05:45 am
پاک  چین دوستی ہم نے کیا سبق سیکھا ؟

پاک  چین دوستی ہم نے کیا سبق سیکھا ؟

05:45 am

پاکستان چین کے درمیان سفارتی تعلقات مئی 1951ء میں قائم ہوئے تھے اس وقت لیاقت علی خان کی حکومت تھی
پاکستان چین کے درمیان سفارتی تعلقات مئی 1951ء میں قائم ہوئے تھے اس وقت لیاقت علی خان کی حکومت تھی جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے نیز پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا تھا اب اس سفارتی تعلقات کو 68سال گزر گئے ہیں( اس وقت پورے پاکستان میں پاک چین دوستی کی سالگرہ منائی جا رہی ہے ) اس طویل عرصے میں پاکستان اور چین کے درمیان معاشی ، دفاعی اور سفارتی تعلقات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ چین وہ واحد ملک ہے جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اس کی مثال گوادر پورٹ اور پاکستان اور چین کے درمیان عظیم معاشی منصوبے سی پیک سے دی جا سکتی ہے اس منصوبے کے لئے چین نے 56بلین ڈالر مختص کئے ہیں اس وقت سی پیک تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے جس میں سڑکوں کی تعمیر، اکنامک زون کے منصوبے اور گوادر پورٹ کی مزید توسیع شامل ہے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی گوادر پورٹ چین کا سازو سامان لے کر خصوصیت کے ساتھ ساتھ تیل کی ترسیل بھی جلد شروع ہو جائے گی۔ گوادر اور کاشغر کے درمیان زمینی راستے کے سفر دس گیارہ روز سے زیادہ نہیں ہے جس سے گوادر پورٹ کے فعال ہونے سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں بے پناہ اضافہ ہو گا ۔ اس سے قبل چین کے لئے تیل کی ترسیل شنگھائی  پورٹ سے ہوتی ہے جس میں سفر کا دورانیہ تین سے لے کر چار ماہ تک ہو جاتا ہے جو موجودہ حالات میں اقتصادی دبائو کا سبب بن سکتا ہے لیکن گوادر پورٹ سے یہی فاصلہ سکڑ کر دس بارہ روز کا ہو جائے گا جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے ۔ 
 گزشتہ 68 سالوں کے دوران چین نے پاکستان کے دفاعی نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ہے اس وقت پاکستان وہ واحد ملک ہے جو چین میں سب سے زیادہ جدید اسلحہ خریدتا ہے اس کے علاوہ چین نے پاکستان کے ایٹمی توانائی کے بعض منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اس وقت کراچی کے قریب ( ہاکس بے ) چین کی مدد سے دو ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کئے جا رہے ہیں جن کی تکمیل کے بعد پاکستان کو وافر مقدار میں بجلی میسر ہو سکے گی یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی پیک محض ایک صنعتی یا ذرائع نقل و حمل کو بہتر کرنے کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ اس میں زرعی شعبے کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ چین جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے بلوچستان میں خصوصیت کے ساتھ مرکزی سڑکوں کے قریب بڑے بڑے زرعی فارمز بنانا چاہتا ہے جن میں دیگر زرعی اجناس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ صوبہ سندھ میں بھی چین کی مدد سے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں دراصل پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ہمالیہ سے زیادہ بلند اور سمندر سے زیادہ گہرے ہیں اور ان تعلقات کو مستحکم کرنے میں پاکستان کی ہر حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور پاک چین دوستی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مید آگے بڑھ رہی ہے بھارت اور امریکہ کو پاک چین دوستی ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔
 جب ہم پاکستان اور چین کی بے مثال معاشی ترقی پر نگاہ ڈالتے ہیں اور ا سے متاثر ہوئے بغیر نہیں ر ہ سکتے تو ہمیں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ جو ملک 1949ء میں آزاد ہوا تھا اس طرح اتنی جلدی ترقی کر گیا ہے ؟ جس کا صرف ایک ہی راز ہے اور وہ یہ ہے کہ چین کی قیادت اپنے عوام کے ساتھ نہ صرف مخلص ہے بلکہ ہر لمحے ان کی معاشی اور سماجی حالات کو بدلنے اور بہتر بنانے میں کوشاں رہتی ہے اس وقت چین اپنے عوام کی شب و روز محنت کی وجہ سے اور اعلیٰ قیادت کی ایمانداری کی وجہ سے دنیا کی دوسری بڑی اکانومی بن چکا ہے جبکہ بعض معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ چین 2025ء میں دنیا کی سب سے بڑی اکانومی ہوگی ۔ 1949ء مین مائوزے تنگ کی قیادت میں برپا ہونے والے کمیونسٹ انقلاب نے چینی عوام کی قسمت بدل دی چینی سیاست دان اکثر ترقی پذیر ممالک کی سیاست قیادت کو یہ مشورہ دیتے رہتے ہیں ( جس میں پاکستان بھی شامل ہے ) کہ اگر دنیا میں اقتصادی ترقی کرنی ہے تو سیاسی قیادت کو عوام کے ساتھ مخلص ہونا پڑے گا اور ہر قسم کی کرپشن کو بھی ختم کرنا ہوگاکیونکہ کرپشن کو ختم کئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ ماضی میں پاکستان کی سیاسی قیادت خصوصیت نواز شریف اور زرداری نے کرپشن کے ذریعے جہاں اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے وہیں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے ۔ پاکستان کا موجودہ اقتصادی بحران ماضی کی حکومتوں کی لوٹ کھسوٹ سے ہوا ہے عمران خان کی حکومت ماضی میں ہونے والی کرپشن کی سزا بھگت رہی ہے ۔ عمران خان خود کرپٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان پر کرپشن کا کسی قسم کا کوئی الزام ہے ۔
بہرحال چین کی ترقی میں دیگر عوامل کے علاوہ ان کی سیاسی قیادت کے عوام دوست روئیے نے اہم کر دار ادا کیا ہے۔ چین کی سیاست قیادت کرپٹ نہیں ہے اور نہ ہی تھی چین میں کرپٹ عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھائے جاتے ہیں کرپٹ عناصر کے خلاف سمری ٹرائل کے ذریعے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں فوری سزائے موت دی جاتی ہے جس سے چین کا معاشرہ عبرت پکڑتا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کی کرپٹ سیاسی قیادت جیلوں میں فائیو اسٹار ہوٹل کے مزے لوٹتی رہتی ہے  چنانچہ پاکستان کی عوام اگر معاشی ترقی اور خوشحالی چاہتی ہے تو انہیں ایماندارسیاسی قیادت کو سامنے لانا ہوگا جیسا کہ چین میں ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایماندار سیاسی قیادت کا فقدان ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری عوام ایماندار سیاست دان کو ووٹ نہیں دیتے۔ پاکستانی سیاست دانوں کی اکثریت نہ تو اپنی عوام کے ساتھ مخلص ہے اور وہ اقتدار میں آنے کے بعد عوام کی معاشی خوشحالی کے لئے کوئی کام انجام دینا نہیں چاہتی ان کی ساری سیاسی سوچ ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہے یہاں تک کہ ان کے دلوں میں خدا کا خوف بھی موجودنہیں ہوتا ہے اگر ان کے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا تو یہ کرپشن کا ارتکاب نہیں کرتے ۔ عوام نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ قومی وسائل کو جس طرح چند سیاست دانوں نے لوٹا ہے اور ملک کو کنگال کیا ہے اس کی مثال تیسری دنیا کے ملکوں میں کم ہی ملتی ہے ۔ اس لئے جب ہم چین کی اقتصادی ترقی پر حیرت زدہ ہوتے ہیں تو ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ چین کی سیاسی وسماجی قیادت نے ہر قسم کی کرپشن کو خیر باد کر کے اپنے ملک کو غیر معمولی ترقی سے ہمکنار کیا ہے۔ چین کی موجودہ قیادت صدر ژی چینگ پنگ کی سربراہی میں نئے اقتصادی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جس میں ’’روڈ اینڈ بیلٹ‘‘کا عظیم عالمی منصوبہ بھی شامل ہے، سی پیک بھی اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے ۔چین کی بیوروکریسی بھی چین کی سیاست قیادت کی طرح عوام کے ساتھ مخلص ہے ، کرپٹ نہیں ہے جیسا کہ پاکستان کی بیوروکریسی کا حال ہے اگر پاکستان کی بیوروکرسی سیاسی قیادت کو گمراہ کر کے کرپشن کی طرف مائل نہیں کرتی تو آج پاکستان بھی تیزی سے ترقی کے منازل طے کر لیتا۔
 

تازہ ترین خبریں