11:02 am
بھارت کی سا  لمیت کو درپیش بحران 

بھارت کی سا  لمیت کو درپیش بحران 

11:02 am

نسلی و مذہبی تنوع کے ساتھ مقامی سطح کی قوم پرستی کی تاریخ رکھنے والے بھارت کو اگر آج متعدد علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ 2017ء میں Quoraنامی ویب پیج نے ایسی تحریکوں کی تعداد 135بتائی تھی۔ اگرچہ ان میں کئی تحریکیں بہت چھوٹے پیمانے پر ہیں اور بعض برائے نام ہی رہ گئی ہیں لیکن اس تعداد سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بھارت جیسی بڑی ریاست کو کس نوعیت کے اندرونی خطرات لاحق ہیں۔ 
 

بھارت میں جاری ان تحریکوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ شمال مشرقی کی سات ریاستوں، اروناچل پردیش میں 37، مزورام میں 2، ناگا لینڈ میں3،میگھالیہ میں4،تریپورہ میں 30، منی پور میں 39اور آسام میں 2علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں۔بھارت میں عليحدگی پسند تحریک کا دوسرا بڑا مرکز مقبوضہ کشمیر ہے جہاں کشیدگی عروج پر ہے۔ اس حوالے سے تیسری اور سب سے خطرناک تحریک نکسلائٹ یا نکسل وادی تحریک ہے۔ اس کا آغاز مغربی بنگال کے علاقے نکسل باڑی سے ہوا اور تحریک کا نام بھی اسی علاقے سے موسوم ہے۔ 1967ء سے یہ تحریک مغربی بنگال، اُتر پردیش، آندھرا پردیش، بہار، جھاڑکھنڈ، اُڑیسا اور مدھیہ پردیش سمیت کئی بھارتی ریاستوں کو متاثر کرچکی ہے۔ نکسل وادیوں پر چینی انقلاب کے اثرات ہیں اور ابتدا میں اس کی قیادت کمیونسٹ پارٹی انڈیا(مارکسسٹ) کے ہاتھ میں تھی۔ نکسل باڑی کے نزدیک مقامی جاگیردار کے غنڈوں کے ہاتھوں ایک مزارعے کے قتل سے اس تحریک نے جنم لیا۔ اس کے بعد تشدد کی ایک لہر اُٹھی جس نے طویل عرصے تک مغربی بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں کو برسوں بری طرح متاثر کیے رکھا۔ اونچی ذات ہندوؤںکے ہاتھوں نچلی ذات اور پس ماندہ طبقات کے استحصال،شدید افلاس، سماجی انصاف اور معاشی مواقع سے محرومی کے باعث عوام میں پیدا ہونے والی شدید بے چینی اس بغاوت کے بنیادی اسباب تھے۔ اپریل 1971ء میں اگرتلہ جیل میں قید کے دوران مجھے اس تحریک کے حقیقی لیڈر چارو ماجمدار کے ایک قریبی عزیز سے اس بارے میں براہ راست بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا۔ نکسلائٹ تحریک کو جھاڑکھنڈ اور اوڑیسا کے قبائلی علاقوں میں بھی تیزی سے مقبولیت حاصل ہوئی، جس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ مقامی قبائلی آبادی بھی اپنی روایات کے خاتمے اور اونچی ذات کے ہندوؤں کے سفاکانہ سلوک سے پہلے ہی نالاں تھے۔نکسلیوں میں دلت، قبائلی اور مسلم بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ 
اس تحریک کی دوسری لہر سے پورا بھارت متاثر ہوا۔ 1980ء کی دہائی میں کسانوں اور بے زمین مزارعوں کے حق کی خاطر آندھرا پردیش میں پیپلز وار گروپ(پی ڈبلیو جی) کے قیام سے مسلح مزاحمت کا احیا ہوا۔ 1990ء کی دہائی کے اواخر تک آندھرا پردیش کی پولیس نے پی ڈبلیو جی کو بری طرح کچل دیا جس کے بعد یہ سمجھا جانے لگا کہ اس شورش کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن 2000ء کے بعد وسطی بھارت بالخصوص دندا کریانہ کے پہاڑی علاقوں اور اس سے منسلک مدھیہ پردیش، جھاڑکنڈ، چھتیس گڑھ، اوڈیسا اور مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں شورش کی ایک نئی لہری اُٹھی۔ 2009ء تک تیزی سے پھیلتی اس تحریک کی سرگرمیوں میں مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی بھارت کی تحریکوں سے زیادہ شدت آگئی۔ اپنے عروج پر نکسلائٹ تحریک نے بھارت کے 200اضلاع میں غلبہ حاصل کیا اور اپریل 2006ء میں اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو ماؤسٹ تحریک کے بارے میں کہنا پڑا کہ ’’یہ ملکی سلامتی کو درپیش سب سے بڑا خطرہ‘‘ بن چکی ہے۔ 
بھارت میں اگرچہ قانون کے نفاذ کا اختیار ریاستوں کے پاس ہوتا ہے تاہم اس تحریک کے بڑھتے ہوئے خطرات نے کانگریس کی زیر قیادت یونائیٹیڈ پروگریسیوو الائنس(یوپی اے) کی مرکزی حکومت کو ملکی سطح پر شورش کے خاتمے کی حکمت عملی تشکیل دینے پر مجبور کردیا اور بی جے پی کی موجودہ حکومت بھی مزید شدت کے ساتھ اسی پر عمل پیرا ہے۔ مغربی بنگال نے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے زرعی اراضی کی ملکیت سے متعلق قوانین میں غیر معمولی اصلاحات کیں۔ سی پی آئی مارکسسٹ نے مسلح مزاحمت ترک کردی اور انتخابی سیاست کا حصہ بن گئی جس کے بعد 1967ء میں اٹھنے والی بغاوت کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات معدوم ہوگئے۔ سی پی آئی کئی برسوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد اب مسلح جدوجہد کے بجائے عملی سیاست کا راستہ اختیار کرچکے ہیں۔ 
1990ء کی دہائی میں پی ڈبلیو جی نے (غیر منقسم) آندھرا پردیش کے 20اضلاع پر گرفت مضبوط کرلی اور 2003ء میں وزیر اعلیٰ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا۔ آندھرا پردیش کی حکومت نے پولیس کی عملی اور تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے فوری اصلاحات شروع کردیں۔ ریاست نے پوری شدت کے ساتھ (شورش کے انسداد کے لیے) ’’کوائن‘‘ آپریشن شروع کیے اور بڑے کریک ڈاؤن میں انٹیلی جنس کی مدد سے ریاست کے اہم ماؤسٹ رہنماؤں کو چن چن کر قتل کیا۔اس کے علاوہ مزاحمت کاروں سے ہمدردی رکھنے والی مقامی آبادی اور قبائلی کمیونٹی کی محرومیاں اور تحفظات دور کرنے کے لیے گورننس میں بہتری کے اقدامات کیے۔ 
چھتیس گڑھ کو آج ماؤسٹ مزاحمت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ نکسلائٹ اس ریاست کے 27میں سے 18اضلاع پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ضلع بستار کا 25ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ ماؤسٹوں کا گڑھ ہے اور اسے ریڈ کوریڈور بھی کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں ماؤسٹوں نے بھارتی تاریخ کے شدید ترین حملے کیے۔ ان میں 2010 ء میں چنتلنار کے علاقے میں 76سی آر پی ایف کے اہلکاروں کا قتل عام اور 2013 ء میں چھتیس گڑھ میں کانگریس کے سربراہ نندا کمار پٹیل اور دیگر اہم رہنماؤں کے قتل جیسی کارروائیاں شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی اس بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے انسداد شورش کے لیے وسیع حکمت عملی پر کام کیا اور شورش کو کچلنے کے لیے پولیس کے خصوصی یونٹس قائم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے دل جیتنے کی پالیسی بھی تشکیل دی۔ نکسلیوں کے زیر انتظام علاقہ اگرچہ تیزی سے کم ہوا تاہم اب بھی دندیوادا، بستار،گدچیرولی، بیجاپور، ملکنگری کے کچھ حصوں میں وہ قدم جمائے ہوئے ہیں۔ان کے پاس 6000کے قریب افرادی قوت ہے اور نئی قیادت عسکری حکمت عملی کا فہم اور روابط رکھتی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی اور ان کے محافظوں کے قتل سے ان کی استعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 
2000ء میں بہار سے الگ ہونے والا جھاڑ کنڈ،چھتیس گڑھ کے بعد سب سے زیادہ نکسل وادی تحریک سے متاثر ہوا۔معدنیات سے مالامال اس علاقے میں آدی واسیوں کی خاصی آبادی ہے اور متوازی حکومت کے قیام کے لیے یہ آج بھی ماؤسٹوں کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ 2010ء میں یہاں باغیوں کی کارروائیاں عروج پر پہنچ گئیں اور 20اضلاع میں معاشی انفرااسٹرکچر،پولیس اور جیل کی عمارتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔دسمبر 2014ء میں بی جے پی نے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نئے وزیر اعلیٰ رگھوبر داس نے شورش کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ 2017ء میں ماؤسٹوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف مقابلوں میں ان کے 25افراد ہلاک ہوئے۔ 2018ء میں 108باغیوں نے ہتھیار ڈالے لیکن بائیں بازو کی شدت پسندی کا جھاڑ کنڈ سے مکمل خاتمہ نہیں ہوا، اس وسیع و عریض ریاست میں آج بھی کئی مقامات پر مزاحمت برقرار ہے۔     (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں