07:37 am
نیت کی اہمیت

نیت کی اہمیت

07:37 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

اِس آیت کریمہ کے تحت صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں: عمل کی قبولیت کیلئے تین چیزیں درکار ہیں:(۱) طالب آخرت ہونا یعنی نیت نیک (اچھی نیت ہو)۔ (۲) سعی (کوشش) یعنی عمل کو بااہتمام اسکے حقوق کے ساتھ ادا کرنا(۳) ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ( خزائن العرفان ص۵۵۴)
آئیے نیت کی اہمیت دل میں اُجاگر کرنے کیلئے  7 فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  ملاحظہ فرمائیں۔
 (1)اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کیلئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ (بخاری ج ۱ ص ۶ حدیث ۱) اِس حدیث پاک کے بارے میں شارِحِ بخاری حضرت مفتی شریف الحق اَمجدی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: اِس حدیث کا یہ مطلب ہوا کہ اعمال کا ثواب نیت ہی پر ہے، بغیر نیت کسی ثواب کا استحقاق (حقدار) نہیں۔ (نزھۃ القاری ج ۱ ص ۲۷۱)(2) مسلمان کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔ (اَلمعجم الکبیرج۶ ص۱۸۵حدیث ۵۹۴۲ )(3)سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (اَلجامع الصغیرص۸۱حدیث۱۲۸۴)(4) اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کرے گی۔ (اَلفردَوس بماثور الخطاب ج۴ص۳۰۵ حدیث۶۸۹۵)(5) اللہ عزوجل آخرت کی نیت پر دُنیا عطا فرما دیتا ہے لیکن دنیا کی نیت پر آخرت عطا فرمانے سے انکار کر دیتا ہے۔ (اَلزھد لابن مبارک ص۱۹۳ حدیث۵۴۹)
(6)سچی نیت عرش سے معلق ہے پس جب کوئی بندہ سچی نیت کرتا ہے تو عرش ہلنے لگ جاتا ہے، پھر اُس بندے کو بخش دیا جاتا ہے۔(تاریخ بغدادج ۱۲ص ۴۴۴ حدیث۹۲۶ ۶)(7)جس نے نیکی کا اِرادہ کیا پھر اُسے نہ کیا تو اُس کیلئے ایک نیکی لکھی جائے گی۔(صحیح مسلم ص ۷۹حدیث ۱۳۰) بیان کردہ احادیث مبارکہ سے نیت کی اہمیت وفضیلت معلوم ہوئی لہٰذا ہمیں بھی حصول ثواب کی خاطر ہرجائز ونیک کام سے قبل اچھی اچھی نیتیں کرلینی چاہئیں تاکہ ہمارے نامہ اعمال میں اس کے برکت سے ثواب کا ذخیرہ اکٹھا ہوتا رہے۔
مباح کام اچھی نیت سے عبادت ہو جاتا ہے۔بہت سارے کام مباح ہیں، مباح اُس جائز عمل یا فعل (یعنی کام) کو کہتے  ہیں جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہو یعنی ایسا کام کرنے سے نہ ثواب ملے نہ گناہ مثلاً کھانا پینا، سونا، ٹہلنا، دولت اکٹھی کرنا، تحفہ دینا، عمدہ یا زائد لباس پہننا وغیرہ کام مباح ہیں۔ اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو مباح کام کو عبادت بنا کر اُس پر ثواب کمایا جا سکتا ہے، اِس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے  حضرت، امامِ اہلسنّت،  مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ہرمباح (یعنی ایسا جائز عمل جس کا کرنا نہ کرنا یکساں ہو) نیت حسن (یعنی اچھی نیت) سے مستحب ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ مخرجہ ج ۸ ص۵۲ ۴)  فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: مباحات(یعنی ایسے جائز کام جن پر نہ ثوا ب ہو نہ گناہ ان) کاحکم الگ الگ نیتوں کے اعتبار سے مختلف ہوجاتاہے، اسلئے جب اس سے (یعنی کسی مباح سے) طاعات (یعنی عبادات) پر قوت حاصل کرنا یاطاعات (یعنی عبادات) تک پہنچنا مقصود ہو تو یہ (مباحات یعنی جائز چیزیں بھی) عبادات ہوں گی مثلاً کھانا پینا، سونا، حصولِ مال اور وَطی کرنا۔ (اَیضاً ج۷، ص۱۸۹، رَدالمحتار ج۴ ص۷۵ )
مباح کام میں اچھی نیتیں نہ کرنے والے نقصان میں ہیں: اگر کوئی مباح کام بری نیت سے کیا جائے تو برا ہو جائے گا اور اچھی نیت سے کیا جائے تو اچھا اور کچھ بھی نیت نہ ہو تو مْباح رہے گا اور قیامت کے حساب کی دشواری درپیش ہو گی لہٰذا عقلمند وہی ہے کہ ہر مباح کام میں کم از کم ایک آدھ اچھی نیت کرہی لیا کرے، ہو سکے تو زیادہ نیتیں کرے کہ جتنی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی اُتنا ہی ثواب زیادہ ملے گا۔ نیت کا یہ بھی فائدہ ہے کہ نیت کرنے کے بعد اگروہ کام کسی وجہ سے نہ کر سکا تب بھی نیت کا ثواب مل جا ئیگا جیسا کہ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جس نے نیکی کا ارادہ کیا پھر اُسے نہ کیاتو اس کیلئے ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (صحیح مسلم، ص۷۹حدیث۰ ۱۳)
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں