11:02 am
مولانا،گاؤں اور ایران

مولانا،گاؤں اور ایران

11:02 am

جس وقت آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی میں ’’بھارت شکن‘‘ خطاب ہوچکا ہوگا۔ وزیراعظم کے اس خطاب کے بعد اگر تو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال ہوگئی، وہاں سے کرفیو کا خاتمہ ہوگیا،کشمیری عوام کو ریلیف مل گیا پھر تو ’’بھارت شکن‘‘ خطاب پر مبارکباد، وگرنہ بقول شاعر
 
یہ بھیک نہیں آزادی ہے
مانگے سے بھلا ملتی ہے کہیں
دل جوش میں لا فریاد نہ کر
تاثیر دکھا تقریر نہ کر
مولانا فضل الرحمن تو کہتے ہیں کہ ’’عمران گائوں کامسئلہ حل نہیں کرسکتے ایران کاکیا کریں گے‘‘۔ کیا واقعی عمران خان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں؟ اور اس کی درخواست انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے؟ عمران خان کے پہلے دورہ امریکہ کے بعد سے ’’ثالثی‘‘ کا لفظ تواتر کے ساتھ میڈیا کی زینت بنتا چلا آرہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے پر بھی ثالثی کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا ۔امریکی صدر کے اس ’’ثالثی کردار‘‘ کے اعلان کا بھارت میں الٹا اثر ہوا اور نریندر مودی نے بدکرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کرفیو لگا دیا ۔کشمیر کے لاکھوں بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورتیں بھوکے ، پیاسے گھروں کے اندر مقید ہیں ۔ ٹرمپ کے ’’ثالثی کردار‘‘ کے اعلان کے بعد مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کی سرزمین کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کیا جاچکا ہے، وہاں پانچ اگست کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد کو گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کیا جاچکا ہے، عورتوں پر تشدد کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور انسانوں پر قیامت خیز مظالم ڈھانے کے احکامات جاری کرنے والا بھارتی درندہ نریندر مودی کئی دنوں سے امریکہ کی سرزمین پر دندناتا ہوا پھر رہا ہے، ٹرمپ اور مودی مشترکہ محفلوں میں قہقہے بلند کررہے ہیں۔
اللہ خیر کرے اب عمران خان امریکہ، ایران ثالثی کا کردار ادا کرنے کے موڈ میں ہیں، یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے جہاز پر امریکہ پہنچے، مقصد کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانا ہے، لیکن چلے ہیں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے ، یعنی 
لٹی جو فصل بہاراں تو عجب منظر تھا
لپٹ کے رو دیئے تنکے بھی آشیانے سے
لیکن مولانا فضل الرحمن کو نجانے کیوں نظر آتا ہے کہ جو عمران خان گائوں کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے وہ ایران کا کیسے کریں گے؟ ایک دل جلے نے خوب کہا تھا کہ
جن سے آنچل بھی دوپٹے کا سنبھالا نہ گیا
ان سے کیا خاک میرے دل کی حفاظت ہوگی؟
میری مولانا سے گزارش ہے کہ وہ عمران خان پر اعتبار کرکے تو دیکھیں، عمران گائوں، گوٹھوں کو تو خاطر میں ہی نہیں لاتے بلکہ اب تو ملکوں کے مسائل حل کرتے ہیں ملکوں کے، جو وزیراعظم اپنی زبان سے اعتراف کرے کہ میرے ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے، دورہ ایران کے دوران خود تسلیم کرے کہ پاکستان سے ایران کے خلاف دہشت گردی ہوتی رہی، امریکہ جاکر انٹرویو دے کہ اسامہ بن لادن کا ہمیں معلوم تھا اور القاعدہ کو ٹریننگ بھی ہم نے دی، اس ’’وزیراعظم‘‘ کے پاس امریکہ، ایران، سعودی عرب سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے مسائل حل کرنے کی کیسی مخیر العقول صلاحیتیں ہوں گی؟
 وزیراعظم عمران خان کی ان صلاحیتوں سے جلنے والوں کے لئے چاچا امام دین گجراتی نے کہا تھا ، چلیں چھوڑیں پرے ہم چاچا امام دین کی بات نہیں لکھتے وگرنہ اس نے جو وزیراعظم عمران خان جیسوں کے لئے کہا تھا وہ بھی لکھنا پڑے گا اس لئے چوہدری شجاعت حسین سے ادھار لے کر اس معاملے پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔
جس طرح امریکہ اور یورپ کو اسلامو فوبیا کا مرض لاحق ہے بالکل اسی طرح حکومتی وزیروں اور سیکولر شدت پسندوں کو ’’مولانا‘ فوبیا کے جھٹکے لگ رہے ہیں، پاکستانی قوم یہ چاہتی ہے کہ ان کا وزیر اعظم بھلے امریکہ ، ایران کی ثالثی کروائے یا ایران، سعودیہ کی لیکن عوام سے کم از کم دو وقت کی روٹی تو نہ چھینے، ایک سال قبل جو مزدور13 ہزار روپے تنخواہ میں گزارہ کرلیا کرتے تھے اب 20 ہزار روپے بھی کمالیں مگر مہینہ بھر3 ٹائم کا کھانا بھی پورا کرنے سے عاجز ہوچکے ہیں۔
جس کشمیر کو قائداعظمؒ نے پاکستان کی شہ رگ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس کشمیر کو اپنی روح کا حصہ قرار دیا ہے، آخر اس کشمیر میں ظلم و ستم کے سائے گہرے کیوں ہوتے چلے جارہے ہیں؟ ہمارے حکمران کشمیر کے حوالے سے جتنے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، کشمیری قوم پر اسی قدر زیادہ مظالم ڈھائے جاتے ہیں تو کیوں؟ امریکہ نے عمران خان سے ثالثی کی اپیل کی ہے یا نہیں؟ یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام تو عمران خان سے اک تسلسل کے ساتھ مدد کی اپیلیں کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں