10:06 am
 لائق تحسین ترجمانی 

 لائق تحسین ترجمانی 

10:06 am

نیویارک میں عالمی سیاسی  میلہ جاری ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ترکی ،  ایران اور  پاکستان کی قیادت نے اپنے بیانات اور آزادانہ موقف سے عالمی حلقوں کو چونکایا ہے ۔ ایرانی رہنما نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر امریکہ کو ایک ایسا ڈاکو قرار دیا جو عالمی بنکنگ کے نظام کو استعمال کر کے عالمی وسائل لوٹ رہا ہے۔ ساتھ ہی معاشی پابندیوں کے ہتھیار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی امریکی روش کو بھی ایران کی جانب سے ہدف تنقید بنایا گیا ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی مغرب میں عرصے سے جاری اسلام مخالف بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف بات کر کے اسلامی دنیا کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ ترکی کی قیادت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بد ترین بھارتی مظالم کی مذمت میں کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا ۔
 
 ترکی نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر  پاکستانی موقف کی تائید کی ہے۔  پاکستان کے وزیر اعظم نے بھی مختلف مقامات  پر عالمی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موثر انداز میں کشمیری عوام اور مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی کی ہے ۔ نفرت انگیز گفتگو اور مذہبی تعصب کے پھیلائو کے خلاف مغربی دنیا کے موقف میں بے حد تضاد پایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے توہین رسالت جیسے اہم اور حساس ترین موضوع پر امت مسلمہ کے موقف کو نہایت خوبی سے بیان کیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں پچاس روز سے زائد عرصے پر محیط کرفیو اور مواصلاتی رابطوں کی بندش سے جنم لینے والے انسانی بحران پر بھارت کے خلاف اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز پاکستان کی ہے۔ 
بلاشبہ پاکستان اس مسئلے کا فریق ہونے کے ناطے کشمیریوں کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے کا پابند بھی ہے لیکن ماضی میں اس اہم معاملے پر مجرمانہ سست روی اور غفلت کا  مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے کہ سفارتی محاذ پر عالمی برادری کی ایسی حمایت حاصل نہیں ہو پارہی جیسا کہ مسئلہ کشمیر کا حق بنتا ہے۔ اپنے اپنے ملکی مفادات کی بنیاد پر کسی معاملے  کی حمایت یا مخالفت کی روش عام ہے۔ بیشتر ممالک ننگی جارحیت اور مظالم کو نظرانداز کر کے ظالم ملک کی مذمت کرنے سے بھی گریزاں رہتے ہیں ۔ اس عالمی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت جیسی غاصب اور مذہبی جنونی ریاستیں دھڑلے سے غیر انسانی مظالم کا ارتکاب کرتی رہتی ہیں ۔ 
بھارت کی کثیر آبادی کی صورت دستیاب بڑی منڈی پر اکثر ممالک کی رال ٹپکتی ہے۔ ہیوسٹن کے جلسے میں مودی کے ساتھ شرکت سے پہلے  امریکی صدر نے بھارت  کے ساتھ  ڈھائی ارب ڈالر مالیت کے لگ بھگ سرمایہ کاری کے معاہدات کئے ۔ سرمائے کی چکاچوند اور بھارتی منڈی سے مستقبل میں حاصل ہونے والے منافع کی چمک سے خیرہ ہونے والی آنکھیں مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم دیکھنے سے قاصر ہیں ۔ مسلم ممالک کی مجموعی شرمناک  بے حسی کے پیچھے بھی یہی مادہ پرستانہ سوچ کارفرما ہے۔ معاشی مفادات کے حصول کے لیے انسانی حقوق اور جمہوری روایات کی پامالی کوئی نئی بات نہیں ۔
 گذشتہ کالموں میں راقم یہ لکھتا رہا ہے کہ کشمیر سمیت دیگر قومی مسائل کے حل کے لیے ہمیں بحیثیت قوم اپنے زورِبازو اور وسائل پر انحصار کرنا ہوگا ۔ امریکہ جیسے ناقابل اعتبار ملک سے والہانہ وابستگی نے ہمیں ماضی میں بھی بڑے نقصانات سے دو چار کیا اور مستقبل میں بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہیوسٹن جلسے میں مودی کے ساتھ ٹرمپ کی ہم آہنگی کا فطری مظاہرہ سامنے آیا ۔ بھارتی منڈی سے منافع کشید کرنے کے علاوہ جنوبی ایشیا میں چین اور روس کے اشتراک کی صورت ابھرنے والا منظرنامہ امریکہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ پاکستان  بھی امریکی بچہ جمہورا بننے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں ہندو جنونیت کا علمبردار بھارت ہی امریکہ کا فطری حلیف بن سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کو  تھانیدار بنا کر خطے کو غیر مستحکم رکھنے کی  امریکی  حکمت عملی کو سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ 
بلاشبہ پاکستان کے لیے آنے والے دن مزید مشکلات لا سکتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پنجے میں جکڑے کشمیری عوام کی آزمائشیں جلد ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں ۔  ایک مستحکم  پاکستان  ہی  ان  پیچیدہ مسائل سے نبرد آزما ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومتوں کی نااہلی کی بدولت اندرونی اور بیرونی محاذوں پر ہر گذرتے دن کے ساتھ پاکستان کمزور ہوتا چلا گیا۔ گذشتہ ایک برس کے  عرصے میں گو کہ موجودہ حکومت اپنے بیشتر وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائی لیکن ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ اقوام متحدہ جیسے اہم عالمی پلیٹ فارم پر پاکستانی وزیر اعظم کے کہے ہوئے ہر لفظ نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ ہر پاکستانی کے لیے یہ امر امید افزا ہے کہ نیویارک کے عالمی سیاسی میلے میں مسئلہ کشمیر سمیت ہر اہم مسئلے پر پاکستانی قیادت کے موقف کو دنیا بھر میں نہایت توجہ سے سنا اور سمجھا جا رہا ہے۔  

تازہ ترین خبریں