10:09 am
ایمان ثلاثہ کی حقیقت

ایمان ثلاثہ کی حقیقت

10:09 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
لیکن قرآن کے اس چیلنج کو پورا نہ کر سکے اور انہیں بھی تسلیم کرنا پڑا کہ یہ انسان کا کلام ہو ہی نہیں سکتا چنانچہ قرآن بذات خود ان دو اعتبارات سے معجزہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کو بنانے والا کوئی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے چنانچہ سورہ التغابن کا آغاز اسی بات کو سمجھانے کے انداز میں ہورہاہے۔فرمایا: تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
 پہلی آیت میں اللہ تعالی کا تعارف تسبیح اور تحمید کی صورت میں بیان ہو رہا ہے۔ تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہر نقص، ہر عیب سے پاک ہے اور تحمید یہ ہے ہر خوبی، ہر بھلائی اور خیر کا منبع اور سرچشمہ وہی اللہ ہے۔ جو کچھ بھی دنیا میں خیر اور بھلائی ہے وہ اسی کی توفیق سے ہے۔ ظاہر ہے ہم اللہ کو دیکھ نہیں سکتے لیکن ہمارے اندر ایک شمع روشن ہے۔ عہد الست کی شکل میں اللہ نے اپنا تعارف کروایا ہوا ہے۔ اس کی پرچھائیاں ہر شخص کی فطرت پر ہیں ۔اس لیے دل گواہی دیتا ہے کہ اللہ موجود ہے۔اللہ کی ذات کو ہم نہیں جان سکتے لیکن وہ ہے۔ وہ ایک ایسی ذات ہے جو ہر کمی، ہر نقص اور ہر کوتاہی سے پاک ہے۔ ساتھ ہی تحمید ہے کہ ہر خوبی، ہر اچھائی کا منبع و سرچشمہ وہ ذات ہے۔ اللہ کو ہم اس حد تک ہی جان سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم جان نہیں سکتے۔ اس کی ذات کس نوعیت کی ہے اس کو کوئی نہیں جان سکتا۔ یہاں تک بھی کہا گیا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی ذات کے بارے میں کھود کرید میں لگے گا تو وہ شرک میں پڑ ے گا لہٰذا اتنا جاننا ہی کافی ہے کہ وہ ہستی ہے،اس کے مظاہر موجود ہیں،وہ ساری کائنات کو چلا رہا ہے،اسی نے ہمیں پیدا کیا اور دوبارہ بھی وہی ہمیں میدان حشر میں کھڑا کرے گا ۔ فرمایا ، وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن۔ یعنی وہی سب کو پیدا کرنے والاہے تو سب کو چاہیے کہ اس کو خالق مانیں اور اس پر ایمان لائیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو کائنات کی اس سب سے بڑی حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔فرمایا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
 اس کی تفصیلات احادیث میں آتی ہیں کہ انسان کا ہر ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے بلکہ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔ (ق: 18)
یہ اہتمام اس لیے ہے کہ بالآخر فیصلہ ہو گا کہ کامیاب کون ہے اور ناکام کون ہے۔اس وقت اپنے اعمال سامنے دیکھ کر ہر کوئی خود ہی جان لے گا کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ فرمایا اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کے ساتھ یہ ایک بامقصد تخلیق ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ ہندوؤں کے ہاں یہ تصور ہے کہ یہ دنیا رام کی لیلا ہے۔ ان کے مطابق دیوتاؤں نے اس زمین اور انسان کو محض تفریح کے لیے بنایا ہے۔ وہ اوپر آسمانوں میں بیٹھے ہوئے اور تماشا دیکھ رہے ہیں کہ نیچے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑ رہے ہیں،کہیں اقتدار کی ہوس ہے اورکہیں دولت کی پوجا ہے۔یہ سارا کچھ ان کے لیے تفریح گاہ ہے گویا اس زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ وہ کوئی عبث اور بے کار کام کرے۔فرمایا:اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو بہت ہی عمدہ صورت گری کی۔
 انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور کیا کیا اس میں صلاحیتیں رکھی ہیں۔اگر انسان اسی پر غور کرے تو وہ حقیقت تک پہنچ جائے گا لیکن جیسا کہ اقبال نے کہا 
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
 انسان اپنی ذات پر غور کرنے کی بجائے اور باتوں میں الجھا پڑا ہے اور بھول چکا ہے کہ جس نے اسے پیدا کیا ہے آخر اسی کی طرف (سب کو)لوٹنا ہے۔
 وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ انسان نے اللہ تعالی ہی کی دی ہوئی صلاحیتوں سے ٹیکنالوجی یہاں تک حاصل کر لی ہے کہ آج سیٹلائیٹ کے ذریعے زمین پر رینگتی ہوئی چیونٹی کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ انسان اگر یہاں تک جا سکتا ہے تو پھرجس ذات نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی عظمت کا ادراک کوئی کر سکتا ہے؟اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ اس سے بھی باخبر ہے جو تمہارے سینوں کے اندرہے۔
 سینے میں چھپے ہوئے عزائم، امنگیں، آرزوئیں جن کو انسان اپنے طور پر بڑی آسانی سے چھپا سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ان سب سے باخبر ہے ۔آگے فرمایاکیا تمہار ے پاس خبریں آ نہیں چکی ہیں ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا تھا پہلے توانہوں نے اپنے کیے کی سزا چکھ لی اور ان کے لیے دردناک عذاب بھی ہے۔
اس میں براہ راست اہل عرب سے خطاب ہے۔ ان سے اس لیے بھی یہ کہا گیا کیونکہ ان کے ٹریڈ روٹ پر قوم لوط، قوم ثمود اور قوم عاد کے کھنڈرات موجود تھے۔ انھیں پتا بھی تھا کہ یہاں رسول آئے تھے اور ان قوموں نے رسولوں کا انکار کیا تو وہ ہلاکت اور تباہی سے دوچار کر دی گئیں۔ اس لیے ان سے کہا جا رہا ہے کہ کیا تمہارے پاس رسولوں کی خبریں نہیں آئیں؟ اوران کا جن قوموں نے انکار کیا تواللہ نے ان کا کیا حشر کیا ، کیا تم اس سے واقف نہیں ہو؟ فرمایا : یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول آتے رہے واضح نشانیاں لے کرحالانکہ رسولوں کو نشانیاں بھی دی گئیں۔ قوم ثمود کے لیے ایک چٹان سے اونٹنی برآمد کی گئی۔ اسی طرح دوسری قوموں کے لیے بھی انبیا و رسل نشانیاں لے کر آتے رہے مگر انہوں نے کہا کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟ پس انہوں نے کفر کیا اور رخ پھیر لیا۔
انبیاء و رسل کی باتیں دل کو تو لگتی تھیں،معلوم تھا کہ وہ جو باتیں بتا رہے ہیں بالکل سچی ہیں مگر اس کے باوجود ماننے سے انکار کے لیے ان قوموں کا یہ بہانہ ہوتا تھا کہ اللہ نے ہمارے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا؟ یعنی محض گھمنڈ اور تکبر میں آکر انہوں نے حق کا انکار کیا تو نتیجہ میں اللہ نے بھی ان سے رخ پھیر لیا ۔ فرمایا اور اللہ نے بھی (ان سے) بے نیازی اختیار کی اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز ستودہ صفات۔
انسان چاہے جتنا بھی طاقت اور اختیار والا کیوں نہ ہو جائے مگر پھر بھی وہ کسی نہ کسی کا محتاج ضرور رہتا ہے لیکن اللہ کی ذات ایسی ہے جو کسی کی محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں لہٰذا جو لوگ اللہ سے رخ پھیر لیں تو پھر اللہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ زبردستی ان کو ہدایت دے دے۔ آگے فرمایا:کافروں کو یہ زعم ہے کہ وہ(مرنے کے بعد)ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔
جان بوجھ کر حق سے انکار کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان اس زعم میں ہوتا ہے کہ یہی زندگی ہے بس،اس کے بعد خاک میں مل کر خاک ہو جائیں تو پھر ہمیں کون اٹھائے گا۔اپنے اسی زعم میں کفار رسولوں سے یہ مطالبہ بھی کرتے تھے کہ اگر اللہ دوبارہ زندہ کرتا ہے تو پھر ہمارے گزرے ہوئے بزرگوں کو دوبارہ زندہ کر کے سامنے لائے پھر ہم مان جائیں گے کہ اللہ دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔فرمایا (اے نبیﷺ !) آپ کہہ دیجیے: کیوں نہیں!مجھے میرے رب کی قسم ہے تم لازماً اٹھائے جائو گے پھر تمہیں لازماً جتلایا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں۔یہاں پر اللہ نے کوئی منطقی دلیل نہیں دی بلکہ حقیقت بیان کی ہے لیکن اس میں اصل دلیل یہ ہے کہ یہاں قسم وہ ہستی اٹھا رہی ہے جس کو پوری قوم نے الصادق والامین کا خطاب دے رکھا تھا ۔وہی یہ بتا رہے ہیں کہ مرنے کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا اور تمہارے تمام اعمال تمہارے سامنے لائے جائیں گے  اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔جس اللہ نے انسان کو ایک بار پیدا کیا ہے تو اس کے لیے دوسری بار اٹھانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ایمانیات کا حامل بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 

تازہ ترین خبریں