علی کلِ شیء قدِیرہے اور وہ ہر عیب، ہر نقص سے پاک ہے۔ وہی اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور روشن ہستی ہے مگر اس دنیا میں ہم اسے دیکھ نہیں سکتے کیونکہ ہم یہاں امتحان میں ہیں لیکن اس کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح جو نبی اور رسول آئے ان کی زندگیاں شہادت علی الناس ہیں۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہﷺ کی زندگی ایک عظیم شہادت ہے۔ اسی طرح قرآن دو اعتبارات سے معجزہ ہے،ایک تو یہ کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا تھا۔اس کو بدلنے کے لیے دنیا نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا مگر آج بھی وہی اصل قرآن موجود ہے جو حضورﷺ پر نازل ہواتھا۔دوسرا یہ کہ اہل عرب پر اتمام حجت کیا گیا ، وہ بار بار کہتے تھے کہ کوئی معجزہ دکھاؤ ۔ جواب دیا گیا کہ یہ قرآن ہی سب سے بڑا معجزہ ہے۔ اگر تمہیں اس بات میں شک ہے تو اس جیسا کلام لے آؤ ۔اہل عرب کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا ، ان میں بڑے بڑے شاعر موجود تھے، ہر سال مقابلہ ہوتا تھا اور مقابلے میں جو سب سے بڑا شاعر ثابت ہوتا تھا اس کو باقی والے سجدہ کرتے تھے اور اس کا کلام اس کی عظمت کے اعتراف کے طور پر بیت اللہ پر لٹکا دیا جاتا تھا ۔        (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں