05:49 am
ہم زندہ قوم ہیں؟

ہم زندہ قوم ہیں؟

05:49 am

دانشوروں کا کہنا ہے کہ معیا ر اور معاملات اعمال ،صبر کے متقا ضی ہیں!حکمرانوں کو اللہ سخت آزمائش میں ڈالتا ہے
دانشوروں کا کہنا ہے کہ معیا ر اور معاملات اعمال ،صبر کے متقا ضی ہیں!حکمرانوں کو اللہ سخت آزمائش میں ڈالتا ہے۔ حکمران اگر نیک و عادل، دیانت دار و غم گسار، نرم خو و ملنسار، خدا خوف و خوش گفتار، بااخلاق و صاحب کردار ہو تو رعایا رحمت ربانی کے سائے میں ہوتی ہے۔ ایسے حکمران کے متعلق آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سات قسم کے خوش قسمت انسان، روزِ حشر، جب کوئی سایہ سوائے عرش الٰہی کے سائے کے دستیاب ہی نہ ہوگا، اس سایہ عرش میں جگہ پائیں گے۔ ان میں پہلے نمبر پر عادل حکمران ہوگا۔ عدل و انصاف کا معیار خلافت راشدہ نے قائم کیا کیوں کہ انسانوں میں سے سب سے زیادہ عادل حکمران خود نبی رحمتﷺ تھے۔ آپ کی مکمل پیروی ان عظیم ہستیوں کا طرہ امتیاز تھا۔تاریخ کے ہر دور میں کہیں نہ کہیں خیر کا کوئی نخلستان شر کے وسیع و عریض ریگزاروں کے درمیان نظر آ جاتا ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ قدیم ایران (فارس)کا ایک حکمران نوشیرواں بڑا منصف مزاج تھا۔ وہ اپنے عدل کے لیے بطور ضرب المثل پیش کیا جاتا ہے۔ اسے مورخ لکھتے ہی نوشیروانِ عادل ہیں۔ فارسی ادب کی حکایات عبرت و موعظت میں ایک واقعہ ملتا ہے جو بڑا سبق آموز ہے۔ ہوا یوں کہ نوشیرواں اپنے درباریوں اور حواریوں کے ساتھ جنگل میں شکار کو نکلا۔ سوئے اتفاق کہ بادشاہ کے تمام ساتھی اس سے بچھڑ گئے اور وہ تنہا رہ گیا۔ آخر اپنے گھوڑے پہ سوار وہ کسی منزل کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا۔ اسے ریگستان میں دور درختوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا صحرائی درخت تلے بیٹھا ہے۔ علیک سلیک ہوئی تو بوڑھے نے اجنبی کو خوش آمدید کہا اور اس کی تواضع میں لگ گیا۔ مسافر سخت پیاسا تھا۔ بوڑھے نے انار کے ایک درخت سے ایک تر و تازہ انار اتارا، اسے نچوڑا، مشروب تازہ کا ایک پیالہ بھر گیا۔مہمان نے بصد تشکر مشروب پیا، لطف آگیا۔ اس نے سوچا کہ یہ کسان و باغبان تو بڑے صاحبِ ثروت لوگ ہوں گے، ایک دانہ انار سے اتنا رس نکل آیا۔ ان پر تو ٹیکس عائد کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس نے خواہش ظاہر کی کہ شدید پیاس کی وجہ سے اسے ایک اور جامِ مشروب درکار ہے۔ یہ دہقانی و دیہاتی لوگ بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں۔ بوڑھا کسان خوش دلی سے باغ کی طرف بڑھا، اس مرتبہ اس نے ایک نہیں دو نہیں، تین چار انار نچوڑے مگر پیالہ پوری طرح نہ بھر سکا۔ مہمان نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا، پہلے انار میں اتنا بھرپور رس اور اس مرتبہ چار دانوں سے اتنا قلیل رس؟ کسان نے فورا کہا معلوم ہوتا ہے ہمارے حکمران کی نیت میں کوئی فتور آگیا ہے۔ یہ سن کر نوشیرواں نے اپنے ارادے سے رجوع کیا اور اللہ سے معافی مانگی۔
حکمرانوں کی نیک نیتی سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں رعایا پر رحمتوں کی بارش نازل ہوتی ہے۔ برے حکمرانوں کو اللہ روزِ حشر سب سے زیادہ دردناک اور عبرت انگیز عذاب دے گا۔ دنیا میں حکومت دے کر انھیں آزمایا گیا تھا کہ وہ کیسے حکمران ثابت ہوتے ہیں۔ ظالم و سفاک اور بدعنوان و بددیانت شخص اللہ کو سخت ناپسند ہوتا ہے اور اگر حکمران ان بیماریوں میں مبتلا ہوں تو اللہ کا غضب ان کے لیے کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اسی طرح رعایا کا بھی معاملہ ہے۔ رعایا اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہو جائے تو اسے قسم قسم کے عذابوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ رہے برے حکمران تو وہ بھی رعایا کی بدعملیوں کے نتیجے میں ان پر بطور عذاب مسلط کیے جاتے ہیں۔ سوچئے! ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اگر حکمران بدنیت و بدعمل ہیں تو ہم عوام کو اپنا جائزہ لینا چاہیے، یہ ہمارے ہی اعمال کا منطقی نتیجہ ہیں۔ اعمالکم عمالکم یعنی تمہارے اعمال کے مطابق ہی تم پر حکمران مسلط کیے جاتے ہیں۔وطن عزیز میں زمینیں سونا اگل رہی ہیں، باغات پھلوں سے لدے ہوئے ہیں، ملک کے طول و عرض میں ہر جانب بہار ہی بہار نظر آتی ہے مگر کہیں برکت ہے نہ سکون، ہر جانب محتاجی و غربت، بدامنی و لاقانونیت، اندھیرے اور مایوسیاں! بھولے بھالے اہل وطن! آنکھیں کھولو، ہوش میں آئو، بہت اندھیرا ہے، دیپ جلاو! غفلت کی مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس سب کچھ کا حقیقی سبب حکمرانوں کی بدنیتی و بد عملی ہے۔ اگر اس طبقے کو تبدیل نہ کیا گیا تو پھر خدا نخواستہ ہمارا حال یہ ہوگا کہ تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
کہتے ہیں ۔ایک بڑھیا تھی ۔جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔جسے وہ ہر دوسری ماں کی طرح اپنے بیٹے سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی۔ اتفاق سے بچہ بیمار ہوا اور کچھ عرصہ کی علالت کے بعد ماں کو داغ ہجرت دے کر ابدی نیند سو گیا۔اس دلخراش حادثہ نے ماں کو ہلا کر رکھ دیا۔اس کی دنیا لٹ گئی۔وہ حواس باختہ ہو کر اپنے مرحوم بیٹے کو حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہو گئی۔در بدر جاتی۔ہر کسی کے پاس مدد کی درخواست کرتی کہ کسی طرح اس کا کھویا ہوا بیٹاا سے واپس مل جائے۔کسی نے اسے بتایا کہ فلاں مقام پر ایک بزرگ اور خدارسیدہ بزرگ رہتے ہیں۔ممکن ہے وہ تمہاری مدد کرسکیں۔بڑھیا اس بزرگ کے دردولت پر پہنچی۔ آہ و فغاں کے ساتھ درد بھری بِپتا سنائی اور داد رسی کی عاجزانہ درخواست کی۔بزرگ نے بڑی ہمدردی کے ساتھ اس دل شکستہ بڑھیا کی داستان سنی،اس سے اظہار ہمدردی کیا اور دلجوئی کی خاطر اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور بڑھیا سے کہا ۔اگرتم کسی ایسے گھر سے چند گھونٹ پانی کے لئے  آئو جن کے گھر میں کوئی فوت نہ ہوا ہو ،پھرمیں اس پانی کے ذریعہ سے تمہارے بیٹے کو زندہ کرسکتا ہوں ۔اس پر وہ بڑھیا خوشی خوشی ایک قریبی گھر میں گئی اور پوچھا کیا آپ کے گھر میں کوئی فوت ہوا ہے۔انہوں نے بڑے دکھ سے اپنے کئی پیاروں کی جدائی کا قصہ سنا ڈالا۔اس کے بعد بڑھیا اگلے گھر پہنچی اس نے اپنا سوال دوہرایا اسے وہاں سے بھی وہی جواب ملا اس طرح بڑھیا بہت سے گھروں میں پہنچی ہر جگہ سے اسے سوائے مایوسی اور ناامید ی کے کچھ نہ ملا۔اس پر اسے احساس ہوا اور سمجھ آگئی کہ موت وحیات کا سلسلہ اٹل ہے اس سے کسی کو مفر نہیں ہے۔اس کاواحد علاج صبر ہے۔
ہر انسان اپنی زندگی کے سفر میں بسا اوقات بہت سے مشکل اور تکلیف دہ لمحات میں سے گزرتا ہے۔وہاں پر اپنی بے بسی اور لاچاری دیکھ کر سوائے آنسو بہانے اور بالآخر صبر کے کچھ نہیں کرسکتا ۔ انسان بے بس ہوجاتا ہے۔یہی وہ گھڑی ہوتی ہے جب انسان کی نگاہ آسمان کی طرف بے اختیار اٹھتی ہے۔ اور اپنے پروردگار کے آگے التجا بن جاتی ہے کہ اے خدائے بزرگ و برتر ہمیں ہر موت پر صبر کی توفیق عطا فرما، امرِواقعہ یہ ہے کہ کوئی پیارا مر جائے تو صبر مل جاتا ہے مگر اگر حکمرانوں کا انصاف دم توڑ جائے اور معاشرے میں سے احساس کا جذبہ لحد میں اُتر جائے تو پھر نہ نوشیرواںزندہ رہتا ہے نہ اہل فارس کو بقا ملتی ہے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان بھی انہی مسائل سے نبردآزما ہے۔ ایک طرف گزشتہ70 برسوں میں پاکستان میں آنے والے حکمرانوں کے انصاف کو قضا بار بار آتی رہی اور دوسری طرف موت کا فرشتہ عامۃ الناس کے جذبات احساس کو لحد میں اُتارتا رہاہے۔ آج بھی وہی محشر سامانی ہے۔ وہی حشر بپا ہے۔ اُسی موت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کہیں انصاف جاں بہ لب ہے۔کہاں دیانت کینسر کے مرض کی آغوش میں ہے کہیں شرافت کو بخار چڑھا ہوا ہے، کہیں کرپشن رقص کناں ہے۔کہیں زندگی موت کے پنجوں میں ہے۔ کہیں احساس سسکیاں لے رہا ہے اور کہیں شجاعت تڑپ تڑپ کر جان دے رہی ہے اور اس سب کچھ ہونے کے باوجود ہم زندہ قوم ہیں۔ ہمارا بھٹو بھی زندہ ہے اور زرداری بھی۔ نوازشریف بھی بقید حیات ہے اور جنرل ضیاء الحق بھی مقام شہادت پر فائز ہے۔ یہاں تک کہ ہم کشمیر کے شہداء کے لئے صرف ہفتہ وار علامتی احتجاج کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں