05:46 am
نیت کی اہمیت 

نیت کی اہمیت 

05:46 am

پھولا پھلا باغ منٹوں میں تاراج: حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام  کے آسمان پر اٹھا لئے
پھولا پھلا باغ منٹوں میں تاراج: حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام  کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے تھوڑے دنوں بعد کا واقعہ ہے کہ یمن میں ’’صنعا‘‘ شہر سے دوکوس کی دوری پر ایک باغ تھا جس کا نام ’’ضروان‘‘ تھا، اس باغ کا مالک بہت ہی نیک نفس اور سخی آدمی تھا، اُس کا دستور یہ تھا کہ پھلوں کو توڑنے کے وقت وہ فقیروں اور مسکینوں کو بلاتا تھا اور اعلان کردیتا تھا کہ جو پھل ہوا سے گرپڑیں یاجوہماری جھولی سے الگ جاکرگریں وہ سب تم لوگ لے لیا کرو۔ اس طرح اس باغ کابہت ساپھل فقراء ومساکین کو مل جایا کرتا تھا۔ باغ کا مالک فوت ہو گیا تو اُس کے تینوں بیٹے اس باغ کے مالک ہوئے مگر یہ تینوں بہت بخیل تھے۔ ان لوگوں نے آپس میں طے کرلیا کہ اگر فقیروں اور مسکینوں کو ہم لوگ بلائیں گے تو بہت سے پھل یہ لوگ لے جائیں گے اور ہم لوگوں کے اہل وعیال کی روزی میں تنگی ہوجائے گی‘ چنانچہ ان تینوں بھائیوں نے قسم کھا کر یہ طے کر لیا کہ سورج نکلنے سے قبل ہی چل کر ہم لوگ باغ کا پھل توڑ لیں تاکہ فقراء و مساکین کو خبر ہی نہ ہو۔ ان لوگوں کی بدنیتی کی نحوست نے یہ اثر بد دکھایا کہ ناگہاں رات ہی میں اللہ تعالیٰ نے باغ میں ایک آگ بھیج دی، جس نے پورے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کرڈالا اور ان لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی۔ یہ لوگ اپنے منصوبہ کے مطابق رات کے آخری حصے میں نہایت خاموشی کے ساتھ پھل توڑنے کیلئے روانہ ہو گئے اور راستہ میں چپکے چپکے باتیں کرتے تھے تاکہ فقیروں اور مسکینوں کو خبر نہ مل جائے لیکن یہ لوگ جب باغ کے پاس پہنچے تو وہاں جلے ہوئے درختوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے‘ چنانچہ ایک بول پڑا کہ ہم لوگ راستہ بھول کر کسی اور جگہ چلے آئے ہیں مگر ان میں سے جو بہ نسبت دوسرے بھائیوں کے کچھ نیک نفس تھا، اُس نے کہا کہ ہم راستہ نہیں بھولے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھلوں سے محروم کردیا ہے لہٰذا تم لوگ اللہ کا ذکر کرو۔ انہوں نے یہ پڑھنا شروع کردیا کہ ’’سبحان اللّٰہ ربنا اناکنا ظالمین‘‘ یعنی ہمارے رب کیلئے پاکی ہے ہم لوگ یقیناظالم ہیں (کہ ہم نے فقراء و مساکین کا حق مار لیا) پھر وہ تینوں بھائی ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور آخر میں یہ کہنے لگے کہ عَسٰی رَبُّنَآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَآ اِنَّآ اِلیٰ رٰغِبُوْن۔ ’’اُمید ہے کہ ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں۔‘‘(پ29،القلم:32) 
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی توبہ قبول فرماکر انہیں اسکے بدلے ایک دوسرا باغ عطا فرما دیا جس میں بہت زیادہ اور بڑے بڑے پھل آنے لگے۔ اس باغ کا نام ’’حَیَوان‘‘ تھا اور اس میں ایک انگور اتنا بڑا ہوتا کہ اُس کا ایک خوشہ ایک خچر کا بوجھ ہوجایا کرتا تھا۔ حضرت ابوخالد یمانی کا بیان ہے کہ میں اُس باغ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ اُس باغ میں انگوروں کے خوشے حبشی آدمی کے قد کے برابر تھے۔ (تفسیر صاوی،ج ۶،ص ۶۱۲۲،پ۹۲،القلم:۲۳)
اس واقعہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ سخاوت اور نیک نیتی کا اثر مال میں خیر و برکت اور فراوانی کاسبب ہے جبکہ بخیلی و بدنیتی کانتیجہ مال کی ہلاکت و بربادی کا باعث ہوتاہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سچی توبہ کرلینے سے اللہ تعالیٰ زائل شدہ نعمت سے بڑی اور بڑھ کر نعمت عطا فرما دیتا ہے لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہر جائز ونیک کام میں اپنا مال خرچ کرنے سے پہلے رضائے الٰہی کیساتھ اچھی اچھی نیتیں بھی کرلیا کریں اورغریبوں کی دل کھول کرمدد بھی کیا کریں۔ اسکے علاوہ دیگر نیک کاموں مثلاً نماز کیلئے وضو کرنے ، مسجد کی طرف جانے ،مسلمانوں کو سلام و مصافحہ کرنے، نماز کے بعد ہونے والے درس وبیان میں شرکت کرنے، کھانا کھانے، سونے اور سوکر بیدارہونے، تیل لگانے، آنکھوں میں سرمہ لگانے خوشبو لگانے جیسے نیک وجائز کاموں میں اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کی نیت کے ساتھ ساتھ دیگر اچھی اچھی نیتیں بھی کرلی جائیں تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ عزوجل اپنی رحمت سے ان شاء اللہ عزوجل نیت کا ثواب ضرور عطافرمائے گا۔
یاد رکھئے ! عمل کی قبولیت کیلئے ثوابِ آخرت کی نیت نیّت ناگزیر ہے، چنانچِہ پارہ 15سورہ بنی اسرائیل کی اُنیسویں آیت کریمہ میں اللہ تبا رَک وتعالیٰ ارشاد فرماتاہے:وَمَنْ اَرَاَدا لْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَہَا وَھُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا  ’’اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی‘‘۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں