05:46 am
عمران خان کی تقریر

عمران خان کی تقریر

05:46 am

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی ہے اس پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ آئیے ان آراء کو ایک ا
عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی ہے اس پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ آئیے ان آراء کو ایک ایک کرکے دیکھتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تقریباً سب ہی متفق ہیں کہ تقریر اچھی تھی بے لاگ تھی اور اسے بڑے جذبے کے ساتھ ادا کیا گیا۔ہاں چند ایک باتیں رہ گئیں اور چند ایک باتوں کو ذرا غلط پیرائے میں بیان کیا گیا مگر مجموعی طور پر تقریر پراثر اور برمحل تھی۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تقریر سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ عالمی ضمیر اتنی گہری نیند سویا ہوا ہے کہ اسے اچھی  تقریروں سے نہیں بیدار کیا جاسکتا۔ اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سے بہت اچھی اچھی تقاریر کی جاچکی ہیں۔ مثلاً ذوالفقار علی بھٹو ‘ بے نظیر اور نواز شریف نے بھی مدال اور پراثر خطابات کئے ہیں جن کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ایسے لوگوں سے میرا ایک سوال ہے کہ کیا اس بات کا یہ مطلب ہے کہ کسی سربراہ مملکت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا ہی نہیں چاہیے۔ یہ تو بہت منفی سوچ اور راہ فرار والی بات ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی اس تقریر کے فوری نتائج نہ نکلیں مگر اس کا اثر ضرور ہوگا۔ کبھی نہ کبھی اس تقریر کا حوالہ ضرور کام آئے گا۔ اگر کوئی یہ توقع کر رہا ہے کہ تقریر کے فوراً بعد سارے یورپی امریکی اور اسلامی ممالک پاکستان کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں گے تو یہ نامناسب ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ذاتی نمائش کا بہت شوق ہے۔ انہیں اقوام متحدہ جیسے فورم پر اپنی کرکٹ کا تذکرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب عمران خان جو کچھ ہے وہ ہے۔ ان کی شخصیت بدلی نہیں جاسکتی۔ وہ جو سمجھتے ہیں اسے ان کے ذہن سے نکالنا بہت مشکل ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ کے ذکر سے ان کے خطاب کی تاثیر پر کوئی منفی اثر پڑا؟ اگر نہیں تو پھر یہ اعتراض بے معنی ہے۔ محض اعتراض برائے اعتراض ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے سب سے ضروری بات یعنی آرٹیکل370کو ہٹانے کی مخالفت تو کی ہی نہیں۔ یہ بات درست ہے اور  اسکی وجہ غالباً یہ ہے کہ عمران خان نے بغیر نوٹس کے خطاب کیا۔ اب یہ بھی ان کی شخصیت کی خامی ہے کہ وہ ایسی بے معنی باتوں کو قابل فخر سمجھتے ہیں یعنی ان کے لئے نوٹس سامنے رکھ کر تقریر کرنا باعث تحقیر ہے۔ نوٹس نہ رکھنے کا ایک  بہت بڑا نقصان یہی ہے کہ اکثر کچھ اہم نکات عین وقت پر ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ بہرکیف عمران خان نے اقوام متحدہ کی گیارہ قراردادوں کا حوالہ دیا ہے وہ کچھ حد تک  اس کمی کی تلافی کرتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان واقعی اقوام متحدہ کی توجہ کشمیر کی طرف دلانا چاہتے تھے تو انہیں صرف کشمیر پر بات کرنی چاہیے تھی۔ منی لانڈرنگ ماحولاتی تبدیلی کا ذکر شامل کرکے انہوں نے کشمیر کی اہمیت کو تحلیل کر دیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کشمیر کے کاز کو واقعی کوئی نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ ایک عالمی فورم ہے وہاں عالمی مسائل پر بات کرنا مناسب ہے۔
اس بات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ اسلامی فوبیا کا ذکر کرکے انہوں نے تنگ نظری کا ثبوت دیا ہے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ مودی کبھی ہندوتا کا ذکر نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے اسلامی فوبیا کا ذکر کرکے مسلمان ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ اس سے ان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوگا۔ اس بات پر تنقید کرنا بے معنی ہے ۔ مودی ہندوتا کا ذکر اس لئے نہیں کرتا کہ ہندو ازم پر فی الحال کوئی عتاب نازل نہیں ہوا۔ ہندومت عالمی مذہب بھی نہیں ہے۔ اسلام کی بات بہت مختلف ہے۔ صرف یہ دیکھئے کہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں ہندو حکومتیں یا اکثریت ہے اور کتنے ممالک میں مسلمان حکومتیں اور اکثریت ہے۔ بات واضح ہو جائے گی۔ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ عمران خان نے ہماری فوج کو کرائے کے قاتل اور دہشت گردوں کے ٹرینر کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح انہوں نے محض مقامی سیاست کی وجہ سے پاکستان کی تمام پچھلی حکومتوں کے کرپٹ اور منی لانڈر ہونے کا تاثر دیا۔ یہ دونوں اعتراضات درست نہیں ہیں۔ عمران خان نے جس محل و و قوع میں یہ باتیں کی ہیں اس میں دو جائز تھیں۔ آپ باقی دنیا کو اپنی طرح جذباتی نہ سمجھیں۔
عمران خان کی تقریر پر غالباً سب سے بڑا اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر انہوں نے پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اب استعماری دنیا دو طریقے تلاش کرنے شروع کر دے گی جس سے ہمیں جوہری ہتھیار سے محروم کیا جاسکے۔ اس بات میں کافی وزن ہے۔ اگرچہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جن ممالک کی آنکھوں میں ہماری ایٹمی قوت کھٹکتی ہے وہ پہلے ہی ان کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو پاکستانی قوم نے عموماً اور پی ٹی آئی نے خصوصاً بہت ناراض کیا ہوا ہے مگر اس کی رحمت اور معافی کی عادت سے امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ ہم پر اپنا کرم رکھے گا اور ہمارے اثاثوں کی حفاظت فرمائے گا۔
اب آجائیں ان تعریفوں کے پل کی طرف جو اس تقریر کے لئے باندھے گئے ہیں۔ یہ تقریر آج تک پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں کی جانے والی بہترین تقریر ہرگز نہیں تھی۔ اس تقریر کو اتنا ہی کریڈٹ دیں جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ ایک اچھی تقریر تھی مگر عالمی تعلقات کے تناظر میں بہترین تقریر ہرگز نہیں تھی۔یہ کہنا کہ عمران خان نے مودی اور بھارت کی پالیسیوں کو ننگا کر دیا ہے محض جذباتیت ہے۔ ساری دنیا ہی بھارت کے اقدامات سے خفا ہے مگر جیسا کہ عمران خان نے خود تسلیم کیا ہے وہ اپنے اقتصادی مفادات کی خاطر بھارت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کا مناسب حل تو یہ ہے کہ ہم خود ایک اقتصادی قوت بنیں مگر یہ کام عمران  کے بس کا روگ نہیں ہے۔ ہم نے ایک اچھی خاصی چلتی ہوئی معیشت کو اپاہج کرکے رکھ  دیا ہے۔ ساری دنیا میں کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کر دیا ہے۔ روپے کی قیمت گرا کر مہنگائی بڑھا کر‘ شرح سود میں اضافہ کرکے‘ ٹیکسز بڑھا کر سرمایہ کاری کی فضا کو آلودہ کر دیا ہے ہم کس طرح اقتصادی طاقت بن سکتے ہیں۔ یہ کام محض تقریروں سے تو نہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس تقریر نے عمران خان کو عالم اسلام کا لیڈر بنا دیا ہے اور وہ ایک عظیم شخصیت بن کر ابھرے ہیں۔ یہ محض ان کی خوش فہمی ہے عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے ملک کو عظیم بنا دے۔ عمران خان کا ریکارڈ اس معاملے میں تقریباً صفر ہے وہ مقرر تو بن گئے ہیں مگر لیڈر نہیں بن سکے۔ ان کی اب تک کی حکومت حماقتوں کی قطار ہے وہ ابھی  تک ملک میں انتشار اور بے چینی پھیلانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکے۔ کوئی قابل ذکر منصوبہ نہ بنا سکے نہ شروع کر سکے بلکہ پہلے سے چلنے والوں منصوبوں کو بھی بند کروا بیٹھے ہیں۔عمران خان کی تقریر اچھی تھی۔ بس! اس تقریر سے ان کے سیاسی مستقبل پر کوئی اثرنہیں پڑنے والا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں